افسانچہ
پودا
علیم طاہرؔ
ہفتہ، 23 مئی 2026
👁 24
❤️ 1
باپ روز پودے کو پانی دیتا تھا۔
بیٹا ہنستا:
"اتنی محنت ایک چھوٹے پودے کیلئے؟"
کچھ سال بعد
وہی درخت گھر کو سایہ دے رہا تھا۔
باپ آہستہ سے بولا:
"رشتے بھی ایسے ہی ہوتے ہیں۔"
علیم طاہرؔ کی مزید تحریریں
ڈاکٹر بشیر بدر: محبت، درد اور تہذیبِ غزل کا روشن باب | شخصیت، شاعری اور ادبی خدمات
ڈاکٹر بشیر بدر: محبت، درد اور تہذیبِ غزل کا روشن باب ایک ایسا شاعر جس کے اشعار ل...
چراغِ آخر
بوڑھا شاعر اپنی آخری نظم لکھ رہا تھا۔ بیٹے نے پوچھا: "اب اس عمر میں کیوں لک...
بند کتاب
بوڑھا استاد روز اپنی پرانی کتابیں صاف کرتا تھا۔ بیٹے نے کہا: "اب اِنہیں کون...
آئس کریم
چھوٹا بچہ آئس کریم والے کو حسرت سے دیکھ رہا تھا۔ ایک اجنبی نے اُسے آئس کریم خرید...
مزید متعلقہ نثر
لفافہ
بوڑھے باپ نے بیٹے کو عید پر ایک لفافہ دیا۔ بیٹے نے بےدلی سے کھولا۔ اندر صرف دس ر...
دستک
وہ ہمیشہ غریب رشتہ داروں سے کتراتا تھا۔ فون تک نہیں اٹھاتا تھا۔ ایک رات اُس کے د...
بھکاری
وہ فقیر مسجد کے باہر خاموش بیٹھا تھا۔ ایک آدمی نے حقارت سے کہا: "کام کیوں ن...
سیلفی
حادثے میں زخمی آدمی سڑک پر پڑا تھا۔ کچھ لوگ مدد کے بجائے ویڈیو بنا رہے تھے۔ ایک ...



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!