آئینے کا جنگل
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک گھنے جنگل کے بیچوں بیچ ایک عجیب و غریب درخت اگ آیا۔ اس درخت پر نہ پھل تھے، نہ پتے، مگر اس کی شاخوں پر لگے ہوئے شفاف آئینے ہر آتے جاتے کو اپنی صورت دکھاتے تھے۔
شروع میں جانوروں نے اسے محض ایک نرالا تماشہ سمجھا، لیکن جلد ہی وہ آئینے ان کی زندگی کا مرکز بن گئے۔ ہر جانور دن میں کئی بار آتا، اپنی صورت دیکھتا، کچھ مسکراتا، کچھ ناراض ہوتا، کچھ اپنی جھوٹی شان میں اور بڑھ چڑھ کر کہانیاں سناتا۔
لومڑی نے کہا، “واہ، میں تو سب سے چالاک لگ رہی ہوں، اس جنگل کی رانی مجھے ہی ہونا چاہیے!”
ہرن بولا، “میری چال تو کسی شہزادے سے کم نہیں، باقی سب صرف تماشائی ہیں۔”
خرگوش نے آئینے میں خود کو دیکھا اور شرمندہ سا ہو کر بھاگ گیا۔ ریچھ نے جب خود کو دیکھا تو آئینہ توڑنے پر آمادہ ہو گیا، مگر آئینہ کبھی ٹوٹتا نہیں تھا۔
جلد ہی جنگل کا سکون ختم ہو گیا۔ ہر جانور دوسرے کو کمتر سمجھنے لگا۔ دوستی، ہمدردی، خدمت سب ماضی کا قصہ بن گئی۔ آئینے خود سے باتیں کرتے کرتے جانوروں کو خود پرست اور مغرور بنا چکے تھے۔
ایک دن ایک اندھی چڑیا جنگل میں آ پہنچی۔ اس نے ان آئینوں کو دیکھا نہیں، مگر اس کی آواز سب سے اونچی تھی۔
وہ بولی، “میں تو دیکھ نہیں سکتی، مگر سنا ہے کہ تم سب آئینے دیکھتے ہو۔ کیا ان میں تمہیں صرف اپنی خوبصورتی نظر آتی ہے؟ کیا کبھی تم نے کسی اور کی آنکھوں میں خود کو دیکھا ہے؟”
جانور ساکت رہ گئے۔ انہیں پہلی بار کسی اندھی کی آنکھوں سے دیکھنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔
اسی دن کے بعد، آئینے دھندلے ہونے لگے۔ جانور ایک بار پھر مل جل کر رہنے لگے، کیونکہ وہ جان گئے تھے:
> "خود کو دیکھنے سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ ہم دوسرے کو بھی دیکھیں، سمجھیں اور اپنائیں۔"



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!