اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
کہانی

آئینے کا جنگل

علیم طاہرؔ
علیم طاہرؔ بدھ، 20 مئی 2026
👁 9 ❤️ 1

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک گھنے جنگل کے بیچوں بیچ ایک عجیب و غریب درخت اگ آیا۔ اس درخت پر نہ پھل تھے، نہ پتے، مگر اس کی شاخوں پر لگے ہوئے شفاف آئینے ہر آتے جاتے کو اپنی صورت دکھاتے تھے۔
شروع میں جانوروں نے اسے محض ایک نرالا تماشہ سمجھا، لیکن جلد ہی وہ آئینے ان کی زندگی کا مرکز بن گئے۔ ہر جانور دن میں کئی بار آتا، اپنی صورت دیکھتا، کچھ مسکراتا، کچھ ناراض ہوتا، کچھ اپنی جھوٹی شان میں اور بڑھ چڑھ کر کہانیاں سناتا۔
لومڑی نے کہا، “واہ، میں تو سب سے چالاک لگ رہی ہوں، اس جنگل کی رانی مجھے ہی ہونا چاہیے!”
ہرن بولا، “میری چال تو کسی شہزادے سے کم نہیں، باقی سب صرف تماشائی ہیں۔”
خرگوش نے آئینے میں خود کو دیکھا اور شرمندہ سا ہو کر بھاگ گیا۔ ریچھ نے جب خود کو دیکھا تو آئینہ توڑنے پر آمادہ ہو گیا، مگر آئینہ کبھی ٹوٹتا نہیں تھا۔
جلد ہی جنگل کا سکون ختم ہو گیا۔ ہر جانور دوسرے کو کمتر سمجھنے لگا۔ دوستی، ہمدردی، خدمت سب ماضی کا قصہ بن گئی۔ آئینے خود سے باتیں کرتے کرتے جانوروں کو خود پرست اور مغرور بنا چکے تھے۔
ایک دن ایک اندھی چڑیا جنگل میں آ پہنچی۔ اس نے ان آئینوں کو دیکھا نہیں، مگر اس کی آواز سب سے اونچی تھی۔
وہ بولی، “میں تو دیکھ نہیں سکتی، مگر سنا ہے کہ تم سب آئینے دیکھتے ہو۔ کیا ان میں تمہیں صرف اپنی خوبصورتی نظر آتی ہے؟ کیا کبھی تم نے کسی اور کی آنکھوں میں خود کو دیکھا ہے؟”
جانور ساکت رہ گئے۔ انہیں پہلی بار کسی اندھی کی آنکھوں سے دیکھنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔
اسی دن کے بعد، آئینے دھندلے ہونے لگے۔ جانور ایک بار پھر مل جل کر رہنے لگے، کیونکہ وہ جان گئے تھے:
> "خود کو دیکھنے سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ ہم دوسرے کو بھی دیکھیں، سمجھیں اور اپنائیں۔"

علیم طاہرؔ کی مزید تحریریں
ڈاکٹر بشیر بدر: محبت، درد اور تہذیبِ غزل کا روشن باب | شخصیت، شاعری اور ادبی خدمات
## ڈاکٹر بشیر بدر: محبت، درد اور تہذیبِ غزل کا روشن باب ### ایک ایسا شاعر جس کے...
چراغِ آخر
بوڑھا شاعر اپنی آخری نظم لکھ رہا تھا۔ بیٹے نے پوچھا: "اب اس عمر میں کیوں ...
بند کتاب
بوڑھا استاد روز اپنی پرانی کتابیں صاف کرتا تھا۔ بیٹے نے کہا: "اب اِنہیں ک...
آئس کریم
چھوٹا بچہ آئس کریم والے کو حسرت سے دیکھ رہا تھا۔ ایک اجنبی نے اُسے آئس کریم خری...
مزید متعلقہ نثر
احساس کا چِپ
سال 2250ء۔ انسان ترقی کر چکا تھا، اتنا کہ اب دکھ، خوشی، محبت، خفگی — سب جذبات ا...
یادداشتوں کا بازار
سال 2450ء۔ دنیا کے بڑے شہروں میں اب ایک نیا بازار قائم ہو چکا تھا — جسے کہتے ت...
نیند چُرانے والا روبوٹ
سال 2301ء۔ دنیا ایک ایسی جگہ بن چکی تھی جہاں نیند خریدی جاتی تھی۔ جی ہاں! نیند...
وقت کا تاجر
دنیا کے ایک خاموش شہر میں، جہاں وقت رُک رُک کر چلتا تھا، ایک عجیب سی دکان کھلی —...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن