نوحہ
کبھی کبھی ایسا لگتا ہے جیسے دنیا انسانوں سے خالی ہے
اور میں اکیلا تنہائی کی تلاش میں بھٹک رہا ہوں
کوئی ملتا بھی نہیں جس سے پتہ دریافت کروں
ہر چیز ہر جگہ صبح و شام دن رات پیڑ پودے زمین آسمان چاند سورج ستارے ہوا پانی پہاڑ دریا ندی سمندر غنچے گل کلی چرند پرند ہوتے ہوئے بھی ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے گلشن ہی زندان ہے ہر طرف اک سکوت ہے سناٹا ہے مگر راحت سکون تنہائی کہیں نہیں ہے اکیلا ہوکر بھی میں اکیلا نہیں میری فکر میرے تخیلات میرے خواب مجھے زندگی کی گہماگہمی میں رکھے ہوئے ہیں
میں بہت کوشش کرتا ہوں پر اس سے رِہا نہیں ہوتا
میں بہت سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں
کہ یہ سب کیا، ہے کیوں ہے
مگر میری عقل اس فکر کی دیوار پار نہیں کرتی
اور اپنی اس بے بسی پر اشک بہاتی ہوئی
پھر تنہائی کی تلاش کرنے لگتی ہے
اس امید پر کہ شاید کوئی مل جائے
جو تنہائی کا پتہ بتا دے
اسی فکر میں، ڈوبا ہوا ادھر ادھر پھر رہا ہوں
کبھی کہیں تو میری ملاقات تنہائی سے ہوگی
اور پھر میں تنہائی میں بیٹھ کر
اپنی زندگی کا نوحہ لکھوں گا
✍️ منتظم عاصیؔ — مختصر تعارف
اپنی بات
محترم قارئین السَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَۃُ اللّـٰهِ وَ بَرْکَاتَہٗ
الحمداللہ.................... بفضلِ خدا وند کریم بفیض محسنِ انسانیت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور جملہ اہلِ بیت اطہار کے توسل اولیائے کاملین کے احسان سے مرشدِ پاک کی نظرِ کمال سے والدین کی دعاؤں شفقت تربیت کا اثر ہے کہ آج میں اپنی تیسری شعری ادبی کتاب طشت ازبام آپ لوگوں تک پہنچانے میں کامیاب رہا
شعر و …



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!