غزل
میر محمد تقی
منگل، 21 اپریل 2026
👁 9
❤️ 0
یارو مجھے معاف رکھو میں نشے میں ہوں
اب دو تو جام خالی ہی دو میں نشے میں ہوں
ایک ایک قرط دور میں یوں ہی مجھے بھی دو
جام شراب پر نہ کرو میں نشے میں ہوں
مستی سے درہمی ہے مری گفتگو کے بیچ
جو چاہو تم بھی مجھ کو کہو میں نشے میں ہوں
یا ہاتھوں ہاتھ لو مجھے مانند جام مے
یا تھوڑی دور ساتھ چلو میں نشے میں ہوں
معذور ہوں جو پاؤں مرا بے طرح پڑے
تم سرگراں تو مجھ سے نہ ہو میں نشے میں ہوں
بھاگی نماز جمعہ تو جاتی نہیں ہے کچھ
چلتا ہوں میں بھی ٹک تو رہو میں نشے میں ہوں
نازک مزاج آپ قیامت ہیں میرؔ جی
جوں شیشہ میرے منہ نہ لگو میں نشے میں ہوں
✍️ میر محمد تقی — مختصر تعارف
📍 آگرہ، ہندوستان
میر تقی میر کی سوانح حیات (مکمل اور جامع)
🟢 تعارف
میر تقی میر اردو کے عظیم ترین شاعروں میں شمار ہوتے ہیں۔
ان کا پورا نام: میر محمد تقی تھا، جبکہ تخلص “میر” تھا۔
انہیں اردو غزل کا “خداۓ سخن” بھی کہا جاتا ہے۔
📍 پیدائش اور خاندانی پس منظر
📅 پیدائش: 1723ء
📍 مقام: آگرہ، ہندوستان
والد: میر محمد علی (ایک صوفی بزرگ)
میر کا بچپن سادگی اور روحانیت کے ماحول میں گزرا۔
😔 ابتدائی زندگی اور مشک …
غزل کیا ہے؟
غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔
میر محمد تقی کی مزید
یارو مجھے معاف رکھو میں نشے میں ہوں
اب دو تو جام خالی ہی دو میں نشے میں ہوں
ایک ایک قرط دور میں ...



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!