افسانچہ
پرچھائیاں
علیم طاہرؔ
ہفتہ، 23 مئی 2026
👁 62
❤️ 0
شام ڈھل رہی تھی۔
باپ اور بیٹا ساتھ چل رہے تھے۔
بیٹا بولا:
"ابو! میری پرچھائیں آپ سے بڑی کیوں لگ رہی ہے؟"
باپ مسکرایا:
"سورج ڈوبنے لگے
تو سائے لمبے ہوجاتے ہیں۔"
بیٹا کچھ نہ سمجھا…
مگر باپ بہت کچھ سمجھ گیا تھا۔
علیم طاہرؔ کی مزید تحریریں
ڈاکٹر بشیر بدر: محبت، درد اور تہذیبِ غزل کا روشن باب | شخصیت، شاعری اور ادبی خدمات
## ڈاکٹر بشیر بدر: محبت، درد اور تہذیبِ غزل کا روشن باب
### ایک ایسا شاعر جس کے...
چراغِ آخر
بوڑھا شاعر اپنی آخری نظم لکھ رہا تھا۔
بیٹے نے پوچھا:
"اب اس عمر میں کیوں ...
بند کتاب
بوڑھا استاد روز اپنی پرانی کتابیں صاف کرتا تھا۔
بیٹے نے کہا:
"اب اِنہیں ک...
آئس کریم
چھوٹا بچہ آئس کریم والے کو حسرت سے دیکھ رہا تھا۔
ایک اجنبی نے اُسے آئس کریم خری...
مزید متعلقہ نثر
روشنی
محلے میں سب سے بڑا گھر اُس کا تھا۔
ہر کمرے میں جگمگاتی روشنیاں تھیں۔
مگر سامنے...
موبائل
گھر میں سب ایک ہی کمرے میں بیٹھے تھے۔
مگر ہر شخص اپنے موبائل میں گم تھا۔
دادی ...
بھروسہ
بچہ سڑک پار کرنے سے ڈر رہا تھا۔
باپ نے کہا:
"میرا ہاتھ پکڑ لو۔"
بچے...
بھکاری
وہ فقیر مسجد کے باہر خاموش بیٹھا تھا۔
ایک آدمی نے حقارت سے کہا:
"کام کیوں...



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!