اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
تبصرہ

دوہا ،لفظوں کا مراقبہ اور خاموش حکمت کی شاعری

منتظم عاصیؔ
منتظم عاصیؔ ہفتہ، 16 مئی 2026
👁 15 ❤️ 0

اگر شاعری کو ایک دریا مان لیا جائے تو دوہا اس دریا کا وہ قطرہ ہے جس میں پورا سمندر چھپا ہوتا ہے۔ یہ محض دو مصرعوں کی ترتیب نہیں بلکہ ایک ایسا فکری تجربہ ہے جو قاری کے اندر خاموشی سے اترتا ہے اور دیر تک اثر چھوڑتا ہے۔
دوہا کو صرف پڑھا نہیں جاتا، اسے محسوس کیا جاتا ہے۔ یہ لفظوں کا مراقبہ ہے — ایک ایسا عمل جس میں الفاظ کم اور معنی زیادہ ہوتے ہیں۔

دوہا: اظہار نہیں، ادراک۔
عام شاعری اکثر جذبات کا اظہار کرتی ہے، مگر دوہا جذبات کو سمجھنے کا دروازہ کھولتا ہے۔ یہ ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہم جو دیکھ رہے ہیں، اس کے پیچھے کیا حقیقت ہے۔
دوہا دراصل سوال نہیں پوچھتا، بلکہ قاری کے اندر سوال پیدا کر دیتا ہے۔

دو مصرعے ۔ ایک کائنات۔
دوہا کی سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ یہ صرف دو مصرعوں میں ایک مکمل کائنات تخلیق کر دیتا ہے۔ یہاں نہ کوئی اضافی لفظ ہوتا ہے، نہ کوئی غیر ضروری خیال۔ ہر لفظ اپنی جگہ ایک ذمہ داری کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ دوہا لکھنا آسان نہیں، کیونکہ اس میں کم الفاظ میں زیادہ کہنا پڑتا ہے۔

خاموشی کی زبان۔
دوہا کی اصل طاقت اس کی خاموشی میں ہے۔ جو بات وہ نہیں کہتا، وہی اس کا اصل پیغام ہوتی ہے۔ قاری جب اسے پڑھتا ہے تو الفاظ ختم ہونے کے بعد بھی سوچ جاری رہتی ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں دوہا شاعری سے بڑھ کر ایک فکری تجربہ بن جاتا ہے۔

وقت اور دوہا۔
دوہا وقت کے ساتھ نہیں بدلتا، بلکہ وقت کو سمجھنے کا ذریعہ بنتا ہے۔ صدیوں پہلے لکھے گئے دوہے آج بھی اتنے ہی سچے محسوس ہوتے ہیں، کیونکہ وہ انسانی فطرت کی گہرائیوں کو بیان کرتے ہیں۔
یہ صنف ہمیں سکھاتی ہے کہ سچائی بدلتی نہیں، صرف حالات بدلتے ہیں۔

جدید دور میں دوہا۔
آج کا دور تیزی کا دور ہے — لوگ لمبی تحریریں پڑھنے سے گھبراتے ہیں۔ ایسے میں دوہا ایک بہترین ذریعہ بن سکتا ہے کیونکہ یہ مختصر بھی ہے اور بامعنی بھی۔
اگر صحیح طریقے سے پیش کیا جائے تو دوہا سوشل میڈیا کے لیے سب سے طاقتور ادبی ہتھیار بن سکتا ہے۔

دوہا: ایک اندرونی سفر۔
دوہا پڑھنا دراصل اپنے اندر سفر کرنے کے برابر ہے۔ ہر دوہا ایک آئینہ ہوتا ہے جس میں قاری اپنی ہی حقیقت کو دیکھتا ہے۔
یہ ہمیں باہر کی دنیا سے نکال کر اندر کی دنیا میں لے جاتا ہے — جہاں سوال بھی ہم ہوتے ہیں اور جواب بھی۔

چند تخلیقی دوہے۔

لفظ کم اور سوچ گہری، یہی دوہے کی شان
جو سمجھے وہ پا گیا، جو نہ سمجھے حیران

خاموشی میں چھپ گیا، ہر اک سچ کا راز
دو مصرعوں میں مل گیا، زندگی کا ساز

وقت کے اس کھیل میں، سب کچھ ہے عارضی
دوہا ہی سکھلا گیا، کیا ہے اصل روشنی

نتیجہ۔
دوہا صرف ایک شعری صنف نہیں بلکہ ایک طرزِ فکر ہے۔ یہ ہمیں کم میں زیادہ دیکھنا سکھاتا ہے، خاموشی میں معنی تلاش کرنا سکھاتا ہے اور زندگی کو گہرائی سے سمجھنے کا ہنر دیتا ہے۔
اگر ہم دوہا کو صرف پڑھنے کے بجائے محسوس کرنا شروع کر دیں، تو یہ ہماری سوچ، ہماری نظر اور شاید ہماری زندگی بھی بدل سکتا ہے۔

✍️ منتظم عاصیؔ — مختصر تعارف

منتظم عاصیؔ
📍 مالیگاؤں، مہاراشٹر، ہندوستان

اپنی بات

محترم قارئین السَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَۃُ اللّـٰهِ وَ بَرْکَاتَہٗ
الحمداللہ.................... بفضلِ خدا وند کریم بفیض محسنِ انسانیت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور جملہ اہلِ بیت اطہار کے توسل اولیائے کاملین کے احسان سے مرشدِ پاک کی نظرِ کمال سے والدین کی دعاؤں شفقت تربیت کا اثر ہے کہ آج میں اپنی تیسری شعری ادبی کتاب طشت ازبام آپ لوگوں تک پہنچانے میں کامیاب رہا
شعر و …

مزید پڑھیں ←
منتظم عاصیؔ کی مزید تحریریں
غالب کے ہاں تصورِ عورت | عشق، شخصیت، تہذیب اور انسانی وقار کا تحقیقی مطالعہ
غالب کے ہاں تصورِ عورت عشق، شخصیت، تہذیب اور انسانی وقار کا تحقیقی مطالعہ تعارف ...
غالب کی سیاسی فکر: زوالِ سلطنت، استعمار اور ہندوستانی تہذیب | جامع تحقیقی مقالہ
غالب کی سیاسی فکر زوالِ سلطنت، استعمار اور ہندوستانی تہذیب کا تحقیقی مطالعہ تعار...
غالب کا تصوف: روایت، فکر اور جدید شعور | مرزا غالب پر جامع تحقیقی مقالہ
غالب کا تصوف روایت، فکر اور جدید شعور کا تحقیقی مطالعہ تعارف اردو ادب کی تاریخ م...
مرزا غالب: شخصیت، فن، فکر اور جدید شعری شعور | ایک جامع تحقیقی و تنقیدی مقالہ
مرزا غالب: شخصیت، فن، فکر اور جدید شعری شعور ایک تحقیقی و تنقیدی مطالعہ تعارف ار...
مزید متعلقہ نثر
جب اس دل کے دروازے پر اُن ہاتھوں نے دستک دی (تشریح کے ساتھ)
جب اس دل کے دروازے پر اُن ہاتھوں نے دستک دی یعنی نور ہی نور سراپا اُجیاروں نے دس...
ارشد مینانگری اور نعت گوئی میں ہیئتی تنوع
ارشد مینانگری اور نعت گوئی میں ہیئتی تنوع از : محمد حسین مشاہد رضوی (ارشد مینانگ...
تم اپنے شکوے کی باتیں نہ کھود کھود کے پوچھو | غالب کی غزل پر جامع تبصرہ، ادبی و تنقیدی جائزہ
غالب کی غزل "تم اپنے شکوے کی باتیں نہ کھود کھود کے پوچھو" پر جامع تبصر...
نظامِ عشق ہدیۂ سپاس لگتا ہے
نظامِ عشق ہدیۂ سپاس لگتا ہے — غزل، تشریح، تبصرہ اور پیغام ✨ تعارف یہ غزل فکری ا...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن