غزل
ہاشم حسین انور حسین
جمعہ، 8 مئی 2026
👁 27
❤️ 4
جس نے نصیب اپنا سنوارا نہیں ہے دوست
دنیا میں اس کا کوئی سہارا نہیں ہے دوست
شکوہ کروں تو کس سے کروں کس لیے بتا
میں نے ہی وقتِ آک پکارا نہیں ہے دوست
تو جو کہے تو چھوڑ دوں میں زندگی کا ساتھ
واللہ تجھ سے کوئی بھی پیارا نہیں ہے دوست
اک پل جدا ہوا تو یہ احساس ہوگیا
تیرے بغیر میرا گزارا نہیں ہے دوست
دنیا سمجھ رہی ہے کہ میں فتحیاب ہوں
لیکن رہے یہ یاد تو ہارا نہیں ہے دوست
ڈوبا اسی میں جا کے سفینہ حیات کا
جس بحرِ بیکراں کا کنارہ نہیں ہے دوست
ہاشمؔ ، وفورِ شوق کی منزل کہے جسے
وہ شہرِ خوشخصال تمہارا نہیں ہے دوست
ہاشم حسین انور حسین کی مزید
کل شب جنابِ میر جو آۓ تھے خواب میں
ہم نے بھی اپنے شعر سناۓ تھے خواب میں
آنکھیں کھلیں نہیں کہ وہ ...
جس نے نصیب اپنا سنوارا نہیں ہے دوست
دنیا میں اس کا کوئی سہارا نہیں ہے دوست
شکوہ کروں تو کس سے کر...
اُمّتِ محمد کا صلہ سکینہ
کیسے بھول جائے کربلا سکینہ
ظلم جبر ایسا ظالموں نے ڈھایا
خوں بھرا ہوا ...
حصولِ آفریں جن کے سبھی القاب ہوتے ہیں
وہ راہِ عشق کے راہی بڑے کم یاب ہوتے ہیں
انہیں ہی ہر مسافر ...



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!