اشتہار
اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
حمد

قدرتِ الٰہی کے رنگ اور مظاہر — اویس اُنیس

اُوَیسؔ احمد بدھ، 10 جون 2026
👁 30 ❤️ 1
مہ کو تابندگی بخشے جو سیہ راتوں میں
وہی قادر وہی مالک ہے سبھی ذاتوں میں
اس کی تخلیق کے ہے رنگ نمایاں دیکھیں
کھیت خلیان سمندر میں مرے ہاتھوں میں
اپنی قدرت کے نظارے وہ دکھاتا ہے ہمیں
رات میں دن میں زمستان میں برساتوں میں
ہر بڑے چھوٹے عمل کا وہ بدل دیتا ہے
لکھے جاتے ہیں سبھی فعل وہاں کھاتوں میں
اس کی قدرت کے مظاہر بھی ہیں ہر شے میں نہاں
معجزوں کشف و کرامات جھکے ماتھوں میں
📖 خلاصہ

اویس انیس کی یہ حمدیہ غزل اللہ تعالیٰ کی قدرت، عظمت اور ربوبیت کا بیان ہے۔ شاعر کائنات کے مختلف مظاہر، چاند، رات، کھیت، سمندر، موسموں اور انسان کے اعمال کا ذکر کرتے ہوئے اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ پوری کائنات ایک ہی قادرِ مطلق کے نظام کے تحت چل رہی ہے۔ ہر شے میں اس کی قدرت کی نشانیاں نمایاں ہیں اور انسان کے تمام اعمال بھی اس کے علم میں محفوظ ہیں۔ غزل کا بنیادی پیغام اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، قدرتِ کاملہ اور اس کی عظمت کا اعتراف ہے۔

📚 ادبی جائزہ

شاعر نے فطرت کے مانوس مناظر کو روحانی احساس کے ساتھ جوڑ کر ایک حمدیہ فضا تخلیق کی ہے۔ زبان سادہ اور براہِ راست ہے، جب کہ قدرت کے مختلف مظاہر کو اشعار …

شاعر نے فطرت کے مانوس مناظر کو روحانی احساس کے ساتھ جوڑ کر ایک حمدیہ فضا تخلیق کی ہے۔ زبان سادہ اور براہِ راست ہے، جب کہ قدرت کے مختلف مظاہر کو اشعار میں سمیٹنے کی کوشش کلام کو فکری وسعت عطا کرتی ہے۔

🖋️ تنقیدی جائزہ

کلام میں توحید، قدرتِ الٰہی اور جواب دہی کے تصورات نمایاں ہیں۔ شاعر نے تخلیقِ کائنات کے ساتھ انسانی اعمال کے حساب کا ذکر کرکے عقیدے کے دو اہم پہلوؤں ک…

کلام میں توحید، قدرتِ الٰہی اور جواب دہی کے تصورات نمایاں ہیں۔ شاعر نے تخلیقِ کائنات کے ساتھ انسانی اعمال کے حساب کا ذکر کرکے عقیدے کے دو اہم پہلوؤں کو یکجا کیا ہے۔ بعض مصرعوں میں خیال کی مزید وضاحت اور لفظی روانی کی گنجائش بھی موجود ہے۔

✦ مرکزی خیال

اس کلام کا مرکزی خیال یہ ہے کہ کائنات کی ہر شے اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حکمت کی گواہی دیتی ہے۔ رات کی تاریکی میں چاند کی روشنی ہو یا کھیتوں کی سرسبزی، …

اس کلام کا مرکزی خیال یہ ہے کہ کائنات کی ہر شے اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حکمت کی گواہی دیتی ہے۔ رات کی تاریکی میں چاند کی روشنی ہو یا کھیتوں کی سرسبزی، سمندروں کی وسعت ہو یا موسموں کی تبدیلی، ہر منظر خالقِ حقیقی کی عظمت کا آئینہ دار ہے۔

✦ شعر بہ شعر تشریح

مہ کو تابندگی بخشے جو سیہ راتوں میں
وہی قادر وہی مالک ہے سبھی ذاتوں میں
مشکل الفاظ:
مہ: چاند
تابندگی: روشنی، چمک، درخشندگی
سیہ راتیں: تاریک راتیں…

مہ کو تابندگی بخشے جو سیہ راتوں میں
وہی قادر وہی مالک ہے سبھی ذاتوں میں
مشکل الفاظ:
مہ: چاند
تابندگی: روشنی، چمک، درخشندگی
سیہ راتیں: تاریک راتیں
قادر: قدرت رکھنے والا
مالک: سب کا اختیار رکھنے والا
تشریح:
شاعر اس شعر میں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کی حاکمیت کا بیان کرتا ہے۔ تاریک راتوں میں چاند کو روشنی عطا کرنے والی ذات وہی قادرِ مطلق ہے۔ چاند اپنی روشنی اور خوب صورتی کے ساتھ کائنات کو منور کرتا ہے، مگر اس کی چمک بھی اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ہے۔ شاعر اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ کائنات کی ہر مخلوق اسی کی ملکیت اور اسی کے حکم کے تابع ہے۔ کوئی چیز اس کی قدرت سے باہر نہیں۔
مرکزی مفہوم:
کائنات میں روشنی ہو یا تاریکی، ہر شے اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اختیار کی محتاج ہے۔ وہی حقیقی مالک اور قادرِ مطلق ہے۔
اس کی تخلیق کے ہیں رنگ نمایاں دیکھیں
کھیت خلیان سمندر میں مرے ہاتھوں میں
مشکل الفاظ:
تخلیق: پیدا کرنا، وجود میں لانا
نمایاں: واضح، ظاہر
کھیت کھلیان: کھیتی باڑی کی زمینیں اور فصلوں کے میدان
سمندر: وسیع آبی ذخیرہ
تشریح:
اس شعر میں شاعر اللہ تعالیٰ کی تخلیق کے رنگا رنگ مظاہر کی طرف توجہ دلاتا ہے۔ کھیتوں کی سرسبزی، فصلوں کی فراوانی اور سمندروں کی بے پناہ وسعت سب اس کی قدرت کے جلوے ہیں۔ شاعر ان مناظر کو اپنے ہاتھوں میں محسوس کرنے کی بات کرتا ہے، گویا انسان کی زندگی اور اس کے گرد و پیش میں موجود ہر نعمت خالقِ حقیقی کی عطا ہے۔ یہ شعر انسان کو اپنی صلاحیتوں اور قدرتی وسائل پر غرور کرنے کے بجائے ان کے اصل عطا کرنے والے کو پہچاننے کا پیغام دیتا ہے۔
مرکزی مفہوم:
زمین کی زرخیزی، سمندروں کی وسعت اور کائنات کے تمام رنگ اللہ تعالیٰ کی تخلیقی قدرت کے مظاہر ہیں۔
اپنی قدرت کے نظارے وہ دکھاتا ہے ہمیں
رات میں دن میں زمستان میں برساتوں میں
مشکل الفاظ:
قدرت: طاقت، اختیار، الٰہی قوت
نظارے: دیکھنے کے مناظر
زمستان: سردیوں کا موسم
برسات: بارش کا موسم
تشریح:
شاعر کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کے جلوے ہر وقت اور ہر موسم میں دکھاتا رہتا ہے۔ رات کی خاموشی ہو یا دن کی روشنی، سردیوں کی ٹھنڈک ہو یا برسات کی رم جھم، ہر کیفیت میں اس کی حکمت اور قدرت کے آثار موجود ہیں۔ موسموں کا بدلنا، دن اور رات کا آنا جانا اور فطرت کا اپنا نظام برقرار رکھنا اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ یہ کائنات کسی بے مقصد اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک قادر و حکیم ذات کے نظام کے تحت چل رہی ہے۔
مرکزی مفہوم:
اللہ تعالیٰ کی قدرت کسی ایک وقت یا موسم تک محدود نہیں؛ کائنات کا ہر لمحہ اور ہر موسم اس کی نشانیوں سے معمور ہے۔
ہر بڑے چھوٹے عمل کا وہ بدل دیتا ہے
لکھے جاتے ہیں سبھی فعل وہاں کھاتوں میں
مشکل الفاظ:
عمل: کام، فعل
بدل: جزا یا سزا کا نتیجہ
فعل: کیا ہوا کام
کھاتے: حساب کی کتابیں، اعمال نامے
تشریح:
اس شعر میں شاعر اللہ تعالیٰ کے عدل اور روزِ حساب کی حقیقت بیان کرتا ہے۔ انسان اپنی زندگی میں جو بھی عمل کرتا ہے، خواہ وہ بڑا ہو یا چھوٹا، اللہ تعالیٰ کے علم سے پوشیدہ نہیں رہتا۔ ہر عمل کا حساب محفوظ ہے اور آخرت میں انسان کو اپنے اعمال کے مطابق جزا یا سزا ملے گی۔ یہ خیال انسان کو احساسِ ذمہ داری عطا کرتا ہے کہ اسے اپنی زندگی بے خبری اور غفلت میں نہیں گزارنی چاہیے، بلکہ ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھانا چاہیے۔
مرکزی مفہوم:
انسان کا کوئی عمل اللہ تعالیٰ کے علم سے پوشیدہ نہیں۔ ہر شخص کو اپنے اعمال کا حساب دینا ہے۔
اس کی قدرت کے مظاہر بھی ہیں ہر شے میں نہاں
معجزوں کشف و کرامات جھکے ماتھوں میں
مشکل الفاظ:
مظاہر: نشانیاں، جلوے
نہاں: پوشیدہ، چھپا ہوا
معجزے: اللہ کے حکم سے ظاہر ہونے والی غیر معمولی نشانیاں
کشف: باطنی حقیقتوں کا منکشف ہونا
کرامات: اللہ کے فضل سے نیک بندوں کے ہاتھوں ظاہر ہونے والی غیر معمولی باتیں
جھکے ماتھے: عاجزی اور عبادت میں جھکے ہوئے سر
تشریح:
شاعر اس شعر میں بیان کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے مظاہر صرف بڑے اور حیرت انگیز واقعات میں ہی نہیں بلکہ ہر شے میں پوشیدہ ہیں۔ معجزات، کشف اور کرامات بھی اسی کی عطا اور مشیت سے ظہور پذیر ہوتے ہیں۔ اسی طرح جب انسان کا سر عاجزی، عبادت اور بندگی میں جھکتا ہے تو وہ بھی اللہ تعالیٰ کی عظمت کے اعتراف کا ایک خوب صورت منظر بن جاتا ہے۔ شاعر گویا یہ سمجھاتا ہے کہ اصل قدرت اللہ ہی کی ہے؛ انسان کو اپنی ذات پر فخر کرنے کے بجائے اس کے حضور عاجزی اختیار کرنی چاہیے۔
مرکزی مفہوم:
کائنات کی ہر نشانی اللہ تعالیٰ کی قدرت کی گواہ ہے، اور انسان کی حقیقی عظمت اس کی بارگاہ میں عاجزی اور بندگی اختیار کرنے میں ہے۔
مجموعی تاثر:
یہ کلام حمدیہ فکر کا حامل ہے، جس میں شاعر نے کائنات کے مناظر، موسموں کی تبدیلی، انسانی اعمال اور عبادت و عاجزی کو اللہ تعالیٰ کی قدرت سے مربوط کیا ہے۔ اشعار کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ انسان اپنے اردگرد پھیلی ہوئی نشانیوں میں غور کرے، اپنے خالق کی عظمت پہچانے اور اپنے اعمال کے بارے میں ہمیشہ جواب دہی کا احساس رکھے۔

✦ فنی محاسن

قدرت کے مظاہر سے شعری فضا کی تشکیل۔
حمدیہ موضوع کے ساتھ فطری مناظر کا امتزاج۔
سادہ اور قابلِ فہم اسلوب۔
رات، دن، زمستان اور برسات کے ذریعے زمانی تن…

قدرت کے مظاہر سے شعری فضا کی تشکیل۔
حمدیہ موضوع کے ساتھ فطری مناظر کا امتزاج۔
سادہ اور قابلِ فہم اسلوب۔
رات، دن، زمستان اور برسات کے ذریعے زمانی تنوع۔
سوالیہ اور مشاہداتی انداز سے قاری کو غور و فکر کی دعوت۔

✦ علامت نگاری

چاند روشنی اور ہدایت کی علامت ہے، سیہ راتیں تاریکی اور آزمائش کی نمائندگی کرتی ہیں، کھیت اور سمندر تخلیق کی وسعت اور فراوانی کے استعارے ہیں، جب کہ کھا…

چاند روشنی اور ہدایت کی علامت ہے، سیہ راتیں تاریکی اور آزمائش کی نمائندگی کرتی ہیں، کھیت اور سمندر تخلیق کی وسعت اور فراوانی کے استعارے ہیں، جب کہ کھاتے انسانی اعمال اور روزِ حساب کی یاد دلاتے ہیں۔

✦ استعارات و تشبیہات

کلام میں چاند کی تابندگی، قدرت کے نظارے، تخلیق کے رنگ اور اعمال کے کھاتوں جیسی تصویری ترکیبات کے ذریعے معنوی کیفیت پیدا کی گئی ہے۔ ان کے ذریعے شاعر نے…

کلام میں چاند کی تابندگی، قدرت کے نظارے، تخلیق کے رنگ اور اعمال کے کھاتوں جیسی تصویری ترکیبات کے ذریعے معنوی کیفیت پیدا کی گئی ہے۔ ان کے ذریعے شاعر نے محسوس مناظر کو روحانی حقیقتوں سے مربوط کیا ہے۔

✦ شاعر کے فکری زاویے

اویس اُنیس کا فکری زاویہ خالقِ کائنات کی وحدانیت، قدرت اور انسان کی جواب دہی کے گرد گھومتا ہے۔ شاعر کے نزدیک کائنات محض خوبصورت مناظر کا مجموعہ نہیں ب…

اویس اُنیس کا فکری زاویہ خالقِ کائنات کی وحدانیت، قدرت اور انسان کی جواب دہی کے گرد گھومتا ہے۔ شاعر کے نزدیک کائنات محض خوبصورت مناظر کا مجموعہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں سے بھری ہوئی ایک کھلی کتاب ہے۔

✦ آج کے دور میں غزل کی معنویت

آج کے مادّی اور تیز رفتار دور میں یہ کلام انسان کو فطرت کے اندر موجود نشانیوں پر غور کرنے، اپنی زندگی کا محاسبہ کرنے اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر …

آج کے مادّی اور تیز رفتار دور میں یہ کلام انسان کو فطرت کے اندر موجود نشانیوں پر غور کرنے، اپنی زندگی کا محاسبہ کرنے اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کا پیغام دیتا ہے۔

← پچھلا اگلا →
اُوَیسؔ احمد کی مزید
جنوں کی ابتدا تو ہے جنوں کی انتہا نہیں مرض یہ لاعلاج ہے ،جنون کی دوا نہیں سکوت کی ہے یہ سزا مگر تجھے...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن