اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں

علامہ محمد اقبال

(محمد اقبال)
📍 سیالکوٹ (موجودہ پاکستان)
98
کلام
3
پسند
1,584
مطالعہ
📜 شاعری (95) 📝 نثر (0) 📚 کتابیں (3)
📖 تعارف
علامہ محمد اقبالؔ اردو اور فارسی ادب کے عظیم شاعر، مفکر، فلسفی اور برصغیر کے ممتاز دانشور تھے۔ آپ 9 نومبر 1877ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلی…
غزل
زمانہ آيا ہے بے حجابي کا ، عام ديدار يار ہو گا
سکوت تھا پردہ دار جس کا ، وہ راز اب آشکار ہوگا
❤️ 0   👁 15
غزل
مثال پرتو مے ، طوف جام کرتے ہيں
يہي نماز ادا صبح و شام کرتے ہيں
❤️ 0   👁 11
غزل
يوں تو اے بزم جہاں! دلکش تھے ہنگامے ترے
اک ذرا افسردگي تيرے تماشائوں ميں تھي
❤️ 0   👁 11
غزل
چمک تيري عياں بجلي ميں ، آتش ميں ، شرارے ميں
جھلک تيري ہويدا چاند ميں ،سورج ميں ، تارے ميں
❤️ 0   👁 11
نظم
زمانہ ديکھے گا جب مرے دل سے محشر اٹھے گا گفتگو کا
مري خموشي نہيں ہے ، گويا مزار ہے حرف آرزو کا
❤️ 0   👁 10
غزل
الہي عقل خجستہ پے کو ذرا سي ديوانگي سکھا دے
اسے ہے سودائے بخيہ کاري ، مجھے سر پيرہن نہيں ہے
❤️ 0   👁 6
غزل
زندگي انساں کي اک دم کے سوا کچھ بھي نہيں
دم ہوا کي موج ہے ، رم کے سوا کچھ بھي نہيں
❤️ 1   👁 12
نظم
رو لے اب دل کھول کر اے ديدہء خوننابہ بار
وہ نظر آتا ہے تہذيب حجازي کا مزار
❤️ 0   👁 9
نظم
اٹھ کہ ظلمت ہوئي پيدا افق خاور پر
بزم ميں شعلہ نوائي سے اجالا کر ديں
❤️ 0   👁 7
نظم
تلاش گوشہء عزلت ميں پھر رہا ہوں ميں
يہاں پہاڑ کے دامن ميں آ چھپا ہوں ميں
❤️ 0   👁 8
نظم
سن اے طلب گار درد پہلو! ميں ناز ہوں ، تو نياز ہو جا
ميں غزنوي سومنات دل کا ، تو سراپا اياز ہو جا
❤️ 0   👁 10
نظم
تنہائي شب ميں ہے حزيں کيا
انجم نہيں تيرے ہم نشيں کيا!
❤️ 0   👁 12
نظم
خاموش ہے چاندني قمر کي
شاخيں ہيں خموش ہر شجر کي
❤️ 0   👁 13
نظم
جلوہ حسن کہ ہے جس سے تمنا بے تاب
پالتا ہے جسے آغوش تخيل ميں شباب
❤️ 0   👁 14
نظم
قدرت کا عجيب يہ ستم ہے!
انسان کو راز جو بنايا
❤️ 0   👁 12
نظم
نہ مجھ سے کہہ کہ اجل ہے پيام عيش و سرور
نہ کھينچ نقشہ کيفيت شراب طہور
❤️ 0   👁 6
نظم
زندگاني ہے مري مثل رباب خاموش
جس کي ہر رنگ کے نغموں سے ہے لبريز آغوش
❤️ 0   👁 9
نظم
فرقت آفتاب ميں کھاتي ہے پيچ و تاب صبح
چشم شفق ہے خوں فشاں اختر شام کے ليے
❤️ 0   👁 8
نظم
عشق کي آشفتگي نے کر ديا صحرا جسے
مشت خاک ايسي نہاں زير قبا رکھتا ہوں ميں
❤️ 0   👁 9
نظم
ہے عجب مجموعہء اضداد اے اقبال تو
رونق ہنگامہء محفل بھي ہے، تنہا بھي ہے
❤️ 0   👁 10
نظم
جس کي نمود ديکھي چشم ستارہ بيں نے
خورشيد ميں ، قمر ميں ، تاروں کي انجمن ميں
❤️ 0   👁 9
نظم
جستجو جس گل کي تڑپاتي تھي اے بلبل مجھے
خوبي قسمت سے آخر مل گيا وہ گل مجھے
❤️ 0   👁 12
نظم
ڈرتے ڈرتے دم سحر سے
تارے کہنے لگے قمر سے
❤️ 1   👁 100
نظم
جب دکھاتي ہے سحر عارض رنگيں اپنا
کھول ديتي ہے کلي سينہء زريں اپنا
❤️ 0   👁 36
نظم
تجھ کو دزديدہ نگاہي يہ سکھا دي کس نے
رمز آغاز محبت کي بتا دي کس نے
❤️ 0   👁 9
نظم
جس طرح ڈوبتي ہے کشتي سيمين قمر
نور خورشيد کے طوفان ميں ہنگام سحر
❤️ 0   👁 10
نظم
ستارہ صبح کا روتا تھا اور يہ کہتا تھا
ملي نگاہ مگر فرصت نظر نہ ملي
❤️ 0   👁 11
نظم
اوروں کا ہے پيام اور ، ميرا پيام اور ہے
عشق کے درد مند کا طرز کلام اور ہے
❤️ 0   👁 14
نظم
ہم بغل دريا سے ہے اے قطرہ بے تاب تو
پہلے گوہر تھا ، بنا اب گوہر ناياب تو
❤️ 0   👁 10
نظم
عشق نے کر دیا تجھے ذوقِ تپش سے آشنا
بزم کو مثلِ شمعِ بزم حاصلِ سوز و ساز دے
❤️ 0   👁 9
نظم
خدا سے حسن نے اک روز يہ سوال کيا
جہاں ميں کيوں نہ مجھے تو نے لازوال کيا
❤️ 0   👁 12
نظم
عروس شب کي زلفيں تھيں ابھي نا آشنا خم سے
ستارے آسماں کے بے خبر تھے لذت رم سے
❤️ 0   👁 9
غزل
مجنوں نے شہر چھوڑا تو صحرا بھي چھوڑ دے
نظارے کي ہوس ہو تو ليلي بھي چھوڑ دے
❤️ 0   👁 6
غزل
سختياں کرتا ہوں دل پر ، غير سے غافل ہوں ميں
ہائے کيا اچھي کہي ظالم ہوں ميں ، جاہل ہوں ميں
❤️ 0   👁 6
غزل
کشادہ دست کرم جب وہ بے نياز کرے
نياز مند نہ کيوں عاجزي پہ ناز کرے
❤️ 0   👁 11
غزل
ترے عشق کي انتہا چاہتا ہوں
مري سادگي ديکھ کيا چاہتا ہوں
❤️ 0   👁 10
غزل
جنھيں ميں ڈھونڈتا تھا آسمانوں ميں زمينوں ميں
وہ نکلے ميرے ظلمت خانہ دل کے مکينوں ميں
❤️ 0   👁 11
غزل
کہوں کيا آرزوئے بے دلي مجھ کو کہاں تک ہے
مرے بازار کي رونق ہي سودائے زياں تک ہے
❤️ 0   👁 9
غزل
ظاہر کي آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئي
ہو ديکھنا تو ديدہء دل وا کرے کوئي
❤️ 0   👁 7
غزل
انوکھي وضع ہے ، سارے زمانے سے نرالے ہيں
يہ عاشق کون سي بستي کے يا رب رہنے والے ہيں
❤️ 0   👁 8
غزل
کيا کہوں اپنے چمن سے ميں جدا کيونکر ہوا
اور اسير حلقہ دام ہوا کيونکر ہوا
❤️ 0   👁 11
غزل
لائوں وہ تنکے کہيں سے آشيانے کے ليے
بجلياں بے تاب ہوں جن کو جلانے کے ليے
❤️ 0   👁 6
غزل
عجب واعظ کي دينداري ہے يا رب
عداوت ہے اسے سارے جہاں سے
❤️ 0   👁 11
غزل
نہ آتے ، ہميں اس ميں تکرار کيا تھي
مگر وعدہ کرتے ہوئے عار کيا تھي
❤️ 0   👁 9
غزل
گلزار ہست و بود نہ بيگانہ وار ديکھ
ہے ديکھنے کي چيز اسے بار بار ديکھ
❤️ 0   👁 9
نظم
فرشتے پڑھتے ہيں جس کو وہ نام ہے تيرا
بڑي جناب تري، فيض عام ہے تيرا
❤️ 0   👁 8
نظم
سکوت شام ميں محو سرود ہے راوي
نہ پوچھ مجھ سے جو ہے کيفيت مرے دل کي
❤️ 0   👁 14
نظم
کيسي حيراني ہے يہ اے طفلک پروانہ خو!
شمع کے شعلوں کو گھڑيوں ديکھتا رہتا ہے تو
❤️ 0   👁 10
نظم
سر شام ايک مرغ نغمہ پيرا
کسي ٹہني پہ بيٹھا گا رہا تھا
❤️ 0   👁 8
نظم
اٹھي پھر آج وہ پورب سے کالي کالي گھٹا
سياہ پوش ہوا پھر پہاڑ سربن کا
❤️ 0   👁 7
نظم
عظمت غالب ہے اک مدت سے پيوند زميں
مہدي مجروح ہے شہر خموشاں کا مکيں
❤️ 0   👁 12
نظم
سچ کہہ دوں اے برہمن! گر تو برا نہ مانے
تيرے صنم کدوں کے بت ہو گئے پرانے
❤️ 0   👁 7
نظم
چشتي نے جس زميں ميں پيغام حق سنايا
نانک نے جس چمن ميں وحدت کا گيت گايا
❤️ 0   👁 6
نظم
لطف ہمسايگي شمس و قمر کو چھوڑوں
اور اس خدمت پيغام سحر کو چھوڑوں
❤️ 0   👁 10
نظم
جگنو کي روشني ہے کاشانہء چمن ميں
يا شمع جل رہي ہے پھولوں کي انجمن ميں
❤️ 0   👁 12
نظم
سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا
ہم بلبليں ہيں اس کي، يہ گلستاں ہمارا
❤️ 0   👁 13
نظم
سنے کوئي مري غربت کي داستاں مجھ سے
بھلايا قصہ پيمان اوليں ميں نے
❤️ 0   👁 8
نظم
چمک اٹھا جو ستارہ ترے مقدر کا
حبش سے تجھ کو اٹھا کر حجاز ميں لايا
❤️ 0   👁 8
نظم
ميرے ويرانے سے کوسوں دور ہے تيرا وطن
ہے مگر دريائے دل تيري کشش سے موجزن
❤️ 0   👁 11
نظم
جا بسا مغرب ميں آخر اے مکاں تيرا مکيں
آہ! مشرق کي پسند آئي نہ اس کو سر زميں
❤️ 0   👁 11
نظم
نہيں منت کش تاب شنيدن داستاں ميري
خموشي گفتگو ہے بے زباني ہے زباں ميري
❤️ 0   👁 12
نظم
ميں نے چاقو تجھ سے چھينا ہے تو چلاتا ہے تو
مہرباں ہوں ميں ، مجھے نا مہرباں سمجھا ہے تو
❤️ 0   👁 6
نظم
رخصت اے بزم جہاں! سوئے وطن جاتا ہوں ميں
آہ! اس آباد ويرانے ميں گھبراتا ہوں ميں
❤️ 0   👁 14
نظم
مضطرب رکھتا ہے ميرا دل بے تاب مجھے
عين ہستي ہے تڑپ صورت سيماب مجھے
❤️ 0   👁 13
نظم
قصہ دار و رسن بازي طفلانہ دل
التجائے 'ارني' سرخي افسانہء دل
❤️ 0   👁 14
نظم
قوم گويا جسم ہے ، افراد ہيں اعضائے قوم
منزل صنعت کے رہ پيما ہيں دست و پائے قوم
❤️ 0   👁 61
نظم
اک مولوي صاحب کي سناتا ہوں کہاني
تيزي نہيں منظور طبيعت کي دکھاني
❤️ 0   👁 22
نظم
سہاني نمود جہاں کي گھڑي تھي
تبسم فشاں زندگي کي کلي تھي
❤️ 0   👁 10
نظم
اجالا جب ہوا رخصت جبين شب کي افشاں کا
نسيم زندگي پيغام لائي صبح خنداں کا
❤️ 0   👁 12
نظم
صبح خورشيد درخشاں کو جو ديکھا ميں نے
بزم معمورہ ہستي سے يہ پوچھا ميں نے
❤️ 0   👁 12
نظم
ٹوٹ کر خورشيد کي کشتي ہوئي غرقاب نيل
ايک ٹکڑا تيرتا پھرتا ہے روئے آب نيل
❤️ 0   👁 9
نظم
اے کہ تيرا مرغ جاں تار نفس ميں ہے اسير
اے کہ تيري روح کا طائر قفس ميں ہے اسير
❤️ 0   👁 9
نظم
کس زباں سے اے گل پژمردہ تجھ کو گل کہوں
کس طرح تجھ کو تمنائے دل بلبل کہوں
❤️ 0   👁 9
نظم
اے درد عشق! ہے گہر آب دار تو
نامحرموں ميں ديکھ نہ ہو آشکار تو
❤️ 0   👁 10
نظم
شورش ميخانہ انساں سے بالاتر ہے تو
زينت بزم فلک ہو جس سے وہ ساغر ہے تو
❤️ 0   👁 9
نظم
دنيا کي محفلوں سے اکتا گيا ہوں يا رب
کيا لطف انجمن کا جب دل ہي بجھ گيا ہو
❤️ 0   👁 9
نظم
بزم جہاں ميں ميں بھي ہوں اے شمع! دردمند
فرياد در گرہ صفت دانہ سپند
❤️ 0   👁 19
نظم
اے آفتاب! روح و روان جہاں ہے تو
شيرازہ بند دفتر کون و مکاں ہے تو
❤️ 0   👁 8
نظم
جل رہا ہوں کل نہيں پڑتي کسي پہلو مجھے
ہاں ڈبو دے اے محيط آب گنگا تو مجھے
❤️ 0   👁 13
نظم
عقل نے ايک دن يہ دل سے کہا
بھولے بھٹکے کي رہنما ہوں ميں
❤️ 0   👁 21
نظم
پروانہ تجھ سے کرتا ہے اے شمع پيار کيوں
يہ جان بے قرار ہے تجھ پر نثار کيوں
❤️ 0   👁 13
نظم
مہر روشن چھپ گيا ، اٹھي نقاب روئے شام
شانہ ہستي پہ ہے بکھرا ہوا گيسوئے شام
❤️ 0   👁 8
نظم
آتا ہے ياد مجھ کو گزرا ہوا زمانا
وہ باغ کي بہاريں وہ سب کا چہچہانا
❤️ 0   👁 9
نظم
ميں سوئي جو اک شب تو ديکھا يہ خواب
بڑھا اور جس سے مرا اضطراب
❤️ 0   👁 12
نظم
ٹہني پہ کسي شجر کي تنہا
بلبل تھا کوئي اداس بيٹھا
❤️ 0   👁 10
نظم
لب پہ آتي ہے دعا بن کے تمنا ميري
زندگي شمع کي صورت ہو خدايا ميري
❤️ 0   👁 12
نظم
اک چراگہ ہري بھري تھي کہيں
تھي سراپا بہار جس کي زميں
❤️ 0   👁 17
نظم
کوئي پہاڑ يہ کہتا تھا اک گلہري سے
تجھے ہو شرم تو پاني ميں جا کے ڈوب مرے
❤️ 0   👁 178
نظم
اک دن کسي مکھي سے يہ کہنے لگا مکڑا
اس راہ سے ہوتا ہے گزر روز تمھارا
❤️ 0   👁 96
نظم
ہے بلندي سے فلک بوس نشيمن ميرا
ابر کہسار ہوں گل پاش ہے دامن ميرا
❤️ 0   👁 14
نظم
فکر انساں پر تري ہستي سے يہ روشن ہوا
ہے پر مرغ تخيل کي رسائي تا کجا
❤️ 0   👁 16
نظم
تھے ديار نو زمين و آسماں ميرے ليے
وسعت آغوش مادر اک جہاں ميرے ليے
❤️ 0   👁 14
نظم
تو شناسائے خراش عقدئہ مشکل نہيں
اے گل رنگيں ترے پہلو ميں شايد دل نہيں
❤️ 0   👁 15
نظم
اے ہمالہ! اے فصيل کشور ہندوستاں
چومتا ہے تيري پيشاني کو جھک کر آسماں
❤️ 0   👁 23
غزل
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
❤️ 0   👁 15
ادبی AI معاون
● آن لائن