کربلا – پانچواں دن مکمل | بعض دن انسان کے اندر رہ جاتے ہیں | سلسلہ نمبر5
کربلا — پانچواں دن 5 محرم 1448ھجب راستہ بدلتا نہیں مگر احساس بدلنے لگتا ہے
صبح پھر آئی۔
آسمان نے پھر روشنی اوڑھی۔
زمین نے پھر قدموں کو قبول کیا۔
اور قافلہ—
وہ حسبِ معمول آگے بڑھنے لگا۔
لیکن بعض دن معمول جیسے نہیں ہوتے۔
وہ باہر سے ویسے ہی دکھائی دیتے ہیں،
مگر اندر سے بدل چکے ہوتے ہیں۔
پانچ دن گزر چکے تھے۔
پانچ دن پہلے جو سفر شروع ہوا تھا
اب اُس کی آواز بدلنے لگی تھی۔
ابتدا کی خاموشی اب ایک اور کیفیت اختیار کر رہی تھی۔
ایسا لگتا تھا
جیسے وقت آہستہ آہستہ اپنا رخ ظاہر کر رہا ہو۔
راستے اب نئے نہیں رہے تھے۔
گرد اب اجنبی نہیں رہی تھی۔
سفر اب حیرت نہیں رہا تھا۔
لیکن کچھ اور بدلنے لگا تھا۔
احساس۔
کبھی انسان راستہ نہیں بدلتا—
صرف اُس کا راستے کو دیکھنے کا انداز بدل جاتا ہے۔
شاید یہی اس دن کی کیفیت تھی۔
قافلہ اپنی ترتیب سے چل رہا تھا۔
قدم ویسے ہی اٹھ رہے تھے۔
لیکن دلوں میں اب پہلے جیسی وسعت کے ساتھ
ایک سنجیدگی بھی شامل ہونے لگی تھی۔
کیونکہ بعض سفر جتنے آگے بڑھتے ہیں
اُتنا انسان اُنہیں سمجھنے لگتا ہے۔
اور سمجھ لینا—
ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔
سفر میں ایک لمحہ آتا ہے
جہاں انسان خود سے سوال نہیں کرتا۔
وہ صرف خاموش ہو جاتا ہے۔
اور خاموشی کے اندر جواب آنے لگتے ہیں۔
یہ دن شاید ویسا ہی تھا۔
ابھی کچھ ظاہر نہیں ہوا تھا۔
ابھی راستہ ویسا ہی تھا۔
مگر وقت کی چال بدلنے لگی تھی۔
اور وقت جب بدلتا ہے
تو پہلے انسان کا دل محسوس کرتا ہے—
تاریخ بعد میں لکھتی ہے۔
سورج بلند ہونے لگا۔
افق دور تک پھیلا رہا۔
ہوا چلتی رہی۔
قافلہ بڑھتا رہا۔
اور خاموش راستہ
اپنے اندر آنے والے دنوں کی آہٹ محفوظ کرتا رہا۔
پانچواں دن شروع ہو چکا تھا۔
اور ابھی—
بہت کچھ باقی تھا۔کچھ دن انسان کو آگے نہیں بڑھاتے، اندر اتار دیتے ہیں
دن آگے بڑھ رہا تھا۔
سورج اپنی روشنی کے ساتھ آسمان پر پھیل چکا تھا۔
زمین گرم تھی۔
راستہ کھلا ہوا تھا۔
اور قافلہ—
اپنی ترتیب سے آگے بڑھ رہا تھا۔
پانچ دن۔
اتنا وقت کافی ہوتا ہے
کہ سفر انسان کے لباس سے نکل کر
اُس کی طبیعت میں داخل ہو جائے۔
اب راستہ صرف سامنے نہیں تھا۔
اب وہ اندر بھی چل رہا تھا۔
پہلے دنوں میں انسان منزل کے بارے میں سوچتا ہے۔
پھر ایک وقت آتا ہے
جہاں وہ سوچنا چھوڑ دیتا ہے۔
اور صرف اپنے قدم درست رکھتا ہے۔
شاید یہی سفر کی پختگی ہوتی ہے۔
قافلے کے چہروں پر اضطراب نہیں تھا۔
بے صبری نہیں تھی۔
صرف ایک خاموش سنجیدگی تھی۔
ایسی سنجیدگی
جو بڑے فیصلوں کے ساتھ آتی ہے۔
کبھی انسان راستے سے نہیں تھکتا۔
وہ صرف اُس سوال سے تھکتا ہے
جس کا جواب ابھی سامنے نہیں آیا ہوتا۔
مگر بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں
جو جواب آنے سے پہلے بھی
اپنے راستے سے وفادار رہتے ہیں۔
یہ دن شاید وفاداری کی خاموش شکل تھا۔
آسمان ویسا ہی تھا۔
زمین بھی۔
لیکن انسان بدلنے لگا تھا۔
جب سفر طویل ہو
تو آدمی اپنے اندر بہت کچھ دیکھ لیتا ہے۔
جو ضروری تھا۔
جو غیر ضروری تھا۔
اور جو ہمیشہ کے لیے ساتھ رہنے والا ہے۔
شاید یہی وجہ ہے
کہ بڑے سفر انسان کو چھوٹا نہیں کرتے—
گہرا کر دیتے ہیں۔
وقت اب آہستہ آہستہ اپنا رنگ بدلنے لگا تھا۔
ابھی کچھ واضح نہیں تھا۔
مگر فضا میں ایک ایسی کیفیت پیدا ہونے لگی تھی
جسے لفظوں میں بیان کرنا آسان نہیں۔
جیسے ہوا کوئی خبر جانتی ہو۔
جیسے افق کے پیچھے کوئی منظر تیار ہو رہا ہو۔
قافلہ چلتا رہا۔
قدم اپنی رفتار سے اٹھتے رہے۔
اور خاموش راستے نے
ایک اور دن اپنے اندر محفوظ کر لیا۔وقت جب قریب آتا ہے تو خاموش ہو جاتا ہے
دن آدھا گزر چکا تھا۔
سورج آسمان پر بلند تھا۔
زمین اپنی گرمی کے ساتھ پھیلی ہوئی تھی۔
اور قافلہ—
وہ ویسے ہی چل رہا تھا جیسے پچھلے دنوں سے چلتا آیا تھا۔
لیکن بعض اوقات سب کچھ ویسا رہتا ہے
اور پھر بھی سب کچھ بدلنے لگتا ہے۔
یہ تبدیلی آواز سے نہیں آتی۔
یہ دل میں اترتی ہے۔
پانچویں دن کی کیفیت شاید کچھ ایسی ہی تھی۔
راستہ اب اجنبی نہیں رہا تھا۔
تھکن بھی اب شکایت نہیں رہی تھی۔
انسان بعض چیزوں کو بدل نہیں سکتا—
تو اُن کے ساتھ چلنا سیکھ لیتا ہے۔
اور شاید یہی سفر کا پہلا سبق ہوتا ہے۔
اب قافلے میں خاموشی پہلے جیسی نہیں تھی۔
یہ وہ خاموشی نہیں تھی
جو رخصتی کے بعد آتی ہے۔
یہ وہ خاموشی بھی نہیں تھی
جو انتظار کے دنوں میں پیدا ہوتی ہے۔
یہ ایک اور طرح کی خاموشی تھی—
جیسے انسان اپنے اندر کسی آنے والی بات کے لیے جگہ بنا رہا ہو۔
کبھی انسان کو کوئی خبر نہیں ملتی۔
کوئی نشان نہیں ملتا۔
پھر بھی وہ محسوس کر لیتا ہے—
وقت قریب آ رہا ہے۔
اور وقت جب قریب آتا ہے
تو زیادہ شور نہیں کرتا۔
وہ خاموش ہو جاتا ہے۔
یہ دن بھی شاید ایسا ہی تھا۔
قافلہ چلتا رہا۔
افق ویسا ہی تھا۔
سورج ویسا ہی تھا۔
لیکن دل—
وہ پہلے جیسا نہیں رہا تھا۔
بعض سفر انسان کو منزل سے پہلے بدل دیتے ہیں۔
وہ انسان کو سکھاتے ہیں
کہ یقین کا مطلب سب جان لینا نہیں۔
یقین کا مطلب یہ ہے—
کہ سب نہ جانتے ہوئے بھی
اپنے راستے سے وفادار رہا جائے۔
دن ڈھلنے لگا۔
ہوا میں ایک نرمی آنے لگی۔
ریت کے ذروں پر روشنی بدلنے لگی۔
اور انسان کو محسوس ہونے لگا—
وقت گزر نہیں رہا،
کچھ تیار کر رہا ہے۔
شاید اسی لیے
بعض دن بعد میں یاد آتے ہیں
اور انسان کہتا ہے:
اصل تبدیلی تو خاموشی میں شروع ہوئی تھی۔
قافلہ آگے بڑھتا رہا۔
اور پانچویں دن نے
اپنے اندر ایک اور خاموش باب محفوظ کر لیا۔جب شام اترتی ہے تو انسان اپنے فیصلوں کو دوبارہ پڑھتا ہے
شام اترنے لگی۔
سورج کی روشنی اب پہلے جیسی تیز نہیں رہی تھی۔
آسمان کے کناروں پر رنگ بدلنے لگے تھے۔
ریت پر پڑنے والے سائے لمبے ہو گئے تھے۔
اور قافلہ—
وہ اب بھی اپنی رفتار سے چل رہا تھا۔
مگر کچھ سفر ایسے ہوتے ہیں
جہاں رفتار نہیں بدلتی—
احساس بدل جاتا ہے۔
پانچ دن گزر چکے تھے۔
ابتدا کا شور خاموش ہو چکا تھا۔
راستہ اب مانوس تھا۔
تھکن بھی اب قبول ہو چکی تھی۔
لیکن انسان جب مسلسل چلتا ہے
تو ایک وقت آتا ہے
جہاں وہ خود سے سوال نہیں کرتا—
اپنے فیصلے کو دیکھتا ہے۔
یہ شام شاید ویسی ہی شام تھی۔
کبھی انسان راستہ اس لیے نہیں چنتا
کہ وہ آسان ہے۔
وہ اس لیے چنتا ہے
کہ وہ اُس کے دل کو سچا لگتا ہے۔
اور پھر جب راستہ لمبا ہو جائے
تو انسان ہر دن اپنے انتخاب کو دوبارہ جیتتا ہے۔
یہی استقامت ہے۔
قافلے میں خاموشی تھی۔
لیکن خاموشی کبھی خالی نہیں ہوتی۔
وہ اپنے اندر بہت کچھ رکھتی ہے۔
یادیں۔
سوچیں۔
دعائیں۔
اور کبھی کبھی وہ سوال
جن کا جواب وقت دیتا ہے۔
دن اب اختتام کی طرف بڑھ رہا تھا۔
سورج نیچے اتر رہا تھا۔
ہوا میں ایک نرمی تھی۔
لیکن دل کے اندر ایک گہرائی بڑھ رہی تھی۔
جیسے سفر انسان سے کہہ رہا ہو:
اب تم صرف چل نہیں رہے—
تم بدل رہے ہو۔
شاید بڑے سفر ایسے ہی ہوتے ہیں۔
وہ انسان کو منزل نہیں دیتے—
پہلے اُسے اُس قابل بناتے ہیں
کہ وہ منزل کا وزن اٹھا سکے۔
رات قریب آ رہی تھی۔
اور رات ہمیشہ انسان کو اُس کے اندر لے جاتی ہے۔
ابھی دن باقی تھے۔
ابھی راستہ باقی تھا۔
مگر پانچویں دن نے اتنا ضرور سکھا دیا تھا—
کہ بعض خاموشیاں
آنے والے زمانوں کی آواز ہوتی ہیں۔
سورج افق کے پیچھے اتر گیا۔
شام مکمل ہو گئی۔
اور سفر—
وہ خاموشی سے اگلے دن کی طرف بڑھنے لگا۔بعض دن گزر نہیں جاتے، انسان کے اندر رہ جاتے ہیں
رات اتر چکی تھی۔
سورج اپنی روشنی واپس لے گیا تھا۔
ریت اب دن کی تپش چھوڑ کر خاموش ہو گئی تھی۔
آسمان پر ستارے نمودار تھے۔
اور قافلہ—
وہ ایک اور دن اپنے پیچھے چھوڑ چکا تھا۔
پانچ دن۔
بظاہر یہ صرف وقت تھا۔
مگر بعض دن وقت نہیں ہوتے—
وہ انسان کے اندر ایک نئی جگہ بنا دیتے ہیں۔
پانچویں دن کے اختتام تک
سفر اب عادت نہیں رہا تھا۔
یہ ایک شعور بننے لگا تھا۔
اب انسان صرف یہ نہیں دیکھتا
کہ کتنا راستہ باقی ہے—
وہ یہ بھی محسوس کرنے لگتا ہے
کہ وہ خود کتنا بدل چکا ہے۔
یہ دن شاید اسی تبدیلی کا دن تھا۔
کوئی بڑا منظر سامنے نہیں آیا۔
کوئی اعلان نہیں ہوا۔
کوئی آخری باب نہیں کھلا۔
لیکن بعض اوقات اصل تبدیلی
واقعات سے پہلے آتی ہے۔
پہلے دل تیار ہوتا ہے—
پھر وقت اپنے فیصلے دکھاتا ہے۔
رات کی خاموشی میں
دن کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے۔
اور جب انسان مسلسل سفر میں ہو
تو اُسے محسوس ہونے لگتا ہے
کہ ہر قدم صرف زمین پر نہیں پڑتا—
کچھ قدم دل کے اندر بھی اترتے ہیں۔
قافلہ خاموش تھا۔
مگر خاموشی کے اندر کمزوری نہیں تھی۔
یہ وہ سکون تھا
جو انسان کو اُس وقت ملتا ہے
جب وہ جانتا ہو—
راستہ مشکل ہو سکتا ہے،
مگر مقصد واضح ہے۔
بعض لوگ منزل تک پہنچ کر بدلتے ہیں۔
اور بعض لوگ منزل سے پہلے۔
یہ سفر شاید دوسرا سفر تھا۔
ابھی آگے دن باقی تھے۔
ابھی وقت نے اپنی ساری گرہیں نہیں کھولی تھیں۔
مگر پانچویں دن نے جیسے آہستہ سے اتنا کہہ دیا:
جو راستہ اصول کے لیے اختیار کیا جائے—
وہ تھکاتا ضرور ہے،
مگر خالی نہیں لوٹاتا۔
رات گہری ہوتی گئی۔
آسمان خاموش رہا۔
اور آنے والا دن—
اب صرف ایک اور دن نہیں ہونے والا تھا۔
سفر اب اپنی اگلی کیفیت کے قریب پہنچ رہا تھا۔
پانچویں دن کی یہ تحریر اُس مرحلے کو بیان کرتی ہے جہاں سفر صرف فاصلے طے نہیں کرتا بلکہ انسان کے اندر ایک نئی بصیرت پیدا کرتا ہے۔ خاموشی گہری ہوتی ہے، سوال واضح ہونے لگتے ہیں اور مقصد کے ساتھ تعلق مزید …
✍️ منتظم عاصیؔ — مختصر تعارف
اپنی بات
محترم قارئین السَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَۃُ اللّـٰهِ وَ بَرْکَاتَہٗ
الحمداللہ.................... بفضلِ خدا وند کریم بفیض محسنِ انسانیت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور جملہ اہلِ بیت اطہار کے توسل اولیائے کاملین کے احسان سے مرشدِ پاک کی نظرِ کمال سے والدین کی دعاؤں شفقت تربیت کا اثر ہے کہ آج میں اپنی تیسری شعری ادبی کتاب طشت ازبام آپ لوگوں تک پہنچانے میں کامیاب رہا
شعر و …



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!