اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
غزل
ہاشم حسین انور حسین جمعہ، 8 مئی 2026
👁 13 ❤️ 2
نفرت اُگل رہی ہے حکومت خطاب میں
باقی ہیں چند روز ابھی انتخاب میں
رب نے رکھا ہے جب سے کسی انتخاب میں
"خوشبو کی روح تب سے در آئی گلاب میں"
اس رات کو لکھوں شبِ معراج عمر بھر
سرکارﷺمیرے آئیں گے جس رات خواب میں
بلبل نے پہلے خون سے سینچا جنابِ من
تب جا کے رنگ آیا حنا سا شباب میں
یہ تلخیاں ہیں کیسی اس کا ہے کیا سبب
کیوں جی جناب ہوتا نہیں اب خطاب میں
نزدیک آرہا ہے ترا شہر جس قدر
بڑتی ہی جا رہی ہے تپش آفتاب میں
صدیوں سے راہِ عشق میں دیتے ہیں جو مثال
فرقت کا کس کے داغ لگا ماہتاب میں
تاریخ لکھنے والے خیانت سے باز آ
شامل ہے میرا خون بھی اس انقلاب میں
کپڑوں سے تنگ ہوتے ہیں فیشن کے نام پر
اب کھل کے خود نمائی در آئی حجاب میں
انجام اس کا دیکھے گی ہاشمؔ شبِ فراق
محفل کو چھوڑ کر جو گیا آب و تاب میں
← پچھلا اگلا →
ہاشم حسین انور حسین کی مزید
کل شب جنابِ میر جو آۓ تھے خواب میں ہم نے بھی اپنے شعر سناۓ تھے خواب میں آنکھیں کھلیں نہیں کہ وہ ...
جس نے نصیب اپنا سنوارا نہیں ہے دوست دنیا میں اس کا کوئی سہارا نہیں ہے دوست شکوہ کروں تو کس سے کر...
اُمّتِ محمد کا صلہ سکینہ کیسے بھول جائے کربلا سکینہ ظلم جبر ایسا ظالموں نے ڈھایا خوں بھرا ہوا ...
حصولِ آفریں جن کے سبھی القاب ہوتے ہیں وہ راہِ عشق کے راہی بڑے کم یاب ہوتے ہیں انہیں ہی ہر مسافر ...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن