غزل
دانش فراق
جمعہ، 12 جون 2026
👁 568
❤️ 1
درد کی شب میں چراغِ آرزو جلتا رہا
دل کسی موہوم نقشے کی طرف جاتا رہا
شوق کے صحرا میں نقشِ آرزو بنتا رہا
اور پھر گردِ سفر میں آپ ہی مٹتا رہا
ہر حقیقت ایک پردہ وہم میں لپٹی رہی
ذہن کے ایوان میں یہ سلسلہ چلتا رہا
میں نے جس لمحے کو پایا، وہ بھی ماضی ہو گیا
وقت کا دریا عجب رفتار سے بہتا رہا
شمعِ معنی کی تپش سے جل گیا شہرِ خیال
اور دھواں سا فکر کے ایوان سے اٹھتا رہا
خاکِ راہِ جستجو تھی، دشت تھا، تنہائی تھی
عمر بھر اک قافلہ بے نام سا چلتا رہا
📖 خلاصہ
یہ غزل آرزو، جستجو، وقت اور حقیقت کے موضوعات کے گرد گھومتی ہے۔ شاعر زندگی کو ایک مسلسل سفر قرار دیتا ہے جہاں خواہشیں جنم لیتی ہیں، مٹ جاتی ہیں، سوال پیدا ہوتے ہیں اور وقت سب کچھ اپنے ساتھ بہا لے جاتا …
✍️ سید دانش نقوی — مختصر تعارف
📍 ڈسکہ
شاعر کا نام سید دانش نقوی ہے اور قلمی نام فراق رکھتے ہیں نوجوان نمائندہ شاعر ہیں پاکستان کے شہر ڈسکہ میں رہائش پذیر ہیں۔ اُردو ادب فن شاعری پر خاصہ عبور رکھتے ہیں ۔ ان کا ایک معروف شعر دیکھئے ۔
مرحلے یوں بھی سر کریں گے ہم
تجھ سے تجھ تک سفر کریں گے ہم
دانش فراق
غزل کیا ہے؟
غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔
دانش فراق کی مزید
نقشِ امید دلِ زار سے جاتا ہی نہیں
تیرا چرچا مرے افکار سے جاتا ہی نہیں
جس کو چاہا تھا وہی دور کھڑا ...
مرحلے یوں بھی سر کریں گے ہم
تجھ سے تجھ تک سفر کریں گے ہم
اک دھواں سا مرے دل کے مکاں سے اٹھا
آپ پہلو سے اٹھے اور جی جہاں سے اٹھا
دل گرفتہ فضا رہی ہے آج
...
دل کے صحرا میں عجب گردِ سفر باقی رہی
عمر گزری بھی تو اک راہ گزر باقی رہی
نقش مٹتے ہی گئے لوحِ زم...



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!