اشتہار
اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
غزل

اس جگہ پر جنوں مہمان ہوا کرتے ہیں

عبدالدیان اسدؔ جمعہ، 15 مئی 2026
👁 41 ❤️ 5
اس جگہ پر جنوں مہمان ہوا کرتے ہیں
جس جگہ شاہ بھی دربان ہوا کرتے ہیں
زخم کو نوچ کے خوں اپنا بہاتے رہنا
"راستے عشق کے انجان ہوا کرتے ہیں"
جن کو لکھنا بھی نہیں آتا الف با تا ثا
وہ یہاں صاحبِ دیوان ہوا کرتے ہیں
میں کہ اعزاز سمجھتا ہوں تری یادوں کے
چند لمحے مرے مہمان ہوا کرتے ہیں
کیا ضرورت ہے حقیقت سے شناسائی کی
لوگ خوابوں کے قدردان ہوا کرتے ہیں
دار پر چڑھ کے جو دنیا کو بچا لیتے ہیں
سلطنت کے وہی سلطان ہوا کرتے ہیں
مسکراتے ہیں ستم سہہ کے اسد اہلِ جنوں
کیوں ستم گر ہی پریشان ہوا کرتے ہیں
📖 خلاصہ

یہ فکری، علامتی اور حقیقت و جنون کے امتزاج سے بھرپور غزل عبدالدیان اسد کی شعری بصیرت اور سماجی فلسفے کو نمایاں کرتی ہے۔ شاعر نے یہاں جنون، عشق، اقتدار اور حقیقت کے باہمی تضاد کو نہایت گہرے استعاروں کے ذریعے بیان کیا ہے۔ “جنوں مہمان”، “شاہ بھی دربان”، اور “دار پر چڑھ کے بھی دنیا بچانے والے” جیسے مصرعے طاقت، قربانی اور سچائی کی مختلف صورتوں کو علامتی انداز میں پیش کرتے ہیں۔ غزل میں یہ خیال واضح ہے کہ حقیقی عظمت صرف علم یا منصب میں نہیں بلکہ عشق، سچائی اور قربانی میں ہے۔ شاعر خواب اور حقیقت کے درمی

← پچھلا اگلا →
عبدالدیان اسدؔ کی مزید
اس جگہ پر جنوں مہمان ہوا کرتے ہیں جس جگہ شاہ بھی دربان ہوا کرتے ہیں زخم کو نوچ کے خوں اپنا بہاتے رہن...
کہیں پہ صدیوں پرانی آتش غضب سے اپنے بجھا رہا ہے چراغ ٹوٹا ہوا کہیں پر ہوا کی زد میں جلا رہا ہے تمام ...
”معراج بی“ کی یاد سے کتنی نمی ہے آج بیٹوں کی آنکھ نم ہے تو بیٹی دکھی ہے آج احباب رشتے دار ہیں ہمسائے...
یاس و حسرت سے ادھر آنکھ تکی جائے گی جس طرف جانِ غزل تیری گلی جائے گی دے کے آواز زمانے کو جو خاموش ہو...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن