غزل
ہاشم
اتوار، 26 اپریل 2026
👁 13
❤️ 1
گزری راتوں کے آؤ خواب لکھیں
"اک غزل ہم بھی کامیاب لکھیں"
ایسا کوئی نہیں ہے محفل میں
جس کو ہم اپنا انتخاب لکھیں
اپنی قسمت میں اپنے ہاتھوں سے
زیست کی تجھ کو آب و تاب لکھیں
آپ نے لکّھی جھیل سی آنکھیں
اب مٹا کر اسے شراب لکھیں
زخم فرقت وصال کے قصے
اس قدر ہیں کہ ہم کتاب لکھیں
کاش خط اس کا کوئی آئے پھر
کاش ہم خط کا پھر جواب لکھیں
آؤ ہاشمٓ سجی ہے بزمِ غزل
سنگ دل کو حیاتِ آب لکھیں
آو ہاشم اسی بہانے سے
اپنے شعروں کا احتساب لکھیں
ہاشم انور ہاشمٓ
مالیگاؤں ناشک مہارشٹرا
9139721214
ہاشم کی مزید
ذکرِ صلّیِ اعلیٰ مصطفیٰ مصطفیٰؐ
دردِ دل کی دوا مصطفیٰ مصطفیٰؐ
دھیرے دھیرے سے آنکھوں کو کھولے علی...
راہِ الفت میں یوں نکلتا ہوں
روز بنتا ہوں اور بکھرتا ہوں
حادثے مجھ سے دور رہتے ہیں
لےکے ماں کی د...
ربِ حق ہوتے ہوئے، میں نہ تَو، تُو دیکھا ہے
ہم کے احساس کو خود کرتے وضو دیکھا ہے
کہیں کٹتا ہوا ال...
بس تری ذات شانِ برکت ہے
تیرے قبضے میں ساری قدرت ہے
تیری تخلیق لاشریکَ لہٗ
تیری رحمت سے محوِ رحم...



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!