غزل
محمد مومن خان
منگل، 21 اپریل 2026
👁 10
❤️ 0
ہم سمجھتے ہیں آزمانے کو
عذر کچھ چاہیئے ستانے کو
سنگ در سے ترے نکالی آگ
ہم نے دشمن کا گھر جلانے کو
صبح عشرت ہے وہ نہ شام وصال
ہائے کیا ہو گیا زمانے کو
بوالہوس روئے میرے گریہ پہ اب
منہ کہاں تیرے مسکرانے کو
برق کا آسمان پر ہے دماغ
پھونک کر میرے آشیانے کو
سنگ سودا جنوں میں لیتے ہیں
اپنا ہم مقبرہ بنانے کو
شکوہ ہے غیر کی کدورت کا
سو مرے خاک میں ملانے کو
روز محشر بھی ہوش گر آیا
جائیں گے ہم شراب خانے کو
سن کے وصف اس پہ مر گیا ہمدم
خوب آیا تھا غم اٹھانے کو
کوئی دن ہم جہاں میں بیٹھے ہیں
آسماں کے ستم اٹھانے کو
چل کے کعبہ میں سجدہ کر مومنؔ
چھوڑ اس بت کے آستانے کو
نقش پائے رقیب کی محراب
نہیں زیبندہ سر جھکانے کو
✍️ محمد مومن خان — مختصر تعارف
📍 دہلی، ہندوستان
مومن خان مومن کی سوانح حیات (مکمل اور جامع)
🟢 تعارف
مومن خان مومن اردو کے نامور غزل گو شاعر تھے۔
ان کا پورا نام: محمد مومن خان تھا، جبکہ تخلص “مومن” تھا۔
وہ اپنی نفاستِ خیال اور عاشقانہ اندازِ بیان کے لیے مشہور ہیں۔
📍 پیدائش اور خاندانی پس منظر
📅 پیدائش: 1800ء
📍 مقام: دہلی، ہندوستان
والد: حکیم غلام نبی خان
ان کا خاندان علمی اور طبی (طبابت) پس منظر رکھتا تھا۔
📚 تعلیم و تربیت
مومن …
غزل کیا ہے؟
غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔
محمد مومن خان کی مزید
ہم سمجھتے ہیں آزمانے کو
عذر کچھ چاہیئے ستانے کو
سنگ در سے ترے نکالی آگ
ہم نے دشمن کا گھر جلانے ...



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!