اشتہار
اشتہار
اشتہار
यह साइट जनाब अकबर शेख़ साहब
अकबर शेख़
के सम्मान में बनाई गई है
📖 उनके बारे में
غزل

نمی دانم چہ منزل بود،شب جای کہ من بودم

ابوالحسن یمین الدین خسروؔ منگل، 21 اپریل 2026
👁 52 ❤️ 1
نمی دانم چہ منزل بود،شب جای کہ من بودم
نمی دانم چہ منزل بود شب جائے کہ من بودم
بہ ہر سو رقص بسمل بود شب جائے کہ من بودم
پری پیکر نگارے سرو قدے لالہ رخسارے
سراپا آفت دل بود شب جائے کہ من بودم
رقیباں گوش بر آواز او در ناز و من ترساں
سخن گفتن چہ مشکل بود شب جائے کہ من بودم
خدا خود میر مجلس بود اندر لا مکاں خسروؔ
محمدؐ شمع محفل بود شب جائے کہ من بودم
← पिछला अगला →

✍️ ابوالحسن یمین الدین خسروؔ — संक्षिप्त परिचय

ابوالحسن یمین الدین خسروؔ
📍 پٹیالی (موجودہ اتر پردیش، بھارت)

امیر خسرو کی سوانح حیات (مکمل اور جامع)

🟢 تعارف
امیر خسرو برصغیر کے عظیم شاعر، صوفی، موسیقار اور ادیب تھے۔ ان کا پورا نام:
ابوالحسن یمین الدین خسرو تھا۔
وہ فارسی اور ہندوی (قدیم اردو) دونوں زبانوں میں مہارت رکھتے تھے اور انہیں “طوطیٔ ہند” کہا جاتا ہے۔

📍 پیدائش اور خاندانی پس منظر
📅 پیدائش: 1253ء
📍 مقام: پٹیالی (موجودہ اتر پردیش، بھارت)
والد: امیر سیف الدین محمود (ترک نژاد)
والدہ: ہن …

और पढ़ें ←
غزل क्या है?

غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔

ابوالحسن یمین الدین خسروؔ की और रचनाएँ
نمی دانم چہ منزل بود شب جائے کہ من بودم بہ ہر سو رقص بسمل بود شب جائے کہ من بودم پری پیکر نگارے سرو ...
چھاپ تلک سب چھینی رے موسے نیناں ملائیکے بات اگم کہہ دینی رے موسے نیناں ملائیکے پریم بھٹی کا مدھوا پل...
کاہے کو بیاہی بدیس کاہے کو بیاہی بدیسرے لکھی بابل مورے کاہے کو بیاہی بدیس بھائیوں کو دیے محلے دو محل...
ڈھلتے ہوئے سورج کی ضیا دیکھ رہے ہیں صدیوں سے بھی انجام وفا دیکھ رہے ہیں بدلی ہوئی گلشن کی ہوا دیکھ ر...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 टिप्पणियाँ (0)
टिप्पणी करने के लिए लॉग इन करें

अभी कोई टिप्पणी नहीं — पहली टिप्पणी करें!

साहित्यिक AI सहायक
● ऑनलाइन