اشتہار
اشتہار
اشتہار
यह साइट जनाब अकबर शेख़ साहब
अकबर शेख़
के सम्मान में बनाई गई है
📖 उनके बारे में
غزل

مرزا غالبؔ کی غزل | بساطِ عجز میں تھا ایک دل | شرح، تجزیہ اور ادبی جائزہ

مرزا اسد اللہ بیگ خان غالبؔ ہفتہ، 4 جولائی 2026
👁 37 ❤️ 0
بساط عجز میں تھا ایک دل یک قطرہ خوں وہ بھی
سو رہتا ہے بہ انداز چکیدن سرنگوں وہ بھی
رہے اس شوخ سے آزردہ ہم چندے تکلف سے
تکلف بر طرف تھا ایک انداز جنوں وہ بھی
خیال مرگ کب تسکیں دل آزردہ کو بخشے
مرے دام تمنا میں ہے اک صید زبوں وہ بھی
نہ کرتا کاش نالہ مجھ کو کیا معلوم تھا ہمدم
کہ ہوگا باعث افزائش درد دروں وہ بھی
نہ اتنا برش تیغ جفا پر ناز فرماؤ
مرے دریائے بے تابی میں ہے اک موج خوں وہ بھی
مئے عشرت کی خواہش ساقی گردوں سے کیا کیجے
لیے بیٹھا ہے اک دو چار جام واژ گوں وہ بھی
مرے دل میں ہے غالبؔ شوق وصل و شکوۂ ہجراں
خدا وہ دن کرے جو اس سے میں یہ بھی کہوں وہ بھی
مجھے معلوم ہے جو تو نے میرے حق میں سوچا ہے
کہیں ہو جائے جلد اے گردش گردون دوں وہ بھی
نظر راحت پہ میری کر نہ وعدہ شب کے آنے کا
کہ میری خواب بندی کے لیے ہوگا فسوں وہ بھی
📖 सार

یہ غزل مرزا غالبؔ کی معروف غزلوں میں سے ہے جس میں شاعر نے عجز، عشق، جنوں، حسرت، دردِ دروں، بے تابی، وصل و ہجراں اور گردشِ زمانہ کو نہایت نازک اور معنی خیز انداز میں بیان کیا ہے۔ غالبؔ ہر شعر میں ایک نئی کیفیت پیدا کرتے ہیں اور "وہ بھی" کی ردیف کے ذریعے مضمون میں تسلسل اور معنوی گہرائی پیدا کرتے ہیں۔ غزل میں عاشق کی بے قراری، محبوب کی بے نیازی، دل کی آزردگی اور زندگی کی ناپائیداری کے مختلف پہلو سامنے آتے ہیں۔

📚 साहित्यिक समीक्षा

غالبؔ کی اس غزل میں کلاسیکی اردو غزل کے کئی اہم مضامین ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ دل، خون، جنوں، نالہ، تیغِ جفا، دریائے بے تابی، جام، وصل، ہجراں اور گ…

غالبؔ کی اس غزل میں کلاسیکی اردو غزل کے کئی اہم مضامین ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ دل، خون، جنوں، نالہ، تیغِ جفا، دریائے بے تابی، جام، وصل، ہجراں اور گردشِ گردوں جیسی تراکیب غزل کی شعری فضا کو تشکیل دیتی ہیں۔

غالبؔ کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ ایک عام عاشقانہ کیفیت کو بھی ایسے انداز میں پیش کرتے ہیں کہ اس میں فلسفیانہ اور فکری پہلو پیدا ہو جاتا ہے۔

🖋️ आलोचनात्मक समीक्षा

غزل کی ایک نمایاں خصوصیت "وہ بھی" کی ردیف ہے۔ شاعر ہر شعر میں کسی شے کے باقی رہ جانے، کم ہونے یا ایک آخری امکان کے طور پر "وہ بھی"…

غزل کی ایک نمایاں خصوصیت "وہ بھی" کی ردیف ہے۔ شاعر ہر شعر میں کسی شے کے باقی رہ جانے، کم ہونے یا ایک آخری امکان کے طور پر "وہ بھی" لاتا ہے۔ اس سے غزل میں ایک خاص تسلسل اور افسردگی پیدا ہوتی ہے۔

غالبؔ نے عجز اور جنوں، نالہ اور درد، تیغِ جفا اور موجِ خوں، مئے عشرت اور جام جیسے تصورات کو باہم مربوط کرکے عشق کی پیچیدہ کیفیت پیش کی ہے۔

✦ केंद्रीय विचार

غزل کا مرکزی خیال عشق میں انسان کی بے بسی، دل کی آزردگی، محبوب کی بے نیازی، ہجر کا درد اور وصل کی خواہش ہے۔ شاعر اپنے دل کو ایک نہایت کمزور اور محدود …

غزل کا مرکزی خیال عشق میں انسان کی بے بسی، دل کی آزردگی، محبوب کی بے نیازی، ہجر کا درد اور وصل کی خواہش ہے۔ شاعر اپنے دل کو ایک نہایت کمزور اور محدود اثاثے کے طور پر پیش کرتا ہے، لیکن یہی دل عشق کے شدید جذبات کا مرکز بھی ہے۔

✦ शेर-दर-शेर व्याख्या

شعر 1
بساطِ عجز میں تھا ایک دل، یک قطرۂ خوں وہ بھی
سو رہتا ہے بہ اندازِ چکیدن سرنگوں وہ بھی
مشکل الفاظ کے معنی
بساط: بچھونا، میدان، گنجائش
عجز: …

شعر 1

بساطِ عجز میں تھا ایک دل، یک قطرۂ خوں وہ بھی
سو رہتا ہے بہ اندازِ چکیدن سرنگوں وہ بھی

مشکل الفاظ کے معنی

بساط: بچھونا، میدان، گنجائش
عجز: بے بسی، عاجزی
یک: ایک
قطرۂ خوں: خون کا ایک قطرہ
چکیدن: ٹپکنا
سرنگوں: جھکا ہوا

تشریح

غالبؔ کہتے ہیں کہ میری عاجزی اور بے بسی کی بساط پر صرف ایک دل تھا، اور وہ بھی خون کے ایک قطرے کی مانند نہایت کمزور اور نازک تھا۔ وہ دل بھی اس طرح جھکا ہوا ہے جیسے خون کا قطرہ ٹپکنے کے لیے تیار ہو۔
شاعر نے اپنے دل کی کیفیت کو انتہائی عجز، شکستگی اور بے بسی کے انداز میں بیان کیا ہے۔ عاشق کے پاس اپنے جذبات کے سوا کچھ نہیں، اور وہ بھی غم سے زخمی ہے۔

مرکزی مفہوم

عاشق کی انتہائی بے بسی اور شکستہ دلی۔

شعر 2

رہے اس شوخ سے آزردہ ہم چندے تکلف سے
تکلف برطرف تھا، ایک اندازِ جنوں وہ بھی

مشکل الفاظ کے معنی

شوخ: ناز و ادا والا محبوب
آزردہ: ناراض، رنجیدہ
چندے: کچھ مدت
تکلف: بناوٹ، رسمی احتیاط
برطرف: ختم، دور
جنوں: دیوانگی، عشق کی شدت

تشریح

شاعر کہتا ہے کہ ہم کچھ عرصے تک اس شوخ محبوب سے رسمی طور پر ناراض رہے۔ لیکن حقیقت میں یہ ناراضی بھی عشق کی ایک ادا تھی۔ جب تکلف اور بناوٹ کو ایک طرف رکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ ناراضی بھی دراصل جنونِ عشق ہی کا ایک انداز تھی۔
غالبؔ یہاں عاشقانہ ناراضی اور محبت کے درمیان موجود لطیف تعلق کو بیان کرتے ہیں۔

مرکزی مفہوم

عاشق کی ناراضی بھی دراصل عشق اور جنون ہی کا ایک انداز ہے۔

شعر 3

خیالِ مرگ کب تسکیں دلِ آزردہ کو بخشے
مرے دامِ تمنا میں ہے اک صیدِ زبوں وہ بھی

مشکل الفاظ کے معنی

خیالِ مرگ: موت کا خیال
تسکیں: سکون، اطمینان
آزردہ: زخمی، غم زدہ
دام: جال
تمنا: خواہش
صید: شکار
زبوں: کمزور، بے بس

تشریح

شاعر کہتا ہے کہ موت کا خیال بھی میرے زخمی دل کو سکون نہیں دے سکتا۔ میری خواہشات کے جال میں ایک کمزور شکار پہلے ہی گرفتار ہے، اور وہ خود شاعر کا دل یا عاشق ہے۔
یہاں دامِ تمنا ایک خوبصورت استعارہ ہے۔ شاعر کے نزدیک خواہشات انسان کو آزاد نہیں کرتیں بلکہ اسے اپنے جال میں گرفتار کر لیتی ہیں۔

مرکزی مفہوم

خواہشات کے جال میں گرفتار عاشق کو موت کا خیال بھی سکون نہیں دے سکتا۔

شعر 4

نہ کرتا کاش نالہ، مجھ کو کیا معلوم تھا ہمدم
کہ ہوگا باعثِ افزائشِ دردِ دروں وہ بھی

مشکل الفاظ کے معنی

کاش: افسوس/آرزو کے اظہار کا لفظ
نالہ: فریاد، آہ و زاری
ہمدم: دوست، راز دار
باعث: سبب
افزائش: اضافہ
دردِ دروں: اندرونی درد

تشریح

شاعر اپنے دوست سے کہتا ہے کہ کاش میں نے فریاد نہ کی ہوتی۔ مجھے معلوم ہی نہیں تھا کہ اپنے دل کا درد بیان کرنے سے وہ کم ہونے کے بجائے اور زیادہ بڑھ جائے گا۔
یہاں غالبؔ ایک نفسیاتی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ بعض اوقات انسان اپنے غم کو زبان پر لاتا ہے تو اس کی یاد اور شدت مزید بڑھ جاتی ہے۔

مرکزی مفہوم

اپنے درد کا اظہار کبھی کبھی درد کو کم کرنے کے بجائے مزید بڑھا دیتا ہے۔

شعر 5

نہ اتنا برشِ تیغِ جفا پر ناز فرماؤ
مرے دریائے بے تابی میں ہے ایک موجِ خوں وہ بھی

مشکل الفاظ کے معنی

برش: تیزی، کاٹنے کی صلاحیت
تیغ: تلوار
جفا: بے وفائی، ظلم
ناز: فخر، غرور
دریائے بے تابی: بے قراری کا سمندر
موجِ خوں: خون کی لہر

تشریح

شاعر محبوب سے کہتا ہے کہ اپنی ظلم و جفا کی تلوار کی تیزی پر اتنا فخر نہ کرو۔ میرے اندر پہلے ہی بے قراری کا ایک ایسا سمندر موجزن ہے جس میں خون کی ایک لہر بھی موجود ہے۔
یعنی محبوب کے ظلم سے عاشق پہلے ہی زخمی اور بے قرار ہے؛ اس لیے مزید جفا کرنا کوئی نئی بات نہیں۔ یہاں دریائے بے تابی اور موجِ خوں نہایت مؤثر استعارات ہیں۔

مرکزی مفہوم

عاشق محبوب کی جفا سے پہلے ہی زخمی اور بے قرار ہے۔

شعر 6

مئے عشرت کی خواہش، ساقیِ گردوں سے کیا کیجے
لیے بیٹھا ہے ایک دو چار جامِ واژگوں وہ بھی

مشکل الفاظ کے معنی

مئے: شراب
عشرت: خوشی، عیش
ساقی: شراب پلانے والا
گردوں: آسمان؛ مجازاً زمانہ یا تقدیر
جام: پیالہ
واژگوں: الٹا، اوندھا

تشریح

شاعر کہتا ہے کہ زمانے یا تقدیر کے ساقی سے خوشی کی شراب کی خواہش کرنا بھی کیا فائدہ، کیونکہ وہ جو چند جام لیے بیٹھا ہے وہ بھی الٹے ہوئے ہیں۔
یہاں ساقیِ گردوں کو زمانے یا تقدیر کے استعارے کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔ شاعر کے نزدیک زمانہ انسان کو خوشی کے جام دینے کے بجائے الٹے جام دکھاتا ہے، یعنی حالات سازگار نہیں۔

مرکزی مفہوم

تقدیر سے خوشی کی توقع رکھنا مشکل ہے، کیونکہ زمانہ اکثر انسان کی خواہش کے خلاف چلتا ہے۔

شعر 7

مرے دل میں ہے غالبؔ شوقِ وصل و شکوۂ ہجراں
خدا وہ دن کرے جو اس سے میں یہ بھی کہوں، وہ بھی

مشکل الفاظ کے معنی

شوقِ وصل: ملاقات کی خواہش
شکوۂ ہجراں: جدائی کی شکایت
وصل: ملاپ، ملاقات
ہجراں: جدائی
کہوں: بیان کروں

تشریح

غالبؔ اپنے دل کی کیفیت بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میرے دل میں محبوب سے ملنے کی شدید خواہش بھی ہے اور اس سے جدائی کی شکایت بھی۔ خدا وہ دن لائے جب مجھے محبوب سے براہِ راست یہ سب کہنے کا موقع ملے۔
یہ شعر پوری غزل کی عاشقانہ کیفیت کو سمیٹ دیتا ہے۔ عاشق کے دل میں امیدِ وصل اور شکایتِ ہجر دونوں ایک ساتھ موجود ہیں۔

مرکزی مفہوم

عاشق وصل کا خواہش مند ہے اور ہجر کا شکوہ محبوب کے سامنے بیان کرنا چاہتا ہے۔

شعر 8

مجھے معلوم ہے جو تو نے میرے حق میں سوچا ہے
کہیں ہو جائے جلد، اے گردشِ گردوں، وہ بھی

مشکل الفاظ کے معنی

حق میں: بارے میں، متعلق
گردشِ گردوں: زمانے/آسمان کی گردش
جلد: فوراً، جلدی
ہو جائے: واقع ہو جائے

تشریح

شاعر کہتا ہے کہ مجھے اندازہ ہے کہ اے گردشِ زمانہ! تو نے میرے لیے کیا فیصلہ کر رکھا ہے۔ اب میری خواہش ہے کہ جو کچھ ہونا ہے، جلدی ہو جائے۔
اس شعر میں شاعر کا تقدیر اور زمانے سے مکالمہ محسوس ہوتا ہے۔ وہ حالات کے فیصلے سے باخبر ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور انتظار کی اذیت سے نجات چاہتا ہے۔

مرکزی مفہوم

تقدیر کے فیصلے سے واقف عاشق انتظار کے بجائے جلد نتیجے کا خواہش مند ہے۔

شعر 9

نظرِ راحت پہ میری کر نہ وعدہ شب کے آنے کا
کہ میری خواب بندی کے لیے ہوگا فسوں وہ بھی

مشکل الفاظ کے معنی

نظرِ راحت: سکون کی نظر / آرام کی امید
وعدہ: قول، یقین دہانی
شب: رات
خواب بندی: خواب میں گرفتار ہونا / خواب پیدا ہونا
فسوں: جادو، طلسم

تشریح

شاعر کہتا ہے کہ مجھے رات آنے اور آرام ملنے کا وعدہ نہ دو، کیونکہ اگر رات اور نیند آ بھی گئی تو میرے خواب بھی مجھے اپنی گرفت میں لے لیں گے۔ یعنی ظاہری نیند بھی میرے دل کی بے قراری کو ختم نہیں کر سکے گی۔
یہاں خواب بندی کا فسوں ایک خوبصورت استعاراتی تصور ہے۔ عاشق جاگتے ہوئے بھی بے چین ہے اور سو کر بھی خوابوں کے ذریعے اسی کیفیت میں گرفتار رہتا ہے۔

مرکزی مفہوم

عاشق کی بے قراری اتنی شدید ہے کہ نیند اور خواب بھی اسے حقیقی سکون نہیں دے سکتے۔

مجموعی مفہوم

اس غزل میں غالبؔ نے عشق، بے بسی، جنون، حسرت، دردِ دروں، جفائے محبوب، شوقِ وصل اور ہجر کی بے قراری کو نہایت نازک اور تہہ دار انداز میں بیان کیا ہے۔
ردیف "وہ بھی" ہر شعر میں ایک نئی کیفیت پیدا کرتی ہے۔ کہیں دل کی شکستگی ہے، کہیں جنون کی کیفیت، کہیں خواہش کا جال، کہیں درد میں اضافہ اور کہیں وصل کی امید۔
غزل کا مجموعی تاثر یہ ہے کہ عاشق کے لیے عشق ایک ایسی کیفیت ہے جس میں سکون کی ہر راہ بھی آخرکار اسی درد، خواہش اور بے قراری کی طرف واپس لے آتی ہے۔

✦ कलात्मक ख़ूबियाँ

نازک خیالی
معنی آفرینی
صنعتِ تضاد
استعارات کا استعمال
فارسی آمیز تراکیب
عشق و ہجر کے روایتی مضامین
"وہ بھی" کی ردیف کا خوبصورت استعمال…

نازک خیالی
معنی آفرینی
صنعتِ تضاد
استعارات کا استعمال
فارسی آمیز تراکیب
عشق و ہجر کے روایتی مضامین
"وہ بھی" کی ردیف کا خوبصورت استعمال
داخلی کیفیت نگاری
تشبیہ اور استعارہ
موسیقیت اور لفظی مناسبت

✦ प्रतीकवाद

دل
محبت، احساس اور انسانی باطن کی بنیادی علامت۔
قطرۂ خوں
شدید جذبات، قربانی اور باقی رہ جانے والی آخری توانائی کی علامت۔
سرنگوں
عجز، شکستگی اور ف…

دل

محبت، احساس اور انسانی باطن کی بنیادی علامت۔

قطرۂ خوں

شدید جذبات، قربانی اور باقی رہ جانے والی آخری توانائی کی علامت۔

سرنگوں

عجز، شکستگی اور فروتنی کی علامت۔

جنوں

عشق کی انتہا، بے خودی اور جذباتی شدت کی علامت۔

صید

عاشق کی بے بسی اور محبوب کے اختیار میں ہونے کی علامت۔

نالہ

دل کے درد اور اندرونی کرب کے اظہار کی علامت۔

تیغِ جفا

محبوب کی بے اعتنائی اور عشق میں پہنچنے والے زخم کی علامت۔

موجِ خوں

شدید بے تابی اور زخمی دل کی علامت۔

جام

خوشی، سرور اور زندگی کی لذت کی علامت۔

گردشِ گردوں

زمانے کی گردش، تقدیر اور حالات کے بدلتے ہوئے رخ کی علامت۔

شب

انتظار، ہجر اور بے قراری کی علامت۔

✦ रूपक और उपमाएँ

"یک قطرۂ خوں"
دل کو خون کے ایک قطرے سے وابستہ کرکے عاشق کی انتہائی کم مائیگی اور شکستگی کو نمایاں کیا گیا ہے۔
"دامِ تمنا"
خواہ…

"یک قطرۂ خوں"

دل کو خون کے ایک قطرے سے وابستہ کرکے عاشق کی انتہائی کم مائیگی اور شکستگی کو نمایاں کیا گیا ہے۔

"دامِ تمنا"

خواہشات کو جال سے تشبیہ دینے والا خوبصورت استعارہ ہے۔ انسان اپنی خواہشوں کے جال میں خود گرفتار ہو جاتا ہے۔

"صیدِ زبوں"

عاشق کو کمزور شکار کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو خواہشات اور عشق کے ہاتھوں بے بس ہے۔

"دردِ دروں"

اندرونی درد کو ایک مستقل باطنی کیفیت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

"دریائے بے تابی"

بے قراری کو سمندر یا دریا سے تشبیہ دی گئی ہے۔ اس سے بے تابی کی وسعت اور شدت ظاہر ہوتی ہے۔

"موجِ خوں"

خون کی موج ایک ایسا استعارہ ہے جو عشق کے زخم، کرب اور بے قراری کو شدت کے ساتھ ظاہر کرتا ہے۔

"مئے عشرت"

خوشی اور سرور کو شراب کے استعارے میں پیش کیا گیا ہے۔

"شوقِ وصل"

محبوب سے ملاقات کی شدید خواہش کا اظہار ہے۔

"شکوۂ ہجراں"

جدائی کے دکھ کو ایک باقاعدہ شکایت اور داخلی کرب کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

"گردشِ گردوں"

آسمان کی گردش کے ذریعے زمانے، تقدیر اور حالات کے بدلاؤ کو ظاہر کیا گیا ہے۔

✦ शायर के वैचारिक आयाम

1۔ عشق میں عجز
غالبؔ کے نزدیک عشق انسان کو اپنی کمزوری اور بے بسی کا احساس دلاتا ہے۔ عاشق کے پاس سب کچھ ہوتے ہوئے بھی محبوب کے سامنے اس کا دل بے اختی…

1۔ عشق میں عجز

غالبؔ کے نزدیک عشق انسان کو اپنی کمزوری اور بے بسی کا احساس دلاتا ہے۔ عاشق کے پاس سب کچھ ہوتے ہوئے بھی محبوب کے سامنے اس کا دل بے اختیار ہو جاتا ہے۔

2۔ خواہش خود ایک گرفت ہے

"دامِ تمنا" میں یہ فکر سامنے آتی ہے کہ انسان اپنی خواہشات کا خود قیدی بن جاتا ہے۔ خواہش پوری نہ ہو تو حسرت پیدا ہوتی ہے اور پوری ہو جائے تو نئی خواہش جنم لے سکتی ہے۔

3۔ درد کی افزائش

غالبؔ کے ہاں درد صرف ایک کیفیت نہیں بلکہ بڑھنے والی کیفیت ہے۔ نالہ کرنے سے کبھی کبھی دل کا درد کم ہونے کے بجائے مزید نمایاں اور شدید محسوس ہوتا ہے۔

4۔ عشق اور بے تابی

عشق کی شدت کو شاعر "دریائے بے تابی" سے تعبیر کرتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عشق ایک محدود جذبہ نہیں بلکہ عاشق کے پورے وجود کو اپنی گرفت میں لے سکتا ہے۔

5۔ وصل کی خواہش اور ہجر کا شکوہ

غزل میں عاشق کے دل میں بیک وقت شوقِ وصل اور شکوۂ ہجراں موجود ہے۔ یہی تضاد کلاسیکی غزل کی بنیادی کیفیات میں سے ایک ہے۔

6۔ زمانے کی بے ثباتی

"گردشِ گردوں" کے ذریعے غالبؔ زندگی کے حالات اور زمانے کی بے ثباتی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ انسان کی خواہشیں اپنی جگہ ہوتی ہیں لیکن زمانہ ہمیشہ اس کے مطابق نہیں چلتا۔

✦ आज के दौर में ग़ज़ल की प्रासंगिकता

اس غزل میں بیان ہونے والی محبت، انتظار، خواہش، مایوسی، بے قراری اور حالات سے کشمکش آج بھی انسانی تجربے کا حصہ ہیں۔ اسی وجہ سے غالبؔ کی شاعری مختلف ادو…

اس غزل میں بیان ہونے والی محبت، انتظار، خواہش، مایوسی، بے قراری اور حالات سے کشمکش آج بھی انسانی تجربے کا حصہ ہیں۔ اسی وجہ سے غالبؔ کی شاعری مختلف ادوار کے قارئین کو اپنے جذبات سے جوڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

← पिछला अगला →

✍️ مرزا اسد اللہ بیگ خان غالبؔ — संक्षिप्त परिचय

مرزا اسد اللہ بیگ خان غالبؔ
📍 آگرہ، ہندوستان

مرزا غالب کی سوانح حیات
مرزا غالب اردو اور فارسی ادب کے ان عظیم ترین شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی فکر، تخیل، فلسفے اور اسلوبِ بیان سے شاعری کو ایک نئی جہت عطا کی۔ ان کا شمار ان چند ادیبوں میں ہوتا ہے جن کا کلام وقت گزرنے کے ساتھ مزید معتبر اور مقبول ہوتا گیا۔ غالبؔ نے انسانی نفسیات، عشق، کائنات، تقدیر، وجود، عقل اور جذبات جیسے پیچیدہ موضوعات کو اس انداز سے بیان کیا کہ ان کی شاعری ہر دور ک …

और पढ़ें ←
غزل क्या है?

غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔

مرزا اسد اللہ بیگ خان غالبؔ की और रचनाएँ
ہجوم نالہ حیرت عاجز عرض یک افغاں ہے خموشی ریشۂ صد نیستاں سے خس بہ دنداں ہے تکلف بر طرف ہے جاں ستاں ت...
گھر جب بنا لیا ترے در پر کہے بغیر جانے گا اب بھی تو نہ مرا گھر کہے بغیر؟ کہتے ہیں جب رہی نہ مجھے طاق...
دل سخت نژند ہو گیا ہے گویا اُس سے گِلہ مند ہو گیا ہے گویا پَر یار کے آگے بول سکتے ہی نہیں غالبؔ منہ ...
دیوانِ غالب اردو ادب کی تاریخ کا ایک ایسا شاہکار ہے جس نے شاعری کے معیار، فکری گہرائی اور زبان و بیا...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 टिप्पणियाँ (0)
टिप्पणी करने के लिए लॉग इन करें

अभी कोई टिप्पणी नहीं — पहली टिप्पणी करें!

साहित्यिक AI सहायक
● ऑनलाइन