افسانچہ
پرچھائیاں
علیم طاہرؔ
ہفتہ، 23 مئی 2026
👁 67
❤️ 0
شام ڈھل رہی تھی۔
باپ اور بیٹا ساتھ چل رہے تھے۔
بیٹا بولا:
"ابو! میری پرچھائیں آپ سے بڑی کیوں لگ رہی ہے؟"
باپ مسکرایا:
"سورج ڈوبنے لگے
تو سائے لمبے ہوجاتے ہیں۔"
بیٹا کچھ نہ سمجھا…
مگر باپ بہت کچھ سمجھ گیا تھا۔
علیم طاہرؔ کی مزید تحریریں
ڈاکٹر بشیر بدر: محبت، درد اور تہذیبِ غزل کا روشن باب | شخصیت، شاعری اور ادبی خدمات
ڈاکٹر بشیر بدر: محبت، درد اور تہذیبِ غزل کا روشن باب ایک ایسا شاعر جس کے اشعار ل...
چراغِ آخر
بوڑھا شاعر اپنی آخری نظم لکھ رہا تھا۔ بیٹے نے پوچھا: "اب اس عمر میں کیوں لک...
بند کتاب
بوڑھا استاد روز اپنی پرانی کتابیں صاف کرتا تھا۔ بیٹے نے کہا: "اب اِنہیں کون...
آئس کریم
چھوٹا بچہ آئس کریم والے کو حسرت سے دیکھ رہا تھا۔ ایک اجنبی نے اُسے آئس کریم خرید...
مزید متعلقہ نثر
پنسل
استاد نے بچے کی ٹوٹی پنسل دیکھی اور نئی دے دی۔ بچہ بولا: "سر! یہ ابھی چل رہ...
چابی والا کھلونا
بچہ ضد کرکے چابی والا کھلونا لے آیا۔ دو دن بعد وہ کونے میں پڑا تھا۔ دادا مسکرائے...
دروازہ
باپ بڑھاپے میں آہستہ آہستہ چلتا تھا۔ بیٹے کو اُس کے ساتھ بازار جانا شرمندگی لگتا...
روٹی
ہوٹل کے باہر ایک بچہ خاموشی سے کھڑا لوگوں کو کھانا کھاتے دیکھ رہا تھا۔ ایک صاحب ...



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!