غزل
عبدالدیان اسدؔ
جمعہ، 15 مئی 2026
👁 16
❤️ 5
اس جگہ پر جنوں مہمان ہوا کرتے ہیں
جس جگہ شاہ بھی دربان ہوا کرتے ہیں
زخم کو نوچ کے خوں اپنا بہاتے رہنا
"راستے عشق کے انجان ہوا کرتے ہیں"
جن کو لکھنا بھی نہیں آتا الف با تا ثا
وہ یہاں صاحبِ دیوان ہوا کرتے ہیں
میں کہ اعزاز سمجھتا ہوں تری یادوں کے
چند لمحے مرے مہمان ہوا کرتے ہیں
کیا ضرورت ہے حقیقت سے شناسائی کی
لوگ خوابوں کے قدردان ہوا کرتے ہیں
دار پر چڑھ کے جو دنیا کو بچا لیتے ہیں
سلطنت کے وہی سلطان ہوا کرتے ہیں
مسکراتے ہیں ستم سہہ کے اسد اہلِ جنوں
کیوں ستم گر ہی پریشان ہوا کرتے ہیں
📖 خلاصہ
یہ فکری، علامتی اور حقیقت و جنون کے امتزاج سے بھرپور غزل عبدالدیان اسد کی شعری بصیرت اور سماجی فلسفے کو نمایاں کرتی ہے۔ شاعر نے یہاں جنون، عشق، اقتدار اور حقیقت کے باہمی تضاد کو نہایت گہرے استعاروں کے…
#محبت
#عشق
#ہجر
#وصال
#ستم
#نغمہ
#گیت
#غزل
#عبدالدیان اسد
#Abdul Dayan Asad
#عبدالدیان اسد
#Urdu Ghazal
#Philosophical Urdu Poetry
#Symbolic Urdu Shayari
#Deep Urdu Poetry
#Urdu Adab
#Love and Madness Poetry
#Truth and Power Poetry
#Social Urdu Ghazal
#Modern Urdu Poetry
#Heart Touching Urdu Shayari
عبدالدیان اسدؔ کی مزید
اس جگہ پر جنوں مہمان ہوا کرتے ہیں
جس جگہ شاہ بھی دربان ہوا کرتے ہیں
زخم کو نوچ کے خوں اپنا بہات...
کہیں پہ صدیوں پرانی آتش غضب سے اپنے بجھا رہا ہے
چراغ ٹوٹا ہوا کہیں پر ہوا کی زد میں جلا رہا ہے
...
”معراج بی“ کی یاد سے کتنی نمی ہے آج
بیٹوں کی آنکھ نم ہے تو بیٹی دکھی ہے آج
احباب رشتے دار ہیں ہ...
یاس و حسرت سے ادھر آنکھ تکی جائے گی
جس طرف جانِ غزل تیری گلی جائے گی
دے کے آواز زمانے کو جو خام...



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!