اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
غزل
ابوالحسن یمین الدین خسروؔ منگل، 21 اپریل 2026
👁 18 ❤️ 1
نمی دانم چہ منزل بود،شب جای کہ من بودم
نمی دانم چہ منزل بود شب جائے کہ من بودم
بہ ہر سو رقص بسمل بود شب جائے کہ من بودم
پری پیکر نگارے سرو قدے لالہ رخسارے
سراپا آفت دل بود شب جائے کہ من بودم
رقیباں گوش بر آواز او در ناز و من ترساں
سخن گفتن چہ مشکل بود شب جائے کہ من بودم
خدا خود میر مجلس بود اندر لا مکاں خسروؔ
محمدؐ شمع محفل بود شب جائے کہ من بودم
← پچھلا اگلا →

✍️ ابوالحسن یمین الدین خسروؔ — مختصر تعارف

ابوالحسن یمین الدین خسروؔ
📍 پٹیالی (موجودہ اتر پردیش، بھارت)

امیر خسرو کی سوانح حیات (مکمل اور جامع)

🟢 تعارف
امیر خسرو برصغیر کے عظیم شاعر، صوفی، موسیقار اور ادیب تھے۔ ان کا پورا نام:
ابوالحسن یمین الدین خسرو تھا۔
وہ فارسی اور ہندوی (قدیم اردو) دونوں زبانوں میں مہارت رکھتے تھے اور انہیں “طوطیٔ ہند” کہا جاتا ہے۔

📍 پیدائش اور خاندانی پس منظر
📅 پیدائش: 1253ء
📍 مقام: پٹیالی (موجودہ اتر پردیش، بھارت)
والد: امیر سیف الدین محمود (ترک نژاد)
والدہ: ہن …

مزید پڑھیں ←
غزل کیا ہے؟

غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔

ابوالحسن یمین الدین خسروؔ کی مزید
نمی دانم چہ منزل بود شب جائے کہ من بودم بہ ہر سو رقص بسمل بود شب جائے کہ من بودم پری پیکر نگارے ...
چھاپ تلک سب چھینی رے موسے نیناں ملائیکے بات اگم کہہ دینی رے موسے نیناں ملائیکے پریم بھٹی کا مدھو...
کاہے کو بیاہی بدیس کاہے کو بیاہی بدیسرے لکھی بابل مورے کاہے کو بیاہی بدیس بھائیوں کو دیے محلے دو ...
ڈھلتے ہوئے سورج کی ضیا دیکھ رہے ہیں صدیوں سے بھی انجام وفا دیکھ رہے ہیں بدلی ہوئی گلشن کی ہوا دی...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن