نعت
اویسؔ احمد
جمعرات، 11 جون 2026
👁 27
❤️ 0
اس رب کائنات کی رب الغفور کی
حمد و ثنا بیاں کروں میں رب کے نور کی
قلب و نظر کو پھر مرے حاجت ہے نور کی
گرد و غبار ہے جمی فسق و فجور کی
اللہ کے حضور میں کرتا ہوں التجا
خیرات ہی میں دیجیے الفت حضور کی
ظلمت چہار سمت تھی پھیلی جہان میں
آقا نے آ کے پھر شبِ دیجور دور کی
تاریکیوں کا دور ہوا ختم دوستو
دنیا میں جس گھڑی ہوئی آمد حضور کی
وہ کونسی گھڑی کا تھا عالم کو انتظار
پرنور اک گھڑی تھی وہ قدسی ظہور کی
📖 خلاصہ
اس کلام میں شاعر نے سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی ہے اور اس کے نور کی طلب کو اپنے دل کی ضرورت قرار دیا ہے۔ شاعر اعتراف کرتا ہے کہ گناہوں اور برائیوں کی گرد دل و نظر پر جم جاتی ہے جسے صرف…
#حمد
#نعت
#حمدیہ شاعری
#نعتیہ شاعری
#اُویس احمد
#اسلامی شاعری
#نورِ الٰہی
#حضور اکرم ﷺ
#میلاد النبی ﷺ
#اردو ادب
#اردو شاعری
#عشق رسول ﷺ
✍️ اویسؔ احمد — مختصر تعارف
📍 امراوتی، مہاراشٹر،ہندوستان
محمد اویس عبد الخالق، جن کا قلمی نام اُویسؔ احمد ہے، کا تعلق شہر امراوتی، ریاست مہاراشٹر، ہندوستان سے ہے۔ وہ اردو شاعری کے ایک مخلص طالبِ علم ہیں جنہیں دینی، اصلاحی اور اخلاقی موضوعات پر اظہارِ خیال کرنے سے خصوصی شغف ہے۔ ان کے نزدیک شاعری محض جذبات کی ترجمانی کا نام نہیں بلکہ معاشرے میں مثبت فکر، اخلاقی شعور اور انسانی اقدار کو فروغ دینے کا ایک مؤثر ذریعہ بھی ہے۔
07 اکتوبر 1995 کو پیدا ہونے والے …
نعت کیا ہے؟
نعت حضور نبی کریم ﷺ کی مدح و ثنا میں لکھی جانے والی شاعری ہے جو اردو ادب کی ایک بیش قیمت روایت ہے۔
اویسؔ احمد کی مزید
اس رب کائنات کی رب الغفور کی
حمد و ثنا بیاں کروں میں رب کے نور کی
قلب و نظر کو پھر مرے حاجت ہے ...
واعظِ قوم شہادت کے فضائل رکھ دے
قوم کے سامنے موجودہ مسائل رکھ دے
اپنی پستی کے تو اسباب و عوامل ر...



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!