افسانچہ
پودا
علیم طاہرؔ
ہفتہ، 23 مئی 2026
👁 20
❤️ 1
باپ روز پودے کو پانی دیتا تھا۔
بیٹا ہنستا:
"اتنی محنت ایک چھوٹے پودے کیلئے؟"
کچھ سال بعد
وہی درخت گھر کو سایہ دے رہا تھا۔
باپ آہستہ سے بولا:
"رشتے بھی ایسے ہی ہوتے ہیں۔"
علیم طاہرؔ کی مزید تحریریں
ڈاکٹر بشیر بدر: محبت، درد اور تہذیبِ غزل کا روشن باب | شخصیت، شاعری اور ادبی خدمات
## ڈاکٹر بشیر بدر: محبت، درد اور تہذیبِ غزل کا روشن باب
### ایک ایسا شاعر جس کے...
چراغِ آخر
بوڑھا شاعر اپنی آخری نظم لکھ رہا تھا۔
بیٹے نے پوچھا:
"اب اس عمر میں کیوں ...
بند کتاب
بوڑھا استاد روز اپنی پرانی کتابیں صاف کرتا تھا۔
بیٹے نے کہا:
"اب اِنہیں ک...
آئس کریم
چھوٹا بچہ آئس کریم والے کو حسرت سے دیکھ رہا تھا۔
ایک اجنبی نے اُسے آئس کریم خری...
مزید متعلقہ نثر
گھنٹی
بوڑھی ماں ہر آواز پر دروازے کی طرف دیکھتی تھی۔
ایک دن گھنٹی بجی۔
وہ خوشی سے دو...
سکّہ
امیر آدمی نے فقیر کو ایک سکّہ دیا
اور تصویر کھنچوا لی۔
پاس کھڑے بچے نے اپنی آد...
عید
امیر بچے عید پر نئے کپڑے دکھا رہے تھے۔
ایک غریب بچہ خاموش کھڑا تھا۔
دوست نے پو...
درخت
باپ نے گھر کے سامنے ایک پودا لگایا تھا۔
بیٹا اکثر مذاق اڑاتا:
"اس سے کیا ...



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!