غزل
ہاشم حسین انور حسین
جمعہ، 8 مئی 2026
👁 11
❤️ 2
سحرا سمندروں کی کہانی سنائے گا
رودادِ تس سراب روانی سنائے گا
اس پر عمل کرے گا نہ کچھ فیض پاۓگا
پڑھ کر وہ جو کتاب زبانی سنائے
آیا ہے ذکر ان کا جو اشعار میں مرے
غم کا وہی تو اصل ، معانی سنائے گا
جس کو سمجھ رہا تھا میں نادار و ناتواں
کیا تھی خبر کے بات شہَانی سنائے گا
پیاسا تمہاری دید کا آنکھوں سے ٹوٹ کر
سیلاب اپنی تشنہ دہانی سنائے گا
ہے جو درون اس کے کہے گا وہ کھل کے آج
یعنی مرے خلاف کہانی سنائے گا
ہاشم کہہ گا اچھے ہیں لمحاتِ ہجر بھی
روکر جو وصل اپنی سنانی سنائے گا
ہاشم حسین انور حسین کی مزید
کل شب جنابِ میر جو آۓ تھے خواب میں
ہم نے بھی اپنے شعر سناۓ تھے خواب میں
آنکھیں کھلیں نہیں کہ وہ ...
جس نے نصیب اپنا سنوارا نہیں ہے دوست
دنیا میں اس کا کوئی سہارا نہیں ہے دوست
شکوہ کروں تو کس سے کر...
اُمّتِ محمد کا صلہ سکینہ
کیسے بھول جائے کربلا سکینہ
ظلم جبر ایسا ظالموں نے ڈھایا
خوں بھرا ہوا ...
حصولِ آفریں جن کے سبھی القاب ہوتے ہیں
وہ راہِ عشق کے راہی بڑے کم یاب ہوتے ہیں
انہیں ہی ہر مسافر ...



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!