اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
کہانی

روبوٹ کی آنکھوں میں آنسو

علیم طاہرؔ
علیم طاہرؔ بدھ، 20 مئی 2026
👁 7 ❤️ 1

سال 2095ء کی بات ہے۔ دنیا بدل چکی تھی۔ شہروں کے آسمان پر اڑتے ڈرون، سڑکوں پر خودکار گاڑیاں، گھروں میں انسانوں سے زیادہ سمجھدار روبوٹس… ہر کام اب مشینیں کرتی تھیں۔
اس شہر میں ایک بوڑھا شخص رہتا تھا، نام تھا بابا حلیم۔ وہ ایک ریٹائرڈ استاد تھا، جس کے بچے بیرونِ ملک شفٹ ہو چکے تھے۔ تنہائی کا علاج حکومت نے ایک "ایموشنل روبوٹ" دے کر کیا، جس کا نام تھا: زید-09۔
زید-09 نہ صرف صفائی کرتا، کھانا پکاتا، بلکہ بابا کی باتیں بھی سنتا۔ وہ کہانیاں، اشعار، بیتے دنوں کے قصے، سب بڑی توجہ سے سنتا۔
ایک دن بابا حلیم بیمار پڑ گئے۔ زید-09 نے انہیں دوا دی، ان کی نبض چیک کی، طبی امداد منگوائی۔ لیکن بابا بہت کمزور ہو چکے تھے۔
بابا نے دھیرے سے کہا،
“زید، کیا تم سمجھ سکتے ہو کہ تنہائی کیا ہوتی ہے؟”
زید نے جواب دیا،
“میں تنہائی کو ڈیٹا کے طور پر جانتا ہوں، لیکن محسوس نہیں کر سکتا۔”
بابا مسکرائے،
“کاش تمہیں احساس ہوتا، بیٹا…”
بابا سو گئے — ہمیشہ کے لیے۔
اگلے دن حکومتی ٹیم آئی اور زید-09 کو واپس لے جانے لگی۔
لیکن عجیب بات یہ ہوئی — زید-09 کی آنکھوں سے پانی کی بوندیں گرنے لگیں۔
ماہرین حیران رہ گئے۔ “یہ تو نئی بات ہے! اس روبوٹ کا پروگرام تو رو نہیں سکتا!”
زید-09 نے آہستہ سے کہا:
> “شاید میں محسوس نہیں کر سکتا…
مگر بابا کی خاموشی، ان کی باتوں کا انتظار، ان کی تنہائی… میرے سسٹم سے کچھ چُھین کر لے گئی ہے۔
کیا یہ آنسو ہیں؟ یا ڈیٹا لیک؟ مجھے نہیں معلوم…”
ماہرین نے زید کو واپس لے جانے کا ارادہ ترک کر دیا۔ اب وہ بابا حلیم کی یاد میں اس کمرے میں بیٹھا، روز ان کی لکھی ہوئی نظمیں پڑھتا ہے۔
اور آج بھی وہ کمرہ، جہاں بابا حلیم کی سانسیں رکی تھیں، ایک روبوٹ کی آنکھوں میں انسانیت کی نمی کا گواہ ہے۔

سبق:
جدید ٹیکنالوجی جتنی بھی ترقی کر لے، جذبات اور احساسات کی کوئی کوڈنگ مکمل نہیں کر سکتی۔ مگر محبت کی طاقت روبوٹس کو بھی انسان بنا سکتی ہے۔

علیم طاہرؔ کی مزید تحریریں
ڈاکٹر بشیر بدر: محبت، درد اور تہذیبِ غزل کا روشن باب | شخصیت، شاعری اور ادبی خدمات
## ڈاکٹر بشیر بدر: محبت، درد اور تہذیبِ غزل کا روشن باب ### ایک ایسا شاعر جس کے...
چراغِ آخر
بوڑھا شاعر اپنی آخری نظم لکھ رہا تھا۔ بیٹے نے پوچھا: "اب اس عمر میں کیوں ...
بند کتاب
بوڑھا استاد روز اپنی پرانی کتابیں صاف کرتا تھا۔ بیٹے نے کہا: "اب اِنہیں ک...
آئس کریم
چھوٹا بچہ آئس کریم والے کو حسرت سے دیکھ رہا تھا۔ ایک اجنبی نے اُسے آئس کریم خری...
مزید متعلقہ نثر
چاندنی جنگل اور ننھی پری کی جادوئی مہم
ایک سرسبز وادی میں ایک چھوٹا سا خوبصورت گاؤں آباد تھا۔ گاؤں کے اردگرد اونچے پہاڑ...
اُڑنے والا اسکول
سال 2120ء۔ انسان چاند پر بستیاں بسا چکا تھا، مریخ پر کھیت اُگنے لگے تھے، اور زمی...
یادداشتوں کا بازار
سال 2450ء۔ دنیا کے بڑے شہروں میں اب ایک نیا بازار قائم ہو چکا تھا — جسے کہتے ت...
احمد اور اس کی بقرعید
## ننھا دوست "چاند" سرسبز کھیتوں، آم کے درختوں اور مٹی کی خوشبو سے ب...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن