غزل
ہاشم
اتوار، 26 اپریل 2026
👁 17
❤️ 1
راہِ الفت میں یوں نکلتا ہوں
روز بنتا ہوں اور بکھرتا ہوں
حادثے مجھ سے دور رہتے ہیں
لےکے ماں کی دعا نکلتا ہوں
ہجر کی آگ سہہ کے آنکھوں سے
موم کی مثل میں پگھلتا ہوں
سوئے میخانہ شام ہوتے ہی
چھوڑ کر درد وغم نکلتا ہوں
مجھ میں تاریکیاں سموئی ہے
میں سرِ شام روز جلتا ہوں
تم بھی چاہوں تو روشنی لے لو
میں کسی دل کی طرح جلتا ہوں
یاد آتے ہیں دن لڑکپن کے
کھیلتا، کودتا ،اُچھلتا ہوں
کچھ نیا سیکھنے کی خواہش میں
پہلے گرتا ہوں پھر سنبھلتا ہوں
مجھ کو منزل جو ہٹاتی ہے
روز اسی راہ سے گزرتا ہوں
مجھ کو خاموشیاں ستاتی ہیں
” بولتا ہوں تو زہر لگتا ہوں"
ہاشم کی مزید
ذکرِ صلّیِ اعلیٰ مصطفیٰ مصطفیٰؐ
دردِ دل کی دوا مصطفیٰ مصطفیٰؐ
دھیرے دھیرے سے آنکھوں کو کھولے علی...
ربِ حق ہوتے ہوئے، میں نہ تَو، تُو دیکھا ہے
ہم کے احساس کو خود کرتے وضو دیکھا ہے
کہیں کٹتا ہوا ال...
گزری راتوں کے آؤ خواب لکھیں
"اک غزل ہم بھی کامیاب لکھیں"
ایسا کوئی نہیں ہے محفل میں
ج...
بس تری ذات شانِ برکت ہے
تیرے قبضے میں ساری قدرت ہے
تیری تخلیق لاشریکَ لہٗ
تیری رحمت سے محوِ رحم...



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!