کربلا – ساتواں دن مکمل | کچھ راستے انسان کے اندر باقی رہتے ہیں | سلسلہ نمبر 7
کربلا — ساتواں دن 7 محرم 1448ھکبھی وقت بولتا نہیں، بس اپنے معنی گہرے کر دیتا ہے
صبح پھر طلوع ہوئی۔
آسمان پر روشنی پھر ویسے ہی پھیلی۔
زمین پھر ویسی ہی خاموش رہی۔
ہوا پھر اسی طرح چلتی رہی۔
مگر ہر دن اپنے ساتھ صرف وقت نہیں لاتا—
کچھ دن احساس بھی لے کر آتے ہیں۔
چھ دن گزر چکے تھے۔
اور ساتواں دن جیسے اپنے اندر ایک الگ سکوت لیے آیا تھا۔
یہ سکوت ویسا نہیں تھا
جو ابتدا میں ہوتا ہے۔
یہ وہ خاموشی بھی نہیں تھی
جو مسلسل سفر کے بعد پیدا ہوتی ہے۔
یہ کچھ اور تھا۔
جیسے وقت خود آہستہ چلنے لگا ہو۔
قافلہ آگے بڑھ رہا تھا۔
قدم ویسے ہی تھے۔
ترتیب ویسی ہی تھی۔
لیکن انسان کبھی ایک سا نہیں رہتا۔
بعض دنوں کے بعد آدمی راستہ نہیں ناپتا—
وہ اپنے دل کا وزن محسوس کرنے لگتا ہے۔
یہ دن شاید ویسا ہی تھا۔
اب سفر ایک عادت نہیں رہا تھا۔
یہ شعور بننے لگا تھا۔
اور شعور انسان کو تھکاتا نہیں—
اُسے گہرا کر دیتا ہے۔
دن کے شروع میں ہی کبھی کبھی انسان محسوس کر لیتا ہے
کہ آج کا دن مختلف ہے۔
وجہ معلوم نہیں ہوتی۔
مگر کیفیت بدل جاتی ہے۔
یہ بھی شاید ایسا ہی دن تھا۔
ابھی راستہ باقی تھا۔
ابھی کئی پردے باقی تھے۔
لیکن وقت کی خاموشی
پہلے سے زیادہ سنائی دینے لگی تھی۔
قافلہ چلتا رہا۔
سورج بلند ہوتا رہا۔
ریت قدموں کے نیچے پھیلتی رہی۔
اور انسان—
وہ اپنے اندر کسی اور طرح سے سفر کرنے لگا۔
کچھ سفر باہر سے کم،
اندر سے زیادہ طے ہوتے ہیں۔
شاید یہ دن اسی سفر کا دن تھا۔
ابھی کچھ بدلا نہیں تھا۔
مگر بعض اوقات
بدلاؤ واقعات میں نہیں آتا—
احساس میں آتا ہے۔
اور احساس بدل جائے
تو پھر دنیا بھی پہلے جیسی محسوس نہیں ہوتی۔
ساتویں دن کی صبح گزرنے لگی۔
اور وقت—
وہ خاموشی سے اپنا اگلا باب قریب لا رہا تھا۔جب راستہ وہی رہے مگر دل اُس کو نئے معنی دینے لگے
دن آگے بڑھ رہا تھا۔
سورج اپنی پوری روشنی کے ساتھ آسمان پر موجود تھا۔
زمین گرم تھی۔
اور قافلہ—
وہ اب بھی اپنی ترتیب کے ساتھ آگے چل رہا تھا۔
ظاہر میں کچھ بدلا نہیں تھا۔
لیکن بعض دنوں میں تبدیلی آنکھ سے نہیں دیکھی جاتی—
وہ دل محسوس کرتا ہے۔
سات دن۔
یہ اتنا وقت تھا
کہ سفر انسان کے جسم سے نکل کر
اُس کی فکر میں اتر جائے۔
اب راستہ صرف سامنے نہیں تھا۔
وہ اندر بھی موجود تھا۔
پہلے دن انسان قدم گنتا ہے۔
پھر وہ فاصلے دیکھتا ہے۔
پھر ایک وقت آتا ہے
جہاں وہ یہ سب چھوڑ دیتا ہے—
اور صرف مقصد یاد رکھتا ہے۔
شاید ساتویں دن کی کیفیت یہی تھی۔
قافلے میں خاموشی تھی۔
لیکن وہ خالی خاموشی نہیں تھی۔
وہ اپنے اندر صبر رکھتی تھی۔
یقین رکھتی تھی۔
اور وہ سکون—
جو صرف اُن لوگوں کے حصے میں آتا ہے
جو راستہ آسان ہونے کی شرط پر نہیں چلتے۔
دن کی روشنی میں بعض سچ زیادہ واضح ہو جاتے ہیں۔
اور بعض سچ صرف خاموشی میں سمجھ آتے ہیں۔
یہ دن شاید دوسرا سچ سکھا رہا تھا۔
کبھی انسان یہ نہیں جانتا
کہ آگے کیا ہے۔
لیکن وہ یہ جانتا ہے
کہ وہ کیوں چل رہا ہے۔
اور یہی علم
بہت سی بے یقینیوں سے بڑا ہوتا ہے۔
سورج آسمان پر قائم تھا۔
ہوا چل رہی تھی۔
قافلہ آگے بڑھ رہا تھا۔
مگر وقت—
وہ پہلے جیسا محسوس نہیں ہو رہا تھا۔
جیسے ہر لمحہ
اپنے اندر کوئی گہرا مطلب رکھتا ہو۔
جیسے ہر قدم
صرف زمین پر نہیں—
تاریخ کے صفحے پر بھی رکھا جا رہا ہو۔
شاید بڑے سفر ایسے ہی ہوتے ہیں۔
وہ انسان سے جلدی نہیں مانگتے—
ثابت قدمی مانگتے ہیں۔
دن بڑھتا رہا۔
افق ویسا ہی رہا۔
لیکن دل—
وہ پہلے جیسا نہیں رہا۔
اور یہی شاید
سفر کی پہلی بڑی تبدیلی ہوتی ہے۔بعض لمحے آتے نہیں، انسان اُن کے قریب پہنچتا ہے
دن اپنی بلندی کی طرف بڑھ چکا تھا۔
سورج پورے آسمان پر پھیلا ہوا تھا۔
زمین گرم تھی۔
اور قافلہ—
وہ اپنی خاموش رفتار سے آگے بڑھ رہا تھا۔
سات دن۔
اتنا وقت کافی ہوتا ہے
کہ انسان سفر کو صرف راستہ سمجھنا چھوڑ دے۔
اب وہ جاننے لگتا ہے—
ہر قدم صرف فاصلہ کم نہیں کرتا۔
کچھ قدم انسان کے اندر بھی اُترتے ہیں۔
ساتویں دن میں شاید یہی کیفیت تھی۔
اب بے صبری نہیں تھی۔
نہ جلدی۔
نہ واپسی کا سوال۔
بس ایک گہرا سکون۔
ایسا سکون
جو اُس وقت پیدا ہوتا ہے
جب انسان اپنی نیت کے ساتھ مطمئن ہو جائے۔
قافلہ آگے بڑھتا رہا۔
مگر بعض اوقات
چلتے ہوئے بھی انسان رکا ہوا محسوس کرتا ہے۔
اس لیے نہیں کہ راستہ ختم ہو گیا—
بلکہ اس لیے کہ دل کچھ اور سننے لگتا ہے۔
شاید یہی لمحہ تھا۔
وقت خاموش تھا۔
لیکن اُس کی خاموشی خالی نہیں تھی۔
جیسے ہر گزرتا لمحہ
اپنے اندر کوئی آنے والی بات چھپائے ہوئے ہو۔
انسان کی عجیب فطرت ہے۔
کبھی وہ چیزوں کو دیکھ کر نہیں—
محسوس کر کے سمجھتا ہے۔
اور بعض احساس
الفاظ میں بیان نہیں ہوتے۔
صرف ساتھ چلتے ہیں۔
یہ دن بھی شاید ایسا ہی تھا۔
ابھی سامنے کچھ نہیں آیا تھا۔
لیکن اندر ایک تیاری پیدا ہونے لگی تھی۔
جیسے روح خود کو کسی بڑے مفہوم کے لیے تیار کر رہی ہو۔
سورج آہستہ آہستہ جھکنے لگا۔
ہوا بدلنے لگی۔
ریت کے ذروں کا رنگ نرم ہونے لگا۔
اور انسان نے محسوس کیا—
کچھ سفر ایسے ہوتے ہیں
جہاں انسان منزل تک نہیں پہنچتا،
منزل اُس کے اندر اترنے لگتی ہے۔
قافلہ خاموش تھا۔
مگر خاموشی کے اندر کمزوری نہیں تھی۔
وہ وقار تھا۔
وہ ٹھہراؤ تھا۔
وہ یقین تھا—
جو شور سے پیدا نہیں ہوتا۔
اور ساتویں دن نے جیسے آہستہ سے کہا:
بعض دن گزر نہیں جاتے—
وہ آنے والے دنوں کی بنیاد بن جاتے ہیں۔جب شام اترتی ہے تو انسان اپنے دل کی آواز زیادہ سنتا ہے
دن اب اپنی ڈھلان کی طرف بڑھنے لگا تھا۔
سورج کی روشنی اب بھی موجود تھی۔
مگر اُس میں ایک نرمی اترنے لگی تھی۔
ریت پر پھیلی ہوئی گرمی آہستہ آہستہ کم ہونے لگی۔
اور قافلہ—
وہ اپنی خاموش رفتار سے آگے بڑھتا رہا۔
سات دن۔
کبھی سات دن بہت کم ہوتے ہیں۔
اور کبھی اتنے کافی ہوتے ہیں
کہ انسان پہلے جیسا نہ رہے۔
یہ دن بھی شاید ایسا ہی تھا۔
اب راستہ اجنبی نہیں رہا تھا۔
خاموشی بوجھ نہیں رہی تھی۔
اور انتظار—
وہ اضطراب نہیں رہا تھا۔
وہ ایک کیفیت بن گیا تھا۔
ایسی کیفیت
جس میں انسان جلدی نہیں کرتا۔
صرف اپنے مقصد کو سنبھالتا ہے۔
شام ہمیشہ انسان کو اپنے قریب لے آتی ہے۔
دن میں آدمی دنیا کو زیادہ دیکھتا ہے۔
شام میں آدمی خود کو۔
اور بعض فیصلے
شور میں نہیں—
اسی خاموشی میں مضبوط ہوتے ہیں۔
قافلہ آگے بڑھتا رہا۔
قدم ویسے ہی تھے۔
ترتیب ویسی ہی تھی۔
لیکن دل—
وہ پہلے جیسا نہیں رہا۔
اب انسان راستے کو ختم کرنے کے لیے نہیں چلتا تھا۔
وہ اُس کے ساتھ جینا سیکھنے لگا تھا۔
کبھی کبھی بڑے سفر یہی سکھاتے ہیں۔
کہ انسان ہر سوال کا جواب نہیں رکھتا۔
مگر وہ اپنے مقصد کے ساتھ قائم رہ سکتا ہے۔
اور یہی کافی ہوتا ہے۔
سورج نیچے اترنے لگا۔
سایے لمبے ہونے لگے۔
ہوا کے اندر شام کی خاموشی شامل ہونے لگی۔
اور انسان نے محسوس کیا—
وقت صرف گزر نہیں رہا۔
وہ انسان کے اندر کچھ لکھ بھی رہا ہے۔
یہ دن بھی شاید ویسا ہی تھا۔
ابھی کچھ ظاہر نہیں ہوا تھا۔
مگر ایک اندرونی آمادگی پیدا ہونے لگی تھی۔
جیسے دل خود کو کسی آنے والے مفہوم کے لیے وسیع کر رہا ہو۔
قافلہ خاموش تھا۔
لیکن اُس خاموشی میں کمزوری نہیں تھی۔
وہ وقار تھا۔
وہ تحمل تھا۔
وہ استقامت تھی۔
شام مکمل اترنے لگی۔
آسمان اپنے رنگ بدلنے لگا۔
اور ساتویں دن نے آہستہ سے کہا:
بعض راستے ختم نہیں ہوتے—
وہ انسان کے اندر ہمیشہ کے لیے رہ جاتے ہیں۔کچھ راستے ختم نہیں ہوتے، وہ انسان کے اندر باقی رہتے ہیں
رات اتر چکی تھی۔
دن اپنی تمام روشنی، خاموشی اور تھکن کے ساتھ پیچھے رہ گیا تھا۔
آسمان پر ستارے پھر نمودار ہو گئے۔
زمین نے دن بھر کے قدموں کو اپنے اندر محفوظ کر لیا۔
اور قافلہ—
وہ ایک اور دن کے پار آ گیا۔
سات دن۔
یہ صرف وقت نہیں تھا۔
یہ ایک تدریجی تبدیلی تھی۔
پہلے دن سفر باہر تھا۔
اب سفر اندر بھی شروع ہو چکا تھا۔
اب راستہ صرف سامنے نہیں تھا—
دل کے اندر بھی ایک راستہ بننے لگا تھا۔
ساتویں دن کے اختتام تک
انسان شاید یہ سمجھنے لگتا ہے
کہ بعض فیصلے منزل تک پہنچنے کے لیے نہیں کیے جاتے—
بعض فیصلے خود انسان کو بدلنے کے لیے ہوتے ہیں۔
یہ دن بھی شاید ویسا ہی تھا۔
نہ شور۔
نہ ہنگامہ۔
نہ کوئی بڑا منظر۔
لیکن خاموشی کے اندر
ایک ایسی آمادگی پیدا ہونے لگی تھی
جو آنے والے دنوں کا بوجھ اٹھا سکے۔
کبھی انسان کسی واقعے سے پہلے نہیں بدلتا۔
وہ اُس کے قریب پہنچتے پہنچتے بدل جاتا ہے۔
اور جب وقت سامنے آتا ہے—
تو وہ پہلے جیسا نہیں رہتا۔
رات کی خاموشی میں
کچھ سوال خود بخود ختم ہو جاتے ہیں۔
اور کچھ جواب
بغیر لفظوں کے سمجھ آ جاتے ہیں۔
شاید یہی سفر کی اصل پختگی ہوتی ہے۔
قافلہ خاموش تھا۔
مگر اُس خاموشی میں کمزوری نہیں تھی۔
وہ ایک ایسا سکون تھا
جو صرف اُن لوگوں کو ملتا ہے
جو اپنے راستے کا مقصد بھولتے نہیں۔
ابھی سفر باقی تھا۔
ابھی دن باقی تھے۔
ابھی وقت نے اپنا پورا چہرہ ظاہر نہیں کیا تھا۔
لیکن ساتویں دن نے اتنا ضرور سکھا دیا تھا:
کہ بعض راستے انسان کو منزل تک نہیں لے جاتے—
وہ اُسے اُس کے اصل قد تک لے جاتے ہیں۔
رات اور گہری ہو گئی۔
آسمان خاموش رہا۔
اور آنے والا دن—
اب صرف ایک اور دن نہیں ہونے والا تھا۔
وہ وقت کے معنی بدلنے کے قریب تھا۔
ساتویں دن کی یہ تحریر اُس مرحلے کو بیان کرتی ہے جہاں سفر محض فاصلہ طے کرنے کا عمل نہیں رہتا بلکہ انسان کے باطن میں ایک نئی گہرائی پیدا کرنے لگتا ہے۔ خاموشی اب بوجھ نہیں رہتی، بلکہ استقامت میں ڈھلنے لگ…
✍️ منتظم عاصیؔ — مختصر تعارف
اپنی بات
محترم قارئین السَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَۃُ اللّـٰهِ وَ بَرْکَاتَہٗ
الحمداللہ.................... بفضلِ خدا وند کریم بفیض محسنِ انسانیت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور جملہ اہلِ بیت اطہار کے توسل اولیائے کاملین کے احسان سے مرشدِ پاک کی نظرِ کمال سے والدین کی دعاؤں شفقت تربیت کا اثر ہے کہ آج میں اپنی تیسری شعری ادبی کتاب طشت ازبام آپ لوگوں تک پہنچانے میں کامیاب رہا
شعر و …



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!