اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
مضمون

نعتِ رسولِ اکرم ﷺ کی تاریخ، روحانی عظمت اور عالمی ادبی روایت | مکمل تحقیقی مقالہ

نعتِ رسولِ اکرم ﷺ کی تاریخ، روحانی عظمت اور عالمی ادبی روایت | مکمل تحقیقی مقالہ
منتظم عاصیؔ
منتظم عاصیؔ پیر، 15 جون 2026
👁 114 ❤️ 0

نعتِ سرورِ کونین ﷺ لکھنا، پڑھنا اور سننا اعزازِ عشقِ حقیقی اور جذبۂ ایمان کی روشن علامت ہے۔ "ظہورِ رسولِ پُرنور ﷺ، شفیعُ المذنبین ﷺ کی بعثت سے قبل بنی نوعِ انسان کو اس سعادتِ عظمیٰ کا کامل شعور حاصل نہ تھا۔" "نعت، انبیائے کرام علیہم السلام کی بشارتوں اور صحائفِ آسمانی میں کلیدِ وحدت کے ظہور کی منتظر رہی۔" وہ سوا لاکھ کم و بیش انبیائے کرام علیہم السلام پر نازل ہونے والے صحائف اور آسمانی کتابوں کی زینت بنتی رہی اور نظامِ کائنات میں کلمۂ آسمانی سے آشنائی پانے والے برگزیدہ انسانوں کے قلوب کو رمزِ خلقت اور قرینۂ حیاتِ عشق سے فروزاں کرتی رہی۔

نعت تمام مخلوقات کے گرد قربِ الٰہی اور نجات از کفر و ظلمت کے دروازے وا کرتی رہی۔ نعت طلوعِ آفتاب سے غروبِ مہتاب تک ہر لمحہ اپنی شناخت ثبت کرتی رہی۔ نعت ہواؤں میں گھل کر درختوں کی گود میں پلنے والے پتّوں کو جھومنے اور مہکنے کا سلیقہ بخشتی رہی۔ نعت پھولوں کی سانس بن کر تتلیوں اور بھنوروں کو رقص کی توانائی عطا کرتی رہی۔ نعت زمین میں مدفون دانوں کو نمو، شادابی اور گل و ثمر کی نعمت سے آراستہ کرتی رہی۔

نعت تنہائی کو رعنائی، اندھیرے کو ضیا، ہجوم کو احساس، اجالے کو بینائی، صبح کو دلکشی، شام کو نغمگی، ضعیف کو توانائی، توانائی کو جذبہ، جذبے کو قربت، قربت کو عشق اور عشق کو معراج عطا کرتی رہی۔ نعت تخلیقِ کائنات سے اپنی وجودیت کا ثبوت ہر شے سے نمایاں کرتی رہی۔ نعت کی آہنگ، تخلیقِ بنی نوعِ انسان کے ہر ظاہر و باطن میں حقانیت کا نشان چھوڑتی رہی۔

نعت آدم علیہ السلام کی مٹی کے خمیر سے لے کر ان کی پہلی سانس تک، ان کی گویائی سے بینائی تک، "ان کی اولین آگہی سے نوشتۂ تحریر تک،" اور عبارت کے فن سے خطابِ اشرف المخلوقات تک، خلیفۃ الارض کے لیے فصیلِ رحمت بنی رہی۔ نعت حیاتِ خلد میں آدم علیہ السلام کی تنہائی کو جوڑے کی نعمت سے، روئے زمین پر نزول کو وصل کی لذت سے، اور وصل کو نکاح کی منزل سے جوڑتی ہوئی درودِ پاک کی صورت حضرت آدم و حوا علیہما السلام پر سایۂ فیض و شفقت بن کر چھائی رہی۔

نعت آدم علیہ السلام سے حضرت شیثؑ، ادریسؑ، نوحؑ، ابراہیمؑ، اسماعیلؑ، موسیٰؑ، داؤدؑ، یحییٰؑ اور زکریاؑ کے ادوار سے گزرتی ہوئی حضرت عیسیٰ ابنِ مریم علیہ السلام تک پہنچی اور پھر حضرت "سیدہ آمنہ رضی اللہ عنہا" کے درِ سعادت پر دستک دینے لگی۔ نعت ہدایت کی پگڈنڈی سے صراطِ مستقیم تک رنگ و خوشبو، خیر و برکت اور حسنِ سلوک کا سفر طے کرتی ہوئی گنہگاروں کی شفاعت کا وسیلہ بن کر آتشِ غضب کو سرد کرتی رہی۔

نعت مومنین کے قلوبِ الفت اور ایمان کو اپنی فضیلت اور آبِ رحمت سے نم رکھتی رہی۔ نعت مدینۂ منورہ کی ہواؤں، آب و خاک، کنکروں اور پتھروں تک کو لائقِ احترام و تکریم مقام عطا کرتی رہی۔ نعت ہی حیاتِ سرخروئی کا لازوال سبب اور سعادتِ دارین کا روشن عنوان ہے۔

جب نعت عربی زبان کا لبادہ اوڑھ کر جلوہ گر ہوتی ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے عشق و عقیدت کے چشمے پھوٹ پڑے ہوں۔ چنانچہ ولادتِ باسعادتِ رسولِ اکرم ﷺ کے بعد حضرت ابوطالبؓ کی زبان سے یہ لازوال اشعار ادا ہوئے:

حضرت ابوطالبؓ کی زبان سے ادا ہونے والے یہ اشعار درحقیقت عربی نعتیہ ادب کے اولین درخشاں نقوش میں شمار ہوتے ہیں:

وَأَبْيَضُ يُسْتَسْقَى الْغَمَامُ بِوَجْهِهِ
ثِمَالُ الْيَتَامَىٰ عِصْمَةٌ لِلْأَرَامِلِ

يَلُوذُ بِهِ الْهُلَّاكُ مِنْ آلِ هَاشِمٍ
فَهُمْ عِنْدَهُ فِي نِعْمَةٍ وَفَوَاضِلِ

وَمِيزَانُ عَدْلٍ لَا يَخِيسُ شَعِيرَةً
وَوَزَّانُ صِدْقٍ وَزْنُهُ غَيْرُ هَائِلِ

ترجمہ:
"وہ نورانی چہرہ جس کے وسیلے سے بارش طلب کی جاتی ہے، وہ یتیموں کا سہارا اور بیواؤں کی پناہ گاہ ہے۔ بنی ہاشم کے حاجت مند اور درماندہ افراد اسی کی پناہ میں آتے ہیں اور اس کے فیض و کرم سے بہرہ مند ہوتے ہیں۔ وہ عدل کی ایسی میزان ہے جو ایک بال برابر بھی خطا نہیں کرتی اور صداقت کا ایسا معیار ہے جس میں کسی باطل دعوے کی آمیزش نہیں۔"

یہ اشعار اس حقیقت کے گواہ ہیں کہ نعتِ رسولِ اکرم ﷺ کا چراغ بعثتِ نبوی کے ابتدائی ایام ہی سے دلوں کو منور کرتا چلا آ رہا ہے۔ عرب کے فصیح و بلیغ ماحول میں جب عشقِ مصطفیٰ ﷺ نے الفاظ کا جامہ زیبِ تن کیا تو نعتیہ ادب کی ایک ایسی روایت نے جنم لیا جو رہتی دنیا تک اہلِ محبت کے دلوں کو گرمانے والی ہے۔

پھر جب بلبلِ باغِ رسالت، شاعرِ دربارِ نبوی اور مداحِ رسول حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے دل پر نعت نے دستک دی تو عشق و عقیدت نے الفاظ کے قالب میں ڈھل کر یہ لازوال اشعار تخلیق کیے:

وَأَحْسَنُ مِنْكَ لَمْ تَرَ قَطُّ عَيْنِي
وَأَجْمَلُ مِنْكَ لَمْ تَلِدِ النِّسَاءُ

خُلِقْتَ مُبَرَّأً مِنْ كُلِّ عَيْبٍ
كَأَنَّكَ قَدْ خُلِقْتَ كَمَا تَشَاءُ

ترجمہ:
"آپ ﷺ سے زیادہ حسین میری آنکھ نے کبھی نہیں دیکھا اور آپ ﷺ سے زیادہ خوبصورت کسی ماں نے جنم نہیں دیا۔ آپ ﷺ کو ہر عیب سے پاک پیدا کیا گیا، گویا آپ ﷺ کی تخلیق آپ کی مرضی اور پسند کے عین مطابق ہوئی ہو۔"

حضرت حسان بن ثابتؓ کے یہ اشعار نعتیہ ادب میں حسنِ بیان، والہانہ محبت اور عقیدتِ رسول ﷺ کا ایسا حسین امتزاج ہیں جس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔ ان کے کلام میں عشقِ مصطفیٰ ﷺ محض ایک جذبہ نہیں بلکہ ایمان کی حرارت بن کر جلوہ گر ہوتا ہے۔

عربی زبان سے نکل کر جب نعت نے فارسی کے گلستان میں قدم رکھا تو اس نے وہاں بھی محبتِ رسول ﷺ کے چراغ روشن کیے۔ فارسی ادب کے نامور شاعر افضل الدین خاقانی نے اپنے مخصوص اسلوب میں بارگاہِ رسالت ﷺ سے وابستہ عقیدت کو یوں بیان کیا:

شب رواں چوں رخِ صبح آئینہ سیما بینند
کعبہ را چہرہ و در آں آئینہ پیدا بینند

ترجمہ:
"جب چلتی ہوئی رات صبح کے آئینہ نما چہرے کی مانند جلوہ گر ہوتی ہے تو "اہلِ نظر کعبہ کے حسن میں ایک روحانی تجلی کا مشاہدہ کرتے ہیں۔"

فارسی نعت نے عربی روایت سے فیض پاتے ہوئے عشق و عرفان، تصوف اور جمالیات کے نئے دریچے وا کیے۔ چنانچہ نعت کا یہ مقدس سفر عرب کے ریگزاروں سے عجم کے گلستانوں تک پہنچا اور محبتِ رسول ﷺ کے رنگ میں رنگ کر ادب کی تاریخ کا ایک تابندہ باب بن گیا۔

جب نعت ہند کی سرزمین پر قدم رکھتی ہے تو مذہب، نسل اور عقیدے کی تمام ظاہری دیواریں عبور کر کے انسانیت کی مشترکہ میراث بن جاتی ہے۔ برصغیر کی گنگا جمنی تہذیب میں عشقِ رسول ﷺ نے ایسی جڑیں مضبوط کیں کہ ہندو، سکھ، جین اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے اہلِ قلم بھی اس چشمۂ محبت سے فیض یاب ہوئے۔ ان شعراء نے اپنی عقیدت، محبت اور احترام کو نعت کے قالب میں ڈھال کر یہ ثابت کیا کہ حضور نبی اکرم ﷺ کی ذاتِ اقدس کسی ایک قوم یا طبقے تک محدود نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے رحمت و ہدایت کا سرچشمہ ہے۔

چنانچہ مہاراجہ سر کشن پرشاد شادؔ اپنی وارفتگی کا اظہار یوں کرتے ہیں:

کافر ہوں کہ مومن ہوں خدا جانے میں کیا ہوں
پر بندہ ہوں اُس کا جو ہے سلطانِ مدینہ

مدینہ کو چلو، دربار دیکھو
رسول اللہ ﷺ کی سرکار دیکھو

ان اشعار میں عقیدت کی وہ سادگی اور خلوص موجود ہے جو دلوں کو براہِ راست اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔

منشی شنکر لال ساقیؔ جب بارگاہِ رسالت ﷺ میں نذرانۂ عقیدت پیش کرتے ہیں تو ان کے دل کی کیفیت یوں زبان پر آتی ہے:

جیتے جی روضۂ اقدس کو نہ آنکھوں نے دیکھا
روح جنت میں بھی ہوگی تو ترستی ہوگی

نعت لکھتا ہوں مگر شرم مجھے آتی ہے
کیا مری اُن کے مدح خوانوں میں ہستی ہوگی

یہ اشعار عاشق کے احساسِ عجز، ادب اور محبت کا خوبصورت اظہار ہیں۔

منشی درگا سہائے سرورؔ جہاں آبادی کے ہاں محبتِ رسول ﷺ کا رنگ یوں نمایاں ہوتا ہے:

دلِ بے تاب کو سینے سے لگا لے آ جا
کہ سنبھلتا نہیں کم بخت، سنبھالے آ جا

پاؤں ہیں طولِ شبِ غم نے نکالے، آ جا
خواب میں زلف کو مکھڑے سے لگا لے آ جا

بے نقاب آج تو اے گیسوؤں والے آ جا

فراق گورکھپوری، جو اردو ادب کے عظیم ناموں میں شمار ہوتے ہیں، حضور اکرم ﷺ کے مقام و مرتبے کو یوں خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں:

انوارِ بے شمار معدود نہیں
رحمت کی شاہراہ مسدود نہیں

معلوم ہے کچھ تم کو محمدؐ کا مقام؟
وہ امتِ اسلام میں محدود نہیں

یہ اشعار اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ رحمتِ محمدی ﷺ کی وسعت پوری انسانیت کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے۔

تلک چند محرومؔ عقیدت کے پھول نچھاور کرتے ہوئے کہتے ہیں:

مبارک پیشوا جس کی ہے شفقت دوست دشمن پر
مبارک پیش رو جس کا ہے سینہ صاف کینے سے

پیارے لال رونقؔ کی محبت یوں قرطاس پر جلوہ گر ہوتی ہے:

تو ہے محبوب، خدا چاہنے والا تیرا
مرتبہ سارے رسولوں سے ہے بالا تیرا

کلمۂ صلِّ علیٰ وردِ زباں رکھتا ہوں
خواب میں دیکھ لیا ہے قدِ بالا تیرا

دلورام کوثریؔ اپنے والہانہ جذبے کا اظہار ان الفاظ میں کرتے ہیں:

عظیم الشان ہے شانِ محمد ﷺ
خدا ہے مرتبہ دانِ محمد ﷺ

بتاؤں کوثریؔ کیا شغل اپنا
میں ہوں ہر دم ثنا خوانِ محمد ﷺ

پنڈت دتاتریہ کیفیؔ بھی بارگاہِ رسالت ﷺ میں عقیدت کے چراغ روشن کرتے ہیں:

ہے حامی و ممدوح مرا شافعِ محشر
کیفیؔ مجھے اب خوف ہے کیا روزِ جزا کا

ہری چند اخترؔ حضور اکرم ﷺ کے فیضانِ رحمت کو یوں بیان کرتے ہیں:

کس نے ذروں کو اٹھایا اور صحرا کر دیا
کس نے قطروں کو ملایا اور دریا کر دیا

زندہ ہو جاتے ہیں جو مرتے ہیں اُن کے نام پر
اللہ اللہ! موت کو کس نے مسیحا کر دیا

عرشؔ ملیسانی کا دل بھی اسی محبت سے سرشار نظر آتا ہے:

کہہ دل کا حال شاہِ رسالت مآب سے
ہو بے نیاز ذکرِ عذاب و ثواب سے

اور جب کنور مہندر سنگھ بیدیؔ قلم اٹھاتے ہیں تو عشقِ رسول ﷺ کی عالمگیر حقیقت یوں آشکار ہوتی ہے:

ہم کسی دین سے ہوں، صاحبِ کردار تو ہیں
جیسے بھی ہیں، ثنا خوانِ شہِ ابرار تو ہیں

عشق ہو جائے کسی سے، کوئی چارہ تو نہیں ہے
صرف مسلم کا محمد ﷺ پہ اجارہ تو نہیں ہے

یہ اشعار اس حقیقت کے روشن گواہ ہیں کہ نعت برصغیر میں صرف ایک مذہبی صنفِ سخن نہیں رہی بلکہ محبت، رواداری، احترامِ انسانیت اور عقیدتِ رسول ﷺ کی مشترکہ ثقافتی روایت بن گئی۔ یہی وہ امتیاز ہے جس نے اردو نعت کو عالمگیر وسعت، فکری گہرائی اور روحانی عظمت عطا کی۔

"یہ روایت اس بات کی شاہد ہے کہ نعت برصغیر میں صرف مذہبی اظہار نہیں رہی بلکہ تہذیبی مکالمے اور بین المذاہب احترام کا بھی ذریعہ بنی۔"

نعت جب صاحبِ ایمان کے دروازے پر دستک دیتی ہے تو دل محبتِ رسول ﷺ کی روشنی سے جگمگا اٹھتا ہے، زبان درود و سلام کے نغمے چھیڑ دیتی ہے اور قلم عقیدت کے موتی بکھیرنے لگتا ہے۔ اردو شاعری کے عظیم المرتبت شعراء نے اپنے اپنے انداز میں بارگاہِ رسالت ﷺ میں گلہائے عقیدت پیش کیے ہیں۔ ان کے کلام میں عشق، ادب، احترام اور وارفتگی کی وہ کیفیت جلوہ گر ہے جو نعت کو محض ایک ادبی صنف نہیں بلکہ روحانی واردات بنا دیتی ہے۔

چنانچہ خدائے سخن میر تقی میرؔ کے قلبِ محبت سے یہ نعتیہ اشعار پھوٹتے ہیں:

نیک و بد تیرے ثناخواں ہم
لطف تیرا آرزو بخشِ اُمم

ملتفت ہو تو تو کاہے کا ہے غم
تو رحیم اور مستحقِ رحم ہم

رحمۃً للعالمینی یا رسولؐ
ہم شفیعُ المذنبینی یا رسولؐ

میرؔ کے یہاں عقیدت کی سادگی، عاجزی اور امیدِ شفاعت کی کیفیت نمایاں نظر آتی ہے۔

مرزا اسد اللہ خان غالبؔ، جنہیں اردو شاعری کا آفتاب کہا جاتا ہے، ان کے اشعار میں بھی عشقِ رسول ﷺ کی جھلک جا بجا نظر آتی ہے۔ وہ اپنی نسبتِ مصطفیٰ ﷺ پر ناز کرتے ہوئے کہتے ہیں:

اس کی اُمت میں ہوں میں، میرے رہیں کیوں کام بند
واسطے جس شہؐ کے، غالبؔ! گنبدِ بے در کھلا

اور ساقیِ کوثر ﷺ سے وابستہ حسنِ ظن کا اظہار یوں کرتے ہیں:

کل کے لیے کر آج نہ خست شراب میں
یہ سوءِ ظن ہے ساقیِ کوثر ﷺ کے باب میں

غالبؔ کے دل میں بارگاہِ رسالت ﷺ کی کشش اس انداز سے بھی جلوہ گر ہوتی ہے:

یہ کس بہشت شمائل کی آمد آمد ہے
کہ غیر جلوۂ گل، رہگزر میں خاک نہیں

بہت سہی غمِ گیتی، شراب کم کیا ہے
غلامِ ساقیِ کوثر ﷺ ہوں، مجھ کو غم کیا ہے

پھر جی میں ہے کہ در پہ کسی کے پڑے رہیں
سر زیرِ بارِ منتِ درباں کیے ہوئے

اور عشق کی انتہا ملاحظہ ہو:

زباں پہ بارِ خدایا! یہ کس کا نام آیا
کہ میرے نطق نے بوسے مری زباں کے لیے

حکیم الامت علامہ محمد اقبالؔ کے ہاں نعت فکر، عشق اور عرفان کا حسین امتزاج بن کر جلوہ گر ہوتی ہے۔ وہ حضور اکرم ﷺ کو انسانیت کے قافلے کا سالار قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں:

سالارِ کارواں ہے میرِ حجازؐ اپنا
اس نام سے ہے باقی آرامِ جاں ہمارا

اور اپنی روحانی وارفتگی کا اظہار یوں کرتے ہیں:

فرشتے بزمِ رسالتؐ میں لے گئے مجھ کو
حضورِ آیتِ رحمت میں لے گئے مجھ کو

عشقِ مصطفیٰ ﷺ کی ہمہ گیری کو اقبالؔ ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں:

ہو نہ یہ پھول تو بلبل کا ترنم بھی نہ ہو
چمنِ دہر میں کلیوں کا تبسم بھی نہ ہو

یہ نہ ساقی ہو تو پھر مے بھی نہ ہو، خُم بھی نہ ہو
بزمِ توحید بھی دنیا میں نہ ہو، تم بھی نہ ہو

خیمۂ افلاک کا اِستادہ اسی نام سے ہے
نبضِ ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہے

اور پھر عشقِ رسول ﷺ کی عالمگیر تاثیر کو یوں سمیٹتے ہیں:

اقبالؔ! کس کے عشق کا یہ فیضِ عام ہے
رومی فنا ہوا، حبشی کو دوام ہے

ادیب الملک ادیبؔ مالیگانوی کی نعتیہ شاعری بھی عشقِ محمدی ﷺ کی روشنی سے منور ہے۔ وہ کہتے ہیں:

کیا ہے جس کو روشن جلوۂ عشقِ محمد ﷺ نے
ادیبؔ اس آئینے پر غیر ممکن ہے غبار آئے

دل میں شوقِ شہادت، ایمان بھی
زندگی بھی، محبت بھی، قرآن بھی

جن کے سجدوں سے پُرنور تھیں مسجدیں
خون سے اُن کے گلشن تھا میدان بھی

ادیبؔ غازی پوری کے اشعار میں درود و سلام کی خوشبو یوں مہکتی ہے:

رہتی ہے نفس کے تاروں میں ہر وقت صدائے صلِّ علیٰ
کیسے نہ تڑپ کر آئے پھر ہونٹوں پہ نوائے صلِّ علیٰ

اٹھتے حوادث اٹھنے دو، اپنا تو ہے بس ایمان یہی
کیا ہم کو گرائے گی دنیا، جب ہم کو اٹھائے صلِّ علیٰ

اور حضور اکرم ﷺ کی سادگی اور عظمت کا بیان یوں کرتے ہیں:

عرب کے چاند کی جس وقت چاندنی پھیلی
دل و نگاہ میں اتری، گلی گلی پھیلی

زمانہ بھول گیا انبیاء کا جاہ و جلال
کچھ اس ادا سے محمد ﷺ کی سادگی پھیلی

پھر اپنی عاجزی کا اعتراف کرتے ہوئے کہتے ہیں:

عدو بھی گر پڑا قدموں میں، تاب لا نہ سکا
جب اُن کے لطف و کرم کا جواب لا نہ سکا

ادیبؔ تھک گیا، عالمِ قلم بھی لکھ لکھ کر
کوئی بھی اُمّی لقب کا جواب لا نہ سکا

امین صدیقی نعت گوئی کی دشواری اور عظمت کا اعتراف کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

ادب کے مے کدے میں جام و جم ٹوٹے پڑے ہوں گے
تمام الفاظ عاجز اور بھرم ٹوٹے پڑے ہوں گے

امینؔ! آساں نہیں ہے نعتِ شاہِ انبیاء لکھنا
سمندر سوکھ جائیں گے، قلم ٹوٹے پڑے ہوں گے

عہدِ حاضر کے ممتاز نعت گو شاعر ڈاکٹر اشفاق انجم صاحب کے کلام میں بھی محبتِ مصطفیٰ ﷺ پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہے:

اندھیروں میں دمکتا ہے، ہوا کے رخ پہ جلتا ہے
چراغِ مصطفیٰ ﷺ پر کب کسی کا زور چلتا ہے

ضرورت کیا ہے دیکھوں ایمن و افلاک کی جانب
مرے آقا کے روضے میں چراغِ طور جلتا ہے

پھر عظمتِ مصطفیٰ ﷺ کا بیان یوں کرتے ہیں:

اعزاز یہ کسی کو بھی حاصل نہیں ہوا
پھر کوئی آسمان میں داخل نہیں ہوا

سورج، ستارے، چاند، فلک بلکہ کائنات
کوئی مرے نبی ﷺ کے مماثل نہیں ہوا

اور درود و سلام کی برکتوں کا ذکر کرتے ہوئے عرض کرتے ہیں:

الٰہی نور ہو نازل، مکان خوشبو دے
پڑھوں درود تو میری زبان خوشبو دے

مسافرِ شبِ اسریٰ کے جسم و جاں کے طفیل
مدینہ، قبلہ، خلا، آسمان خوشبو دے

یہ تمام اشعار اس حقیقت کے شاہد ہیں کہ نعت ہر دور میں اہلِ ایمان کے دلوں کی دھڑکن، روح کی غذا اور عشقِ رسول ﷺ کے اظہار کا سب سے پاکیزہ وسیلہ رہی ہے۔ جس دل میں محبتِ مصطفیٰ ﷺ کا چراغ روشن ہو جائے، اس کی زندگی بھی معطر ہو جاتی ہے اور اس کا قلم بھی۔

جین برادری میں بھی دوسرے ہندو معاشرے کی طرح ایسے متعدد دانشور، ادیب اور شاعر پیدا ہوئے جن کے کارنامے اردو زبان و ادب کی تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ اس ضمن میں راقم الحروف کو دہلوی تہذیب کے نمائندہ، جین سماج کے ممتاز رہنما اور اردو کے قادرالکلام شاعر جناب دکمبر پرشاد گوہرؔ دہلوی یاد آتے ہیں۔

دکمبر پرشاد گوہرؔ نہایت باوقار، مذہبی اور شائستہ شخصیت کے مالک تھے۔ دہلی کے مشہور تجارتی مرکز دریبہ کلاں میں سونے، چاندی اور جواہرات کا ان کا وسیع کاروبار تھا۔ شاعری کا ذوق انہیں بچپن ہی سے حاصل تھا۔ انہوں نے اردو اور فارسی کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور اردو کے معروف شاعر آغا شاعر قزلباشؔ سے اصلاح و تربیت حاصل کی۔ اس ادبی تربیت نے ان کی فطری صلاحیتوں کو مزید نکھارا اور وہ غزل گوئی میں ایک منفرد مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔

کاروباری مصروفیات کے باوجود ان کا رشتہ ادب و شاعری سے کبھی منقطع نہ ہوا۔ عمر کے مختلف مراحل میں انہوں نے شعر و ادب کی خدمت جاری رکھی اور ہمیشہ علمی و ادبی مجالس سے وابستہ رہے۔ زندگی کے آخری دور میں انہوں نے خود کو مکمل طور پر ادب اور شاعری کے لیے وقف کر دیا۔
ان کی ادبی تربیت میں شمیمؔ کرہانی، ساغرؔ نظامی، رشیؔ پٹیالوی اور ساحرؔ ہوشیار پوری جیسے ممتاز شعراء کی رہنمائی شامل رہی۔ غزل ان کی محبوب صنفِ سخن تھی اور انہوں نے اس میدان میں اپنی پختہ فکری بصیرت اور فنی مہارت کے عمدہ جوہر دکھائے۔

ان کے کلام پر یادگارِ داغ، ابو الفصاحت پنڈت لبھو رام جوشؔ ملسیانی کے دبستان کا رنگ نمایاں محسوس ہوتا ہے۔ اگرچہ انہوں نے جوشؔ ملسیانی سے باقاعدہ تلمذ حاصل نہیں کیا تھا، تاہم انہیں اپنا معنوی استاد تسلیم کرتے تھے۔ ان کی شاعری میں تصوف، روحانیت، اخلاقی اقدار اور انسانی محبت کے عناصر نمایاں ہیں۔

جین سماج کے دیگر شعراء کی طرح گوہرؔ دہلوی کا کلام بھی اس حقیقت کا روشن ثبوت ہے کہ اردو زبان نے مذہب، نسل اور عقیدے کی حدود سے بلند ہو کر محبت، اخوت اور انسان دوستی کا پیغام عام کیا ہے۔ یہی وہ وصف ہے جس نے اردو ادب کو آفاقی وسعت اور دائمی زندگی عطا کی۔

جان رابرٹ کا کلام مرصع، سلیس اور نہایت پُراثر ہے۔ انہوں نے غزل، نعت، سلام اور منقبت سمیت مختلف اصنافِ سخن میں طبع آزمائی کی اور ہر میدان میں اپنی فنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ اسلامیات کے عمیق مطالعے اور سیرتِ طیبہ ﷺ سے گہری وابستگی نے ان کے قلب و روح کو اس قدر متاثر کیا کہ ان کی حمد و نعت میں صرف فنی مہارت ہی نہیں بلکہ قلبی وارفتگی اور جذبۂ عشق بھی شامل ہو گیا۔ "ان کے کلام میں اسلامی عقائد اور سیرتِ نبوی ﷺ سے گہری وابستگی نمایاں نظر آتی ہے۔" ان کی ایک پُراثر نعت ملاحظہ ہو:

ہے عرش پہ قوسین کی جا، جائے محمد ﷺ
رشکِ یدِ بیضا ہے کفِ پائے محمد ﷺ

عیسیٰؑ سے ہے بڑھ کر لبِ گویائے محمد ﷺ
یوسفؑ سے ہے بڑھ کر رُخِ زیبائے محمد ﷺ

وَالشَّمْس تھے رخسار تو وَاللَّیْل تھیں زلفیں
اک نور کا سورہ تھا سراپائے محمد ﷺ

اندھیرا ہوا کفر کا سب دور جہاں سے
روشن ہوا عالم جو یہاں آئے محمد ﷺ

عصیاں سے بری ہو کے قیامت میں اٹھے گا
بے شک ہے بہشتی جو ہے شیدائے محمد ﷺ

یہ اشعار اس حقیقت کے مظہر ہیں کہ عشقِ رسول ﷺ جب دل میں جاگزیں ہو جائے تو رنگ، نسل، قوم اور مذہب کی تمام حدیں سمٹ جاتی ہیں اور انسان محبت و عقیدت کے ایک ایسے جہان میں داخل ہو جاتا ہے جہاں صرف نسبتِ مصطفیٰ ﷺ باقی رہ جاتی ہے۔

نعت تخلیقِ لوح و قلم سے ہی عرفان و وجدان کی کیفیت لیے جدارِ ایمان بن کر حقانیت اور وحدت کی پاسبان رہی ہے۔ نعت کبھی زبان، عقل، علم، تعلیم یا سند و ڈگری کی محتاج نہیں رہی؛ نعت تو صرف عشق کی متلاشی ہے۔ وہ مجلّیٰ قلوب میں اپنی روشنی بکھیرتی اور دلوں کو محبتِ رسول ﷺ سے منور کرتی رہی ہے۔

نعت تسبیح بھی ہے اور ورد و وظیفہ بھی۔ نعت راہ بھی ہے اور قندیل و چراغ بھی۔ نعت مغفرت بھی ہے اور نجات و شفاعت کا وسیلہ بھی۔ نعت ایمان بھی ہے، عقیدہ و توحید بھی۔ نعت ابلاغ بھی ہے اور تبلیغ و مبلغ بھی۔ نعت نے ہی عشق کی راہوں کو روشن کیا، نعت نے ہی منزل کا سراغ دیا، نعت نے ہی مسافرِ محبت کو سیراب کیا اور نعت نے ہی تاریک قبر کو اجالوں سے آشنا کیا۔

نعت انعام بھی ہے اور نعمت بھی۔ نعت کلیدِ جنت بھی ہے اور اظہارِ یقینِ کامل بھی۔ نعت عبادتوں کا حاصل بھی ہے اور ثنائے خلق کا بہترین پیرایۂ اظہار بھی۔ نعت تہذیب ہے، نعت اعزازِ مودّت ہے، نعت محمودِ نیابت ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ نعت محض ایک صنفِ سخن نہیں بلکہ عشقِ رسول ﷺ کا زندہ استعارہ، ایمان کی لطافت، روح کی بالیدگی اور قلب کی طہارت کا نام ہے۔ "جب تک دنیا میں محبت، وفا اور عقیدت کی خوشبو باقی رہے گی، نعتِ رسول ﷺ اپنے نور سے دلوں کو منور اور روحوں کو معطر کرتی رہے گی۔" نعت بھی اپنے نور سے دلوں کو منور کرتی رہے گی اور اہلِ ایمان کے قلوب میں عشقِ مصطفیٰ ﷺ کی شمع فروزاں رکھے گی۔

📖 خلاصہ

یہ مضمون نعتِ رسولِ اکرم ﷺ کی عظمت، تاریخی ارتقاء اور روحانی اثرات کا ایک جامع اور تحقیقی بیان پیش کرتا ہے۔ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ نعت صرف ایک ادبی صنف نہیں بلکہ عشقِ رسول ﷺ، ایمان کی حرارت اور روح…

✍️ منتظم عاصیؔ — مختصر تعارف

منتظم عاصیؔ
📍 مالیگاؤں، مہاراشٹر، ہندوستان

اپنی بات

محترم قارئین السَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَۃُ اللّـٰهِ وَ بَرْکَاتَہٗ
الحمداللہ.................... بفضلِ خدا وند کریم بفیض محسنِ انسانیت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور جملہ اہلِ بیت اطہار کے توسل اولیائے کاملین کے احسان سے مرشدِ پاک کی نظرِ کمال سے والدین کی دعاؤں شفقت تربیت کا اثر ہے کہ آج میں اپنی تیسری شعری ادبی کتاب طشت ازبام آپ لوگوں تک پہنچانے میں کامیاب رہا
شعر و …

مزید پڑھیں ←
منتظم عاصیؔ کی مزید تحریریں
کربلا – دسویں دن مکمل | کچھ دن ضمیر میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں
## کربلا — دسویں دن 10 محرم 1448ھ جب صبح صرف روشنی نہیں لاتی، تاریخ کا ایک با...
کربلا – نواں دن مکمل | کچھ راتیں انسان کے اندر باقی رہتی ہیں
کربلا — نواں دن 9 محرم 1448ھ بعض دن سورج سے نہیں، دل کی دھڑکن سے پہچانے جاتے ...
کربلا – آٹھواں دن مکمل | کچھ راستے انسان کو معنی دے دیتے ہیں
## کربلا — آٹھواں دن 8 محرم 1448ھ کبھی امتحان سامنے آنے سے پہلے دل اُس کی جگہ...
نشہ — انسانیت کا زوال | نشے کے سماجی، نفسیاتی اور انسانی اثرات پر طویل تحقیقی اردو مضمون
## نشہ — انسانیت کا زوال ### باب اوّل جب انسان اپنے آپ سے دور ہونے لگتا ہے ...
مزید متعلقہ نثر
ہمارا زمانہ
ماہ رمضان میں مساجد و دیگر تقاریر میں ہونے والی تقاریر و بیانات میں مقررین اور...
افسانے کا فن
افسانے کا فن مضمون نگار: علیم طاہر : تعارف افسانہ ادب کی وہ مختصر مگر گ...
تھلاپتی وجے: فلمی دنیا سے عوامی قیادت تک ایک غیر معمولی سفر
تھلاپتی وجے: فلمی دنیا سے عوامی قیادت تک ایک غیر معمولی سفر __________ سپر اسٹ...
انٹرنیٹ کے نقصانات
انٹرنیٹ موجودہ دور کی ایک بڑی سہولت ہے، مگر اس کے ساتھ کئی نقصانات بھی جڑے ہوئے ...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن