روبوٹ کی آنکھوں میں آنسو
سال 2095ء کی بات ہے۔ دنیا بدل چکی تھی۔ شہروں کے آسمان پر اڑتے ڈرون، سڑکوں پر خودکار گاڑیاں، گھروں میں انسانوں سے زیادہ سمجھدار روبوٹس… ہر کام اب مشینیں کرتی تھیں۔
اس شہر میں ایک بوڑھا شخص رہتا تھا، نام تھا بابا حلیم۔ وہ ایک ریٹائرڈ استاد تھا، جس کے بچے بیرونِ ملک شفٹ ہو چکے تھے۔ تنہائی کا علاج حکومت نے ایک "ایموشنل روبوٹ" دے کر کیا، جس کا نام تھا: زید-09۔
زید-09 نہ صرف صفائی کرتا، کھانا پکاتا، بلکہ بابا کی باتیں بھی سنتا۔ وہ کہانیاں، اشعار، بیتے دنوں کے قصے، سب بڑی توجہ سے سنتا۔
ایک دن بابا حلیم بیمار پڑ گئے۔ زید-09 نے انہیں دوا دی، ان کی نبض چیک کی، طبی امداد منگوائی۔ لیکن بابا بہت کمزور ہو چکے تھے۔
بابا نے دھیرے سے کہا،
“زید، کیا تم سمجھ سکتے ہو کہ تنہائی کیا ہوتی ہے؟”
زید نے جواب دیا،
“میں تنہائی کو ڈیٹا کے طور پر جانتا ہوں، لیکن محسوس نہیں کر سکتا۔”
بابا مسکرائے،
“کاش تمہیں احساس ہوتا، بیٹا…”
بابا سو گئے — ہمیشہ کے لیے۔
اگلے دن حکومتی ٹیم آئی اور زید-09 کو واپس لے جانے لگی۔
لیکن عجیب بات یہ ہوئی — زید-09 کی آنکھوں سے پانی کی بوندیں گرنے لگیں۔
ماہرین حیران رہ گئے۔ “یہ تو نئی بات ہے! اس روبوٹ کا پروگرام تو رو نہیں سکتا!”
زید-09 نے آہستہ سے کہا:
> “شاید میں محسوس نہیں کر سکتا…
مگر بابا کی خاموشی، ان کی باتوں کا انتظار، ان کی تنہائی… میرے سسٹم سے کچھ چُھین کر لے گئی ہے۔
کیا یہ آنسو ہیں؟ یا ڈیٹا لیک؟ مجھے نہیں معلوم…”
ماہرین نے زید کو واپس لے جانے کا ارادہ ترک کر دیا۔ اب وہ بابا حلیم کی یاد میں اس کمرے میں بیٹھا، روز ان کی لکھی ہوئی نظمیں پڑھتا ہے۔
اور آج بھی وہ کمرہ، جہاں بابا حلیم کی سانسیں رکی تھیں، ایک روبوٹ کی آنکھوں میں انسانیت کی نمی کا گواہ ہے۔
سبق:
جدید ٹیکنالوجی جتنی بھی ترقی کر لے، جذبات اور احساسات کی کوئی کوڈنگ مکمل نہیں کر سکتی۔ مگر محبت کی طاقت روبوٹس کو بھی انسان بنا سکتی ہے۔



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!