غزل
تلوک چند محروم
منگل، 21 اپریل 2026
👁 11
❤️ 3
جب وہ صورت نظر نہیں آتی
کب مری آنکھ بھر نہیں آتی
کوئےدل دار سے نسیم سحر
آتی ہے جب ادھر نہیں آتی
کیا ہوا سوز غم کہ اشکوں سے
بوئے داغ جگر نہیں آتی
حور سے کیا ملے گا دل واعظ
یاں طبیعت اگر نہیں آتی
موت کو بھی خبر نہیں شاید
کہ وہاں سے خبر نہیں آتی
زندگی یا تو ہے وبال کوئی
یا مجھی کو یہ کر نہیں آتی
شب ہجراں وہ شب ہے جس کے بعد
تا قیامت سحر نہیں آتی
شب فرقت کی داستاں ہے طویل
نیند المختصر نہیں آتی
ہے طبیعت تری رسا محرومؔ
تجھ کو اردو مگر نہیں آتی
✍️ تلوک چند محروم — مختصر تعارف
📍 میانوالی بھارت
✨ تلوک چند محروم کی سوانح حیات (مکمل اور جامع)
تلوک چند محروم (1887–1966) اردو کے معروف شاعر، استاد اور ادیب تھے جنہوں نے کلاسیکی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے سادہ، دلنشیں اور باوقار شاعری کی۔ وہ خصوصاً اپنی غزل گوئی، اخلاقی مضامین اور تہذیبی شعور کے لیے جانے جاتے ہیں، اور ممتاز شاعر جگن ناتھ آزاد کے والد بھی تھے۔
🟢 ابتدائی زندگی
تلوک چند محروم 1887 میں میانوالی میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ای …
غزل کیا ہے؟
غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔
تلوک چند محروم کی مزید
جب وہ صورت نظر نہیں آتی
کب مری آنکھ بھر نہیں آتی
کوئےدل دار سے نسیم سحر
آتی ہے جب ادھر نہیں آتی...



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!