اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
غزل
عمران طالبٓ جمعرات، 30 اپریل 2026
👁 31 ❤️ 2
ایسے بکھری دوات کاغذ پر
جیسے تم ہو بذات کاغذ پر
آنکھ تیری بنا رہا تھا میں
بن گئی کائنات کاغذ پر
بعد برسوں کے ہو رہا ہے مجھے
تیرا محسوس ہاتھ کاغذ پر
عکس احساس سسکیاں دھڑکن
آگئے ساتھ ساتھ کاغذ پر
جو بھی آتا ہے دل میں لکھتا ہے
کچھ برت احتیاط کاغذ پر
خط کے ہر لفظ سے یہ لگتا ہے
جیسے ہو خواہشات کا غذ پر
جو خیالو میں تھے وہ سب آۓ
خود بخود لفظیات کاغذ پر
نام لیوا نہیں کوئی باقی
بس گئی شخصیات کاغذ پر
دن گزرتا ہے کشمکش میں اور
بیت جاتی ہے رات کا غذ پر
اب مکمل ہی کر کے جاؤ تم
نا مکمل سی بات کاغذ پر
شعر کی شکل میں اتر آیا
میرا نقشِ حیات کاغذ پر
جانے کب سے لگائے بیٹھی تھی
تیری تعریف گھات کاغذ پر
میں نے سنہری روشنائی سے
لکھ کے بھیجا ہے بات کاغذ پر
نعت لکھتے ہی بن گئی میری
مغفرت کی صراط کاغز پر
آ مرے پاس بیٹھ کر طالب
میں نہیں کرتا بات کاغذ پر
← پچھلا اگلا →

✍️ عمران — مختصر تعارف

📍 مالیگاؤں

نام انصاری عمران احمد عبداللہ
قلمی نام عمران طالبٓ
تاریخ پیدائش 12فروری 1998
مقام مالیگاؤں
آبائی وطن مالیگاؤں
شاعری کی ابتدا اپریل 2023
پسندیدہ صنف غزل،نعوت و مناقب
شرفِ تلمذ منتظم عاصی
روزگار اسکول بیگ میکر
تعلیم بارہویں اردو
مشغلہ شاعری

غزل کیا ہے؟

غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔

عمران طالبٓ کی مزید
قید جو تھے کبھی بشارت میں ہو رہے ہیں وہ اب حقیقت میں عشق میں کتنے دار پر آۓ درج یہ بھی کرو ر...
عام ہیں قصے زندگانی کے بند اوراق ہیں جوانی کے کوئی سمجھا نہیں نہ سمجھے گا راز ایسے ہیں دارفا...
عشق سے انتقال کر تے ہیں ہجر کا جو ملال کرتے ہیں یاد کر کر کے ظلم جبر تیرا اپنی آنکھوں کو لال...
آپ کا فیصلہ یہی ہے کیا آخری راستہ یہی ہے کیا ہجر یادیں ملال تنہائی کیا وفا کا صلہ یہی ہے کیا ...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن