اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
کہانی

مریخ کا اسکول

علیم طاہرؔ
علیم طاہرؔ بدھ، 20 مئی 2026
👁 14 ❤️ 1

سال 2200ء۔
زمین پر ماحولیاتی تباہی، جنگوں اور آلودگی کے باعث انسانوں کی اکثریت اب مریخ پر منتقل ہو چکی تھی۔
مریخ پر مصنوعی گنبدوں میں شہر بسائے جا چکے تھے۔ ہر شہر میں الگ الگ "زون" تھے — اور ہر زون میں الگ الگ طبقے۔
زون-1 میں وہ لوگ تھے جو طاقتور، امیر اور بااثر تھے۔
زون-5 میں وہ لوگ تھے جنہیں صرف مشقت، خاموشی اور اطاعت کے لیے رکھا گیا تھا۔
زون-5 میں رہنے والا ایک بارہ سالہ لڑکا تھا — "ارہم"
وہ سرخ مٹی سے بنے ایک کچے خیمے میں پیدا ہوا، مگر آنکھوں میں ستاروں جیسے خواب لے کر جیا۔
ارہم ہر روز زون-1 کے اوپر سے گزرنے والی "فلائنگ کلاس رومز" کو دیکھتا — شیشے جیسے ڈبے، جن میں بچے کششِ ثقل سے آزاد ہو کر علم حاصل کرتے تھے۔
ایک دن ارہم نے فیصلہ کر لیا:
“اگر مریخ پر سب کچھ مصنوعی ہے، تو میں بھی اپنا نصیب خود تخلیق کروں گا!”
خواب کی شروعات:
اس نے مٹی، لوہے کے پرزوں، اور فالتو بیٹریوں سے ایک خود ساختہ تعلیمی چِپ بنائی — جسے اس نے "دل سے پڑھنے والی چِپ" کہا۔
یہ چپ صرف اس وقت کام کرتی تھی جب کوئی بچہ پوری نیت، سچائی اور محبت سے کچھ سیکھنا چاہے۔
چپ نے ارہم کو آہستہ آہستہ مریخی سائنس، خلائی حساب، اور انسانی تاریخ سکھانا شروع کیا۔
جلد ہی اس کی چِپ کی کہانی زون-1 تک پہنچی۔
ایک روز زون-1 کی مرکزی تعلیمی کونسل نے ارہم کو طلب کیا۔
وہ وہاں پہنچا — جلی کپڑوں میں، مٹی میں لت پت جوتے پہنے۔
مگر اس کی آنکھوں میں جو روشنی تھی، وہ سب اسکولوں سے زیادہ چمکدار تھی۔
فیصلہ:
کونسل کا سب سے بوڑھا فرد بولا:
> “تم زون-5 سے ہو، تمہیں اجازت نہیں کہ زون-1 کے علم تک رسائی لو!”
ارہم نے خاموشی سے اپنی چِپ نکالی، اور کہا:
“علم صرف امیر کا حق نہیں —
یہ وہ سورج ہے جو اگر ایک کو چمک دے،
تو باقی سب کے اندھیرے بھی روشن ہو جاتے ہیں۔”

نتیجہ:
اسی دن مریخ کی تعلیمی پالیسی بدلی گئی۔
زون کی بنیاد پر علم بانٹنے والا نظام توڑ دیا گیا۔
ارہم کو پہلا "گلوبل مریخ اسکول" بنانے کا موقع دیا گیا — جہاں زون، ذات، نسل، زبان اور خلائی سرحدوں کا کوئی مطلب نہ تھا۔
اب مریخ پر ہر بچہ فلائنگ کلاس روم میں سیکھتا ہے —
اور ہر چِپ ایک ہی چیز کہتی ہے:
“علم وہ خلائی جہاز ہے
جو ہر خواب کو ستاروں تک لے جاتا ہے۔”

سبق:
اگر ایک خواب دل سے نکلے،
تو وہ مریخ جیسے سنسان سیارے کو بھی
اسکول میں بدل سکتا ہے۔

علیم طاہرؔ کی مزید تحریریں
ڈاکٹر بشیر بدر: محبت، درد اور تہذیبِ غزل کا روشن باب | شخصیت، شاعری اور ادبی خدمات
## ڈاکٹر بشیر بدر: محبت، درد اور تہذیبِ غزل کا روشن باب ### ایک ایسا شاعر جس کے...
چراغِ آخر
بوڑھا شاعر اپنی آخری نظم لکھ رہا تھا۔ بیٹے نے پوچھا: "اب اس عمر میں کیوں ...
بند کتاب
بوڑھا استاد روز اپنی پرانی کتابیں صاف کرتا تھا۔ بیٹے نے کہا: "اب اِنہیں ک...
آئس کریم
چھوٹا بچہ آئس کریم والے کو حسرت سے دیکھ رہا تھا۔ ایک اجنبی نے اُسے آئس کریم خری...
مزید متعلقہ نثر
یادداشتوں کا بازار
سال 2450ء۔ دنیا کے بڑے شہروں میں اب ایک نیا بازار قائم ہو چکا تھا — جسے کہتے ت...
آئینے کا جنگل
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک گھنے جنگل کے بیچوں بیچ ایک عجیب و غریب درخت اگ آیا۔ اس...
نیند چُرانے والا روبوٹ
سال 2301ء۔ دنیا ایک ایسی جگہ بن چکی تھی جہاں نیند خریدی جاتی تھی۔ جی ہاں! نیند...
وقت کا تاجر
دنیا کے ایک خاموش شہر میں، جہاں وقت رُک رُک کر چلتا تھا، ایک عجیب سی دکان کھلی —...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن