اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
غزل
پیر سید نصیر الدین نصیرؔ چ بدھ، 10 جون 2026
👁 7 ❤️ 0
کبھی اُن کا نام لینا کبھی اُن کی بات کرنا
مِرا ذوق اُن کی چاھت مِرا شوق اُن پہ مرنا
وہ کسی کی جھیل آنکھیں وہ مِری جُنوں مِزاجی
کبھی ڈُوبنا اُبھر کر کبھی ڈُوب کر اُبھرنا
تِرے منچلوں کا جگ میں یہ عجب چلن رھا ھے
نہ کِسی کی بات سُننا ، نہ کِسی سے بات کرنا
شبِ غم نہ پُوچھ کیسے تِرے مُبتلا پہ گُزری
کبھی آہ بھر کے گِرنا کبھی گِر کے آہ بھرنا
وہ تِری گلی کے تیور، وہ نظر نظر پہ پہرے
وہ مِرا کِسی بہانے تُجھے دیکھتے گُزرنا
کہاں میرے دِل کی حسرت، کہاں میری نارسائی
کہاں تیرے گیسوؤں کا ، تِرے دوش پر بِکھرنا
چلے لاکھ چال دُنیا ھو زمانہ لاکھ دُشمن
جو تِری پناہ میں ھو اُسے کیا کِسی سے ڈرنا
وہ کریں گے ناخُدائی تو لگے گی پار کشتی
ھے نصیر ورنہ مُشکل , تِرا پار یوں اُترنا
📖 خلاصہ

یہ غزل عشقِ صادق اور محبوب سے قلبی وابستگی کی ایک حسین تصویر پیش کرتی ہے۔ شاعر کے نزدیک محبوب کا ذکر، اس کی یاد اور اس کی باتیں ہی زندگی کا حاصل ہیں۔ غزل میں عاشق کی بے قراری، شبِ غم کی کیفیات، محبوب …

📚 ادبی جائزہ

یہ کلام پیر نصیرالدین نصیر کے شعری مزاج، صوفیانہ احساس اور کلاسیکی تغزل کا نہایت خوب صورت مظہر ہے۔ شاعر نے محبت، وابستگی، عقیدت، انتظار اور باطنی کیفی…

🖋️ تنقیدی جائزہ

تنقیدی اعتبار سے یہ کلام کلاسیکی غزل اور صوفیانہ شعری روایت کے حسین امتزاج کی مثال ہے۔ شاعر عشق کو محض محبوب کے ظاہری حسن تک محدود نہیں رکھتا بلکہ اسے…

← پچھلا اگلا →

✍️ پیر سید نصیر الدین نصیرؔ چ — مختصر تعارف

پیر سید نصیر الدین نصیرؔ چ
📍 گولڑہ شریف

پیر سید نصیر الدین نصیرؔ چشتی — حیات و خدمات
پیر سید نصیر الدین نصیرؔ چشتی برصغیر کی اُن نابغۂ روزگار شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے علم، ادب، تصوف، خطابت اور تحقیق کے میدان میں یکساں عظمت حاصل کی۔ وہ ایک باکمال شاعر، صاحبِ طرز ادیب، بلند پایہ محقق، مؤثر خطیب، جید عالمِ دین اور سلسلۂ قادریہ و چشتیہ کے ممتاز روحانی پیشوا تھے۔ ان کی ذات میں خانقاہ کی روحانیت، مدرسے کا علم، منبر کی خطابت اور ادب …

مزید پڑھیں ←
غزل کیا ہے؟

غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔

پیر سید نصیر الدین نصیرؔ چ کی مزید
کیجیے جو ستم رہ گئے ہیں جان دینے کو ہم رہ گئے ہیں بن کے تصویرِ غم رہ گئے ہیں تھک گئے تم کہ ہم ر...
مِری زیست پُر مسرت کبھی تھی نہ ہے نہ ہو گی کوئی بہتری کی صورت کبھی تھی نہ ہے نہ ہو گی مجھے حُسن ...
عجیب منظرِ بالاۓ بام ہوتا ہے جب آشکار وہ ماہِ تمام ہوتا ہے ہراسِ شب ، اثرِ ضعف ، خوفِ راہزناں م...
کبھی اُن کا نام لینا کبھی اُن کی بات کرنا مِرا ذوق اُن کی چاھت مِرا شوق اُن پہ مرنا وہ کسی کی جھ...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن