غزل
ہاشم حسین انور حسین
جمعہ، 8 مئی 2026
👁 55
❤️ 5
کل شب جنابِ میر جو آۓ تھے خواب میں
ہم نے بھی اپنے شعر سناۓ تھے خواب میں
آنکھیں کھلیں نہیں کہ وہ یکسر ہوا ہوئے
گلشن جو چاہتوں کے سجائے تھے خواب میں
یکلخت ابھر کے آگئی تصویر یار کی
پہلے تو کچھ لطیف سے سایے تھے خواب میں
بیدار جب ہوۓ تو کہا چاند چاہیے
جس دن ستارے توڑکے لاۓ تھے خواب میں
ڈھڑکن کے تار مل گئے سانسیں ملیں گلے
اتنے قریب میرے وہ آۓ تھے خواب میں
اب تک ہے جاری عید منانے کا سلسلہ
وہ دو گھڑی کے واسطے آۓ تھے خواب میں
جس کا نشہ چڑھا رہا ہاشمؔ تمام عمر
آنکھوں سے وہ شراب پلاۓ تھے خواب میں
ہاشم حسین انور حسین کی مزید
کل شب جنابِ میر جو آۓ تھے خواب میں
ہم نے بھی اپنے شعر سناۓ تھے خواب میں
آنکھیں کھلیں نہیں کہ وہ ...
جس نے نصیب اپنا سنوارا نہیں ہے دوست
دنیا میں اس کا کوئی سہارا نہیں ہے دوست
شکوہ کروں تو کس سے کر...
اُمّتِ محمد کا صلہ سکینہ
کیسے بھول جائے کربلا سکینہ
ظلم جبر ایسا ظالموں نے ڈھایا
خوں بھرا ہوا ...
حصولِ آفریں جن کے سبھی القاب ہوتے ہیں
وہ راہِ عشق کے راہی بڑے کم یاب ہوتے ہیں
انہیں ہی ہر مسافر ...



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!