غزل
پروین شاکر
منگل، 21 اپریل 2026
👁 15
❤️ 0
تیری خوشبو کا پتا کرتی ہے
مجھ پہ احسان ہوا کرتی ہے
چوم کر پھول کو آہستہ سے
معجزہ باد صبا کرتی ہے
کھول کر بند قبا گل کے ہوا
آج خوشبو کو رہا کرتی ہے
ابر برسے تو عنایت اس کی
شاخ تو صرف دعا کرتی ہے
زندگی پھر سے فضا میں روشن
مشعل برگ حنا کرتی ہے
ہم نے دیکھی ہے وہ اجلی ساعت
رات جب شعر کہا کرتی ہے
شب کی تنہائی میں اب تو اکثر
گفتگو تجھ سے رہا کرتی ہے
دل کو اس راہ پہ چلنا ہی نہیں
جو مجھے تجھ سے جدا کرتی ہے
زندگی میری تھی لیکن اب تو
تیرے کہنے میں رہا کرتی ہے
اس نے دیکھا ہی نہیں ورنہ یہ آنکھ
دل کا احوال کہا کرتی ہے
مصحف دل پہ عجب رنگوں میں
ایک تصویر بنا کرتی ہے
بے نیاز کف دریا انگشت
ریت پر نام لکھا کرتی ہے
دیکھ تو آن کے چہرہ میرا
اک نظر بھی تری کیا کرتی ہے
زندگی بھر کی یہ تاخیر اپنی
رنج ملنے کا سوا کرتی ہے
شام پڑتے ہی کسی شخص کی یاد
کوچۂ جاں میں صدا کرتی ہے
مسئلہ جب بھی چراغوں کا اٹھا
فیصلہ صرف ہوا کرتی ہے
مجھ سے بھی اس کا ہے ویسا ہی سلوک
حال جو تیرا انا کرتی ہے
دکھ ہوا کرتا ہے کچھ اور بیاں
بات کچھ اور ہوا کرتی ہے
✍️ پروین شاکر — مختصر تعارف
📍 کراچی، پاکستان
✨ پروین شاکر کی سوانح حیات (مکمل اور جامع)
🟢 تعارف
پروین شاکر اردو کی ممتاز شاعرہ، ادیبہ اور سرکاری افسر تھیں۔
وہ اپنی نرم، نازک اور نسوانی احساسات سے بھرپور شاعری کے لیے بہت مشہور ہیں۔
انہوں نے اردو غزل میں عورت کے جذبات کو ایک نئی آواز دی۔
📍 پیدائش اور خاندانی پس منظر
📅 پیدائش: 24 نومبر 1952ء
📍 مقام: کراچی، پاکستان
ایک تعلیم یافتہ اور مہذب گھرانے سے تعلق تھا
📚 تعلیم و تربیت
جام …
غزل کیا ہے؟
غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔
پروین شاکر کی مزید
تیری خوشبو کا پتا کرتی ہے
مجھ پہ احسان ہوا کرتی ہے
چوم کر پھول کو آہستہ سے
معجزہ باد صبا کرتی ہ...



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!