اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
غزل
ہاشم حسین انور حسین جمعہ، 8 مئی 2026
👁 12 ❤️ 2
اک لمحہ گزارے جو ترے ساتھ محبت
کر اُس پہ محبت کی تو برسات محبت
باتیں یوں کرے مجھ سے دن رات محبت
ہر بار کرے جیسے سوالات محبت
جن لمحوں میں محبوب کی آنکھوں سے تو برسی
ہم بھول نہ پائیں گے وہ لمحات محبت
ہو جاؤں میں بے چین درِ وصل پہ جا کر
اس طرح ابھارے مرے جذبات محبت
تو مجھ کو سنے اور سنائی نہ مجھے دے
اتنے تو نہیں بدلے تھے حالات محبت
سورج تلے جو تیرگی چھائی ہے یہاں پر
یہ کون سا ہے پردۂ ظلمات محبت
حیران ہوں یہ کون سا دستورِ وفا ہے
اپنوں کے لیے درد کی سوغات محبت
ہاشمؔ تجھے کس طرح سے خوابوں میں رکھے ہے
آ تجھ کو بتاؤں میں کسی رات محبت
← پچھلا اگلا →
ہاشم حسین انور حسین کی مزید
کل شب جنابِ میر جو آۓ تھے خواب میں ہم نے بھی اپنے شعر سناۓ تھے خواب میں آنکھیں کھلیں نہیں کہ وہ ...
جس نے نصیب اپنا سنوارا نہیں ہے دوست دنیا میں اس کا کوئی سہارا نہیں ہے دوست شکوہ کروں تو کس سے کر...
اُمّتِ محمد کا صلہ سکینہ کیسے بھول جائے کربلا سکینہ ظلم جبر ایسا ظالموں نے ڈھایا خوں بھرا ہوا ...
حصولِ آفریں جن کے سبھی القاب ہوتے ہیں وہ راہِ عشق کے راہی بڑے کم یاب ہوتے ہیں انہیں ہی ہر مسافر ...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن