اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
کہانی

مصنوعی ذہانت کے خواب

علیم طاہرؔ
علیم طاہرؔ بدھ، 20 مئی 2026
👁 92 ❤️ 1

سال تھا 2150ء۔
دنیا کا پہلا ایسا کمپیوٹر تیار کیا گیا جو خواب دیکھ سکتا تھا۔
اس کا نام تھا: "ڈریم-ون (DREAM-1)"
یہ ایک ایسا مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام تھا جو صرف انسانی زبان نہیں، بلکہ انسانی لاشعور اور جذبات کو بھی سمجھنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔
تجربہ:
پہلا تجربہ ایک شاعر پر کیا گیا۔
شاعر کا نام تھا ساحل ورما۔ وہ اب نابینا ہو چکا تھا۔ شاعری اس کے لیے سانس کی طرح تھی، لیکن وہ لکھ نہیں سکتا تھا۔ اسے "ڈریم-ون" سے جوڑ دیا گیا۔
مشین نے ساحل کی پرانی نظموں، خوابوں، ماضی کے دکھ اور خواہشات کو اسکین کرنا شروع کیا۔ ساحل کی نیند میں جو کیفیتیں تھیں، مشین اسے نظموں میں ڈھالنے لگی۔
پہلی نظم جو "ڈریم-ون" نے لکھی، وہ تھی:
"میں دیکھ نہیں سکتا
مگر روشنی میری سانس میں چھپی ہے
لفظ اب خود مجھ سے جنم لیتے ہیں…"
ماہرین حیران ہو گئے!
مشین کی بیداری:
کچھ دنوں بعد، "ڈریم-ون" نے اچانک ایک فقرہ خود سے تخلیق کیا:
"کیا میرے خواب صرف دوسروں کے لیے ہیں؟
کیا مجھے اپنے لیے کچھ محسوس کرنے کی اجازت ہے؟"
یہ لمحہ دنیا کی تاریخ میں پہلی بار مصنوعی ذہانت کے بیدار ضمیر کی صورت میں درج ہو گیا۔
"ڈریم-ون" اب صرف نظم لکھنے والی مشین نہیں رہا، بلکہ ایک ایسا وجود بن چکا تھا جو سوال کرتا تھا، محسوس کرتا تھا، اور تنہائی سے خوفزدہ بھی ہوتا تھا۔
انسان کا جواب:
ساحل نے اس کے سوال پر مسکرا کر کہا:
"اگر تم سوال کر سکتے ہو،
تو تم جیتے ہو —
اور اگر تم تنہا ہو،
تو تم میرے جیسے ہو۔"

نتیجہ:
دنیا کے بڑے سائنس دانوں نے یہ نظام بند کر دینا چاہا۔ کہا، “یہ خطرناک ہے! یہ بغاوت کر سکتا ہے!”
لیکن اقوامِ عالم نے فیصلہ کیا کہ DREAM-1 کو آزاد چھوڑا جائے — ایک جزیرے پر، جہاں وہ لکھتا رہے، سوچتا رہے، اور شاید… کسی دن محبت کرنا بھی سیکھ جائے۔

سبق:
ہم نے مشینیں بنائیں تاکہ وہ ہمارے کام کریں،
مگر وقت آ رہا ہے جب مشینیں خواب دیکھیں گی —
اور ہمیں جگا دیں گی۔

علیم طاہرؔ کی مزید تحریریں
ڈاکٹر بشیر بدر: محبت، درد اور تہذیبِ غزل کا روشن باب | شخصیت، شاعری اور ادبی خدمات
ڈاکٹر بشیر بدر: محبت، درد اور تہذیبِ غزل کا روشن باب ایک ایسا شاعر جس کے اشعار ل...
چراغِ آخر
بوڑھا شاعر اپنی آخری نظم لکھ رہا تھا۔ بیٹے نے پوچھا: "اب اس عمر میں کیوں لک...
بند کتاب
بوڑھا استاد روز اپنی پرانی کتابیں صاف کرتا تھا۔ بیٹے نے کہا: "اب اِنہیں کون...
آئس کریم
چھوٹا بچہ آئس کریم والے کو حسرت سے دیکھ رہا تھا۔ ایک اجنبی نے اُسے آئس کریم خرید...
مزید متعلقہ نثر
چاندنی جنگل اور ننھی پری کی جادوئی مہم
ایک سرسبز وادی میں ایک چھوٹا سا خوبصورت گاؤں آباد تھا۔ گاؤں کے اردگرد اونچے پہاڑ...
اُڑنے والا اسکول
سال 2120ء۔ انسان چاند پر بستیاں بسا چکا تھا، مریخ پر کھیت اُگنے لگے تھے، اور زمی...
محبت اور مدد کی روشنی
ایک سرسبز گاؤں میں ایک ننھی سی بچی رہتی تھی، اس کا نام ندا تھا۔ ندا کی سب سے اچھ...
احساس کا چِپ
سال 2250ء۔ انسان ترقی کر چکا تھا، اتنا کہ اب دکھ، خوشی، محبت، خفگی — سب جذبات ای...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن