اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
افسانہ

وحشت دروں

وحشت دروں
ارم رحمٰن
ارم رحمٰن پیر، 25 مئی 2026
👁 11 ❤️ 1

جون کی گرم چمکیلی دوپہر۔۔۔نیلگوں صاف شفاف آسمان
ایک شوخ و چنچل طائر خراماں خراماں محو سفر تھا۔۔۔ اپنی اڑان پہ نازاں۔۔۔تیز ہوا کے دوش پہ تیرتا۔۔۔پروں کولہراتا ادائے بے نیازی سے اڑا جارہاتھا۔۔
کبھی تیزوتند لہروں کی طرح بہت اوپر اور کبھی بہت نیچے۔۔۔
کہ اچانک ایک زوردار جھٹکے سے کسی چیز سے ٹکرایا۔۔ہوش حواس کچھ بحال ہوئے تو خود کو ایک چمکتی ریسمان میں جکڑاپایا۔۔
بہت پھڑپھڑایا۔۔۔چیخا چلایا۔۔۔ پرنم آنکھوں سے ہر سو دیکھا ۔۔۔مگر کوئی نہ تھا اسکی آہ و بکا سننے والا۔۔۔ صیاد بازی جیت گیا تھا۔۔۔
اس جال سے لڑتے لڑتے تھک کے چور ہو گیا۔۔زخمی اور نڈھال۔۔۔ پیاسا ۔۔۔مایوس۔۔۔ تو وہیں ساکت ہوگیا۔۔۔
صیاد کو علم ہی نہ تھاکہ ایک نادر ونایاب طائر اسکی گرفت میں آچکا تھا۔۔صیاد نے نگاہ التفات ڈالی تو طائر کی خشمگیں نظر اسے بےچین کر گئ۔۔ اسکے نرم گرم اور زخمی وجود پہ اس نے ہاتھ پھیرا اور اس کے رستے زخموں پہ اپنے لمس کی شگفتگی سے مرہم لگایا۔۔
پھر جب یک لخت طائر کی طرف دیکھا تو طائر کی چشم تر طمانیت سے بھر گئی تھی۔۔۔
صیاد کے پیاروپچکار اور لمس لطیف کا اثر اتنا گہرا تھا کہ طائر کے لیے ۔۔۔صیاد طبیب حاذق ثابت ہوا۔۔۔۔۔
صیاد کے کچھ دن۔۔رات حیرت وتعذر میں گزرے۔۔۔۔
پھر جیسے ایک لمحہ تقدیس طائر کی زندگی میں آیا۔۔صیاد نے طائر کو پروانہء آزادی تھما دیا۔۔حالانکہ صیاد اور طائر میں تفاوت قلبی پایا جاتاہے۔۔اور دام صیاد میں پھنسنے والا،کبھی رہائی نہیں پاتا۔۔
لیکن طائر شاید صیاد کی دام الفت کا شکار ہو چکاتھا
بے باک اور بےپروا طائر کارواں رواں کانپ اٹھا۔۔۔وہ قشعریرہ ہو چکا تھا۔۔عجب فروتنی کاعالم تھا۔۔ وہی طائر جو آزادی کادیوانہ تھا۔۔ اس کا انداز مستانہ تھا ۔۔اب فریادی کاروپ دھار چکاتھا ۔نیل گگن میں تیرنے والا فروماندہ ہو چکاتھا۔۔۔اسے لگاکہ وہ راندہ درگاہ ہوگیا ۔۔
یہ تنقیہ ازل تھا۔ کہ عاشق آزادی کاطوق نہیں غلامی کا تمغہ ہی سینے پہ سجانا پسند کرتے ہیں
یہ استقرار حقیقت تھاکہ طائر اب صیاد کی قید کامتمنی تھا۔۔
اسنے غلامی کو رہائی پہ ترجیح دی۔۔ بےچین ہوکر صیاد کے قدموں میں بیٹھ گیا۔۔۔۔
اسکے دو چمکتے گرم آنسو صیاد کے پیروں پہ گرے۔۔۔۔جیسے الوداعی بوسہ دے رہے ہوں۔۔ اور وہیں ڈھیر ہو گیا۔۔۔
کیونکہ اسکے وجود کو صیاد کے لمس کی کمی گوارا نہ تھی۔۔ اسکی روح کابوجھ اسکے پروں سے کہیں زیادہ ہو گیاتھا۔۔
اب کے بازی پلٹ چکی تھی صیاد مائل بہ کرم تھا اور طائر اڑان بھرنے سے قاصر۔۔۔

طائر کو صیاد سے عشق ہو گیا تھا۔۔!!!

📖 خلاصہ

یہ نہایت خوبصورت اور علامتی کہانی عشق، آزادی اور وابستگی کے پیچیدہ رشتے کو بیان کرتی ہے۔ ایک آزاد اور خود مختار طائر جو آسمانوں کی وسعتوں میں بے فکری سے اڑ رہا تھا، اچانک صیاد کے جال میں پھنس جاتا ہے۔…

✍️ ارم رحمٰن — مختصر تعارف

ارم رحمٰن
📍 لاہور، پاکستان

ارم رحمن پیشے کے لحاظ سے ایڈووکیٹ ہیں جن کا تعلق لاہور سے ہے۔ اردو زبان و ادب سے فطری مناسبت کی وجہ سے کچھ عرصہ وکالت کرنے کے بعد وہ درس و تدریس کے پیشے سے وابستہ ہو گئیں ۔ انہوں نے اپنے مافی الضمیر کے اظہار کے لیے ابتدا میں شاعری کا انتخاب کیا ۔ ان کی نثری نظمیں کمال کی ہوتی ہیں جن میں تخلیقی وفور کے ساتھ ساتھ شعری جمالیات اور موضوعات کو نئے زاویوں سے باندھنا قاری اور ناقد دونوں کو متاثر کرتا ہے …

مزید پڑھیں ←
ارم رحمٰن کی مزید تحریریں
روشنی
اسٹیج سج چکا تھا ۔ ہال لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا ۔ آج خلاف معمول زیادہ رش ت...
قل زردہ
بڑے سے گھر کے ،بڑے سے صحن میں، جب بڑی بی کے قل کے اہتمام میں 6 دیگیں تین بریانی ...
حنوط
بارش کے بعد مٹی سے نکلتی سوندھی سوندھی خوشبو، مجھے بہت پسند تھی، سردیوں کے موسم ...
نوراں
سردیوں کا آغاز ہوا چاہتا تھا ، اللہ داد کا عشق بھی انگڑائی لے کر جاگنے لگا تھا ۔...
مزید متعلقہ نثر
نئے لہجے کی دستک
2 دسمبر 2022 جمعہ کا دن تھا ہر طرف خاموشی تھی ہر کوئی اپنے ہی خیالوں میں گم تھا ...
انجیر کی مٹھائی
انجیر کی مٹھائی ! اپنے گالوں پر پڑے تھپڑوں کی سنسناہٹ اسے اب تک اپنے ...
وقت کے پیچھے چھُپے لوگ
شہر کی روشنی، ہلچل اور سروں کے شور میں آئرہ اپنے خیالات کے سمندر میں غوطہ زن تھی...
نیند
وہ ساری رات پیسے گنتا رہا۔ کاروبار بڑھتا جا رہا تھا۔ مگر کئی دنوں سے اُسے نیند...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن