غزل
امام بخش
منگل، 21 اپریل 2026
👁 20
❤️ 0
صنم کوچہ ترا ہے اور میں ہوں
یہ زندان دغا ہے اور میں ہوں
یہی کہتا ہے جلوہ میرے بت کا
کہ اک ذات خدا ہے اور میں ہوں
ادھر آنے میں ہے کس سے تجھے شرم
فقط اک غم ترا ہے اور میں ہوں
کرے جو ہر قدم پر ایک نالہ
زمانے میں درا ہے اور میں ہوں
تری دیوار سے آتی ہے آواز
کہ اک بال ہما ہے اور میں ہوں
نہ ہو کچھ آرزو مجھ کو خدایا
یہی ہر دم دعا ہے اور میں ہوں
کیا درباں نے سنگ آستانہ
در دولت سرا ہے اور میں ہوں
گیا وہ چھوڑ کر رستے میں مجھ کو
اب اس کا نقش پا ہے اور میں ہوں
زمانے کے ستم سے روز ناسخؔ
نئی اک کربلا ہے اور میں ہوں
✍️ امام بخش — مختصر تعارف
📍 دہلی، ہندوستان
✨ امام بخش ناسخ کی سوانح حیات (مکمل اور جامع)
🟢 تعارف
امام بخش ناسخ اردو کے نامور شاعر اور استادِ سخن تھے۔
ان کا پورا نام: امام بخش تھا، جبکہ تخلص “ناسخ” تھا۔
وہ لکھنؤ کے دبستانِ شاعری کے اہم ستونوں میں شمار ہوتے ہیں۔
📍 پیدائش اور خاندانی پس منظر
📅 پیدائش: 1776ء (عام طور پر یہی سال مانا جاتا ہے)
📍 مقام: دہلی، ہندوستان
ان کے خاندانی حالات کے بارے میں زیادہ تفصیل محفوظ نہیں، لیکن وہ عل …
غزل کیا ہے؟
غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔
امام بخش کی مزید
صنم کوچہ ترا ہے اور میں ہوں
یہ زندان دغا ہے اور میں ہوں
یہی کہتا ہے جلوہ میرے بت کا
کہ اک ذات خ...



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!