غزل
فیض احمد فیض
منگل، 21 اپریل 2026
👁 15
❤️ 1
ہم پر تمہاری چاہ کا الزام ہی تو ہے
دشنام تو نہیں ہے یہ اکرام ہی تو ہے
دل ناامید تو نہیں ناکام ہی تو ہے
لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے
کرتے ہیں جس پہ طعن کوئی جرم تو نہیں
شوق فضول و الفت ناکام ہی تو ہے
دل مدعی کے حرف ملامت سے شاد ہے
اے جان جاں یہ حرف ترا نام ہی تو ہے
دست فلک میں گردش تقدیر تو نہیں
دست فلک میں گردش ایام ہی تو ہے
آخر تو ایک روز کرے گی نظر وفا
وہ یار خوش خصال سر بام ہی تو ہے
بھیگی ہے رات فیضؔ غزل ابتدا کرو
وقت سرود درد کا ہنگام ہی تو ہے
✍️ فیض احمد فیض — مختصر تعارف
📍 سیالکوٹ، پاکستان
🔵 فیض احمد فیض کی سوانح حیات
🟢 تعارف
فیض احمد فیض اردو کے عظیم شاعر، صحافی اور انقلابی مفکر تھے۔
وہ ترقی پسند تحریک کے نمایاں ستون تھے۔
📍 پیدائش اور خاندانی پس منظر
📅 پیدائش: 13 فروری 1911ء
📍 مقام: سیالکوٹ، پاکستان
والد: سلطان محمد خان
📚 تعلیم و تربیت
گورنمنٹ کالج لاہور سے تعلیم
انگریزی اور عربی ادب میں مہارت
✍️ ادبی خدمات
📖 اہم تصانیف:
نقشِ فریادی
دستِ صبا
زنداں نامہ
دستِ ت …
غزل کیا ہے؟
غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔
فیض احمد فیض کی مزید
ہم پر تمہاری چاہ کا الزام ہی تو ہے
دشنام تو نہیں ہے یہ اکرام ہی تو ہے
دل ناامید تو نہیں ناکام ہی...



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!