غزل
ہاشم حسین انور حسین
جمعہ، 8 مئی 2026
👁 11
❤️ 3
خاموش،کہانی میں سدا رہ نہیں سکتا
"دریا ہوں روانی میں سدا رہ نہیں سکتا"
جس دور میں بھی وصل کا شاداب ہو گلشن
وہ دور کہانی میں سدا رہ نہیں سکتا
اس دور کا پنچھی ہے یہ اُڑ جاۓ گا اک دن
یہ فکرِ پرانی میں سدا رہ نہیں سکتا
آیا ہوں جہاں سے وہیں جانا ہے پلٹ کر
اس عالمِ فانی میں سدا رہ نہیں سکتا
یہ خصلتِ انسان ہے چھوڑے گا یقیناً
ہر شوق روانی میں سدا رہ نہیں سکتا
میں ناز اُٹھانے کو ترے، دل سے کہوں تو
پُر جوش گِرانی میں سدا رہ نہیں سکتا
ہاشم میں چلا چھوڑ کے یہ قصبۂ فیاض
نادار ہوں *دانی*میں سدا رہ نہیں سکتا
ہاشم حسین انور حسین کی مزید
کل شب جنابِ میر جو آۓ تھے خواب میں
ہم نے بھی اپنے شعر سناۓ تھے خواب میں
آنکھیں کھلیں نہیں کہ وہ ...
جس نے نصیب اپنا سنوارا نہیں ہے دوست
دنیا میں اس کا کوئی سہارا نہیں ہے دوست
شکوہ کروں تو کس سے کر...
اُمّتِ محمد کا صلہ سکینہ
کیسے بھول جائے کربلا سکینہ
ظلم جبر ایسا ظالموں نے ڈھایا
خوں بھرا ہوا ...
حصولِ آفریں جن کے سبھی القاب ہوتے ہیں
وہ راہِ عشق کے راہی بڑے کم یاب ہوتے ہیں
انہیں ہی ہر مسافر ...



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!