غزل
ہاشم
اتوار، 26 اپریل 2026
👁 22
❤️ 2
ربِ حق ہوتے ہوئے، میں نہ تَو، تُو دیکھا ہے
ہم کے احساس کو خود کرتے وضو دیکھا ہے
کہیں کٹتا ہوا الفت کا گلو دیکھا ہے
دامنِ دل کو کہیں کرتے رفو دیکھا ہے
کہیں پر ساس، کہیں روتی بہو دیکھا ہے
”ہم نے تہذیب کی آنکھوں میں لہو دیکھا ہے“
رکھ کے سر شب کی ہتھیلی پہ قمر سوئے جب
لوریاں گاتے ستاروں کو کبھو دیکھا ہے؟
پارسائی کی قسم کھاتی ہے دنیا جس کی
اس کے ہاتھوں میں مصلے پہ سُبو دیکھا ہے
شرک و بدعات سے کچھ آگے نکل کر ہم نے
عشق والوں کا فقط ایک کفو دیکھا ہے
راہِ الفت میں کسی موڑ پہ چاہا جس نے
ہاشمؔ انور کا کھلا ہم نے قبو دیکھا ہے
ہاشم کی مزید
ذکرِ صلّیِ اعلیٰ مصطفیٰ مصطفیٰؐ
دردِ دل کی دوا مصطفیٰ مصطفیٰؐ
دھیرے دھیرے سے آنکھوں کو کھولے علی...
راہِ الفت میں یوں نکلتا ہوں
روز بنتا ہوں اور بکھرتا ہوں
حادثے مجھ سے دور رہتے ہیں
لےکے ماں کی د...
گزری راتوں کے آؤ خواب لکھیں
"اک غزل ہم بھی کامیاب لکھیں"
ایسا کوئی نہیں ہے محفل میں
ج...
بس تری ذات شانِ برکت ہے
تیرے قبضے میں ساری قدرت ہے
تیری تخلیق لاشریکَ لہٗ
تیری رحمت سے محوِ رحم...



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!