کشمکش
آج صبح صبح پھر شیلپا کا فون آگیا تھا۔ وکرم نے نہ جانے کیوں وہ فون ریسیو کر لیا تھا۔ کیونکہ چند دنوں سے وہ شلپا کا فون نظر انداز کر رہا تھا۔ شاید اس کی وجہ وکرم کی بے انتہا مصروفیات بھی تھیں۔
وہ اکثر شلپا کا فون اسی وقت ریسیو کرتا تھا جب اسے محسوس ہوتا تھا کہ چند منٹ وہ اس سے بات کر سکے گا ۔اور آج شاید یہی سوچ کر اس نے فون ریسیو کر لیا تھا ۔
ادھر سے شلپا کی ریشمی آواز نے اکرم کی سماعت کو خوشگوار کر دیا تھا ۔
"کیا میں دو منٹ آپ سے بات کر سکتی ہوں۔ "
"جی بالکل آپ بات کیجئے گا ۔ پہلے بتائیے آپ خیریت سے ہیں کہاں ہو آج کل،
کیا کام کاج چل رہا ہے۔ کہاں رہائش پذیر ہو۔ چرچ گیٹ یا گورے گاؤں کہاں پر ہو "
ہاں میں گورے گاؤں ممبئی میں ، فیمس مال کے قریب ہی رہ رہی ہوں۔ جی آپ بتائیے ،
خیریت سے ہیں۔ ٹھیک ٹھاک ہی چل رہا ہے، میری زندگی کا سفر۔
لگی ہوں زندگی کی جدوجہد میں۔ کبھی کام ملتا ہے کبھی نہیں ملتا ہے۔ آپ کو تو پتہ ہی ہے فلم انڈسٹری میں سائیڈ میں کام کرنے والوں کو کتنی مشقت اور جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ دو وقت کی روٹی کمانے کے لیے۔ "۔
" ہاں ہاں میں جانتا ہوں کہ زندگی ہر فیلڈ میں اپنا الگ الگ کردار نبھاتی ہے۔ اور ہر اس کردار کو ہی پتہ ہوتا ہے کہ اس پر کیا بیت رہی ہے۔ کتنی مصیبتوں اور تکالیف کا سامنا کرتے ہوئے وہ اپنی زندگی گزار رہا ہوتا ہے۔ اور بتاؤ کوئی خاص بات۔"
ہاں وکرم جی مجھے یہ پوچھنا تھا نا کہ ایک شخص مجھے بہت پریشان کر رہا ہے، آپ تو جانتے ہی ہیں کہ میں بہت حساس طبیعت واقع ہوئی ہوں۔ سوچتی ہوں کہ اس کے خلاف کمپلینٹ کر دوں۔ کیونکہ میرے دوسرے دوست بھی مجھے یہی مشورہ دے رہے ہیں۔ کہ آپ کمپلینٹ کر دیجیے۔ "
" اچھا ایسا کیا جرم کیا ہے اس شخص نے کہ آپ پریشان ہو رہی ہیں ذرا میں بھی جانوں۔ "
"دراصل میں اس شخص کے ساتھ اسکوٹر پر کچھ دنوں سے گھوم رہی تھیں ۔وہ مجھے کام حاصل کرنے ، میری مدد کے بہانے کئی آفیسیس تک اسکوٹر پر لے کر جاتا تھا۔ بہرحال اچانک مجھ سے الگ قسم کی توقعات وابستہ کرنے لگا اسی لیے میں پریشان ہو رہی ہوں۔ "
" الگ قسم کے توقعات یعنی میں سمجھا نہیں۔"
ارے وہی وہ لیونگ ریلیشن والی پیشکش کرنے لگا ۔جب میں نے انکار کر دیا تو بار بار کال کرتا ہے. اور کہتا ہے کہ آپ انکار مت کرو نا ۔ آپ بھی تو اکیلی ہو، اور میں بھی اکیلا ہوں ۔"
اچھا تو آپ پریشان ہوئیں یہ ذکر آپ نے دوسرے احباب سے بھی شیئر کیا اور انہوں نے آپ کو مشورہ دیا کہ آپ کمپلینٹ کر دیجیے ۔۔۔۔۔ یہی ہوا نا۔ "
" ہاں ہاں بالکل یہی ہوا۔"
" دیکھیے میڈم آپ مجھے بتائیے کہ آپ کا کاروبار کیا ہے؟ یعنی آپ کا پیشہ کیا ہے؟ یا آپ کا بزنس کیا ہے؟ میں یہ جاننا چاہ رہا ہوں۔"
" اب آپ مجھے شرمندہ کر رہے ہیں۔ بزنس کیا ، میرا تو یہی پیشہ ہے کہ میں سائیڈ اداکار ہوں۔
تھوڑا بہت ڈانس بھی کر لیتی ہوں۔
اور تو اور گانا بھی گا لیتی ہوں۔"
یعنی تمہارا کاروباری معاملہ لوگوں سے ملنا جلنا اور تعلق بنانا ہے تاکہ تمہیں کام ملتا رہے ایسا ہی ہے نا۔"
"ہاں, ہاں, بالکل ایسا ہی ہے.... میں لوگوں سے اچھا کانٹیکٹ بناتی ہوں. تا کہ مجھے کام ملتا رہے۔ کبھی ایک دن کبھی دو دن کبھی تین دن شوٹنگ کے کام مل جاتے ہیں۔ اور روز کے روز چار, پانچ سو یا کبھی ہزار روپے تک کما لیتی ہوں۔ بالکل ایسا ہی ہے۔"
" ٹھیک ہے شلپا میڈم اب اگر آپ اس شخص کے تعلق سے پولیس کمپلینٹ کرتی ہے، تو وہ پولیس کمپلینٹ آن ریکارڈ آ جائے گی۔ آپ کے نام کے ساتھ۔ "
"او ہو وکرم جی ایسا ہے تو پھر میں کیا کروں۔"
دیکھیے آپ مجھے کیوں فون کر رہی ہو پہلے یہ بتائیے۔"
وکرم جی میں آپ سے ایک مرتبہ کسی دوسرے پروجیکٹ کے موقع پر ملی تھی ۔ آپ کا نمبر لیا تھا۔ اور مجھے پتہ نہیں کیوں ایسا لگتا ہے کہ آپ سے زندگی کے اہم مشورے لیتی رہوں۔ مشورہ لینے کے لیے ہی میں نے آپ سے فون کیا ہے۔"
تو میڈم میں آپ کو سچا مشورہ دوں گا۔ کہ آپ جس پیشے سے جڑی ہوئی ہو۔ وہ پیشہ لوگوں سے ملنے جلنے اور اچھے تعلقات رکھنے پر خوشگواری سے قائم رہتا ہے۔ اور ساتھ ہی ہمارے کردار پہ کوئی داغ دھبہ نہیں لگنا چاہیے۔ یعنی ہمارا کردار بالکل صاف ستھرا ہونا چاہیے۔ اب دیکھو نا۔۔۔ فلم انڈسٹری کی کئی ہیروئینوں نے اپنے نام کے اگے بدنامی کے معاملات دم چھلوں کی طرح نہیں لٹکائے رکھا ۔ بلکہ ایشور(رب) نے ہمیں بدھی (شعور )دی ہے۔
تو اس کا استعمال بھی کرنا چاہیے۔
خود اپنی بدھی کے ذریعے پرابلم سال کرنا بہت ضروری ہوتا ہے بالی وڈ کی مشہور ہیروئن ان دنوں ابھی ہالی ووڈ میں کام کر رہی ہیں۔ بلکہ انہوں نے ہالی ووڈ ایکٹر سے شادی بھی رچا لی ہے۔ ایک وقت ان کی زبان انٹرویو کے دوران پھسل گئی تھی، وہ کہہ رہی کہ مجھے بالی ووڈ میں بڑے تلخ تجربات ہوئے ہیں۔۔۔۔ ۔وہاں پرمیرے ساتھ ۔۔۔۔۔۔۔ یہ کہتے ہوئے وہ رک گئی تھیں ۔اور کہا کہ جانے دو میں کوئی بھی اپنا معاملہ شیئر نہیں کر سکتی۔ "
کچھ باتیں اپنے پیشے کو مدنظر رکھتے ہوئے صیغہ راز میں بھی رکھنی پڑتی ہیں ۔ سمجھے میڈم شلپا۔ "
جی وکرم صاحب ، آپ درست فرما رہے ہیں بلکہ مجھے حیرت ہو رہی ہے۔کہ کتنا نالج ہے آپ کو ۔ اب آپ ہی بتائیے، میرے حق میں آخری اچھا مشورہ دیجئے۔ جس پر میں عمل کرلوں۔"
"شلپا میڈم سچ کہوں تو ، اس شخص کو آپ بلاک کر دیجئے۔ جو آپ کی پریشانی کا باعث بن رہا ہے ۔ ان لوگوں سے رشتہ منقطع کرنا ہی بہتر ہے۔۔ جو ہمارے لیے زیادہ اور غیر ضروری طور پر نقصان دِہ ثابت ہوتے ہیں ۔ اگر آپ اس مشورے پر عمل کرو گی ۔تو فائدے میں رہو گی۔ ورنہ آپ کی اپنی مرضی۔ آپ اپنی مرضی کی مالکن ہو میڈم ، ٹھیک ہے۔"
" ٹھیک ہے وکرم جی بہت بہت شکریہ آپ نے میری پریشانی کا حل نکال دیا ۔ بس آپ کا فون کٹ ہوتے ہی میں اس شخص کو بلاک کر دوں گی۔ بہت ہی اچھی اور سچی لگی آپ کی یہ ایڈوائس ۔
یہ تو وہی بات ہو گی کہ سانپ بھی مر جاۓ گا، اور لاٹھی بھی نہیں ٹوٹے گی ۔۔۔۔۔
ایک بار پھر آپ کا بہت شکریہ جی ۔ "
" چلیے اپنا خیال رکھیے ۔ سرکھشت رہیۓ ۔ او کے ، باۓ ۔ "
" باۓ باۓ وکرم جی ۔۔
✍️ علیم طاہر — مختصر تعارف
علیم طاہر _شاعر و ادیب



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!