علامہ محمد اقبالؔ اردو اور فارسی ادب کے عظیم شاعر، مفکر، فلسفی اور برصغیر کے ممتاز دانشور تھے۔ آپ 9 نومبر 1877ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلی…
علامہ محمد اقبالؔ اردو اور فارسی ادب کے عظیم شاعر، مفکر، فلسفی اور برصغیر کے ممتاز دانشور تھے۔ آپ 9 نومبر 1877ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم سیالکوٹ میں حاصل کی، بعد ازاں گورنمنٹ کالج لاہور سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی جہاں آپ کو معروف مستشرق اور استاد سر تھامس آرنلڈ کی سرپرستی میسر آئی۔ مزید تعلیم کے لیے یورپ گئے، کیمبرج یونیورسٹی سے فلسفے کی تعلیم حاصل کی، میونخ یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی اور قانون کی تعلیم بھی مکمل کی۔
اقبالؔ نے اپنی شاعری کے ذریعے مسلمانوں میں خودی، خود اعتمادی، حریتِ فکر، عشقِ حقیقی اور عملِ مسلسل کا شعور بیدار کیا۔ ان کی شاعری محض جذبات کا اظہار نہیں بلکہ ایک مکمل فکری اور فلسفیانہ نظام کی آئینہ دار ہے۔ انہوں نے مشرقی اور اسلامی اقدار کو جدید تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی اور مسلمانوں کو اپنی اصل شناخت اور روحانی ورثے کی طرف متوجہ کیا۔
اردو شاعری میں اقبالؔ کو ایک منفرد مقام حاصل ہے۔ ان کی مشہور تصانیف میں بانگِ درا، بالِ جبریل، ضربِ کلیم، ارمغانِ حجاز، اسرارِ خودی، رموزِ بے خودی، پیامِ مشرق اور جاوید نامہ شامل ہیں۔ ان کے افکار نے نہ صرف برصغیر بلکہ عالمِ اسلام کے فکری حلقوں پر گہرے اثرات مرتب کیے۔
سیاسی میدان میں بھی اقبالؔ کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ آپ نے 1930ء کے الٰہ آباد خطبے میں برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ ریاست کا تصور پیش کیا، جسے بعد میں قیامِ پاکستان کی فکری بنیاد قرار دیا گیا۔ اسی وجہ سے آپ کو "مفکرِ پاکستان"، "شاعرِ مشرق" اور "حکیم الامت" کے القابات سے یاد کیا جاتا ہے۔
علامہ اقبالؔ کا انتقال 21 اپریل 1938ء کو لاہور میں ہوا، لیکن ان کے افکار، شاعری اور پیغام آج بھی زندہ ہیں۔ ان کا کلام انسان کو خود شناسی، عمل، محبت، یقین اور بلندیِ کردار کا درس دیتا ہے۔ اقبالؔ کا شمار ان چند شاعروں میں ہوتا ہے جن کی آواز وقت کی حدود سے بلند ہو کر ہر دور کے انسان سے مخاطب دکھائی دیتی ہے۔
علامہ اقبالؔ کے چند شہرۂ آفاق اشعار
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے
افرادر کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی
وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزِ دروں
سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
یقیں محکم، عمل پیہم، محبت فاتحِ عالم
جہادِ زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا
ہم بلبلیں ہیں اس کی، یہ گلستاں ہمارا
علامہ اقبالؔ کی شاعری محض ادبی سرمایہ نہیں بلکہ ایک فکری تحریک ہے جو انسان کو اپنی ذات، اپنے مقصد اور اپنی ذمہ داریوں کا شعور عطا کرتی ہے۔ ان کا پیغام آج بھی اسی طرح تازہ، مؤثر اور رہنمائی فراہم کرنے والا ہے جیسے ان کے عہد میں تھا۔
بالِ جبریل PDF | علامہ محمد اقبالؒ کا روحانی و فکری شاہکار | اردو ادب ولا
کتب شاعری
ضربِ کلیم | علامہ محمد اقبالؔ | مکمل اردو متن PDF | اردو ادب ولا
کتب شاعری
بانگِ درا | علامہ محمد اقبالؔ | مکمل نظمیں | اردو ادب ولا