اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
غزل
پیر سید نصیر الدین نصیرؔ چ بدھ، 10 جون 2026
👁 8 ❤️ 0
مِری زیست پُر مسرت کبھی تھی نہ ہے نہ ہو گی
کوئی بہتری کی صورت کبھی تھی نہ ہے نہ ہو گی
مجھے حُسن نے ستایا ، مجھے عشق نے مِٹایا
کسی اور کی یہ حالت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی
وہ جو بے رُخی کبھی تھی وہی بے رُخی ہے اب تک
مِرے حال پر عنایت کبھی تھی نہ ہے نہ ہو گی
وہ جو حکم دیں بجا ہے ، مِرا ہر سُخن خطا ہے
اُنہیں میری رُو رعایت کبھی تھی نہ ہے نہ ہو گی
جو ہے گردشوں نے گھیرا ، تو نصیب ہے وہ میرا
مجھے آپ سے شکایت کبھی تھی نہ ہے نہ ہو گی
تِرے در سے بھی نباہے ، درِ غیر کو بھی چاہے
مِرے سَر کو یہ اجازت کبھی تھی نہ ہے نہ ہو گی
تِرا نام تک بُھلا دوں ، تِری یاد تک مٹا دوں
مجھے اِس طرح کی جُرات کبھی تھی نہ ہے نہ ہو گی
میں یہ جانتے ہوئے بھی ، تیری انجمن میں آیا
کہ تجھے مِری ضرورت کبھی تھی نہ ہے نہ ہو گی
تُو اگر نظر ملائے ، مِرا دَم نکل ہی جائے
تجھے دیکھنے کی ہِمت کبھی تھی نہ ہے نہ ہو گی
جو گِلہ کِیا ہے تم سے ، تو سمجھ کے تم کو اپنا
مجھے غیر سے شکایت کبھی تھی نہ ہے نہ ہو گی
تِرا حُسن ہے یگانہ ، تِرے ساتھ ہے زمانہ
مِرے ساتھ میری قسمت کبھی تھی نہ ہے نہ ہو گی
یہ کرم ہیں دوستوں کا ، وہ جو کہہ رہے ہیں سب سے
کہ نصیر پر عنایت ، کبھی تھی نہ ہے نہ ہو گی
📖 خلاصہ

یہ غزل پیر سید نصیر الدین نصیر گولڑوی کی منفرد عشقیہ اور صوفیانہ شاعری کا عمدہ نمونہ ہے۔ شاعر اپنی زندگی کی محرومیوں، محبوب کی بے رخی اور تقدیر کی سختیوں کا ذکر کرتے ہوئے یہ احساس دلاتا ہے کہ اس کے نص…

📚 ادبی جائزہ

یہ کلام پیر نصیرالدین نصیر کے شعری اسلوب، داخلی سوز اور کلاسیکی تغزل کا ایک نہایت مؤثر نمونہ ہے۔ غزل کے تمام اشعار میں ایک مسلسل احساسِ محرومی، وفادار…

🖋️ تنقیدی جائزہ

تنقیدی سطح پر یہ کلام محرومی، تقدیر اور یک طرفہ وابستگی کے نفسیاتی اور جمالیاتی مطالعے کی حیثیت رکھتا ہے۔ شاعر کی داخلی دنیا مسلسل انکار اور امید کے د…

← پچھلا اگلا →

✍️ پیر سید نصیر الدین نصیرؔ چ — مختصر تعارف

پیر سید نصیر الدین نصیرؔ چ
📍 گولڑہ شریف

پیر سید نصیر الدین نصیرؔ چشتی — حیات و خدمات
پیر سید نصیر الدین نصیرؔ چشتی برصغیر کی اُن نابغۂ روزگار شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے علم، ادب، تصوف، خطابت اور تحقیق کے میدان میں یکساں عظمت حاصل کی۔ وہ ایک باکمال شاعر، صاحبِ طرز ادیب، بلند پایہ محقق، مؤثر خطیب، جید عالمِ دین اور سلسلۂ قادریہ و چشتیہ کے ممتاز روحانی پیشوا تھے۔ ان کی ذات میں خانقاہ کی روحانیت، مدرسے کا علم، منبر کی خطابت اور ادب …

مزید پڑھیں ←
غزل کیا ہے؟

غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔

پیر سید نصیر الدین نصیرؔ چ کی مزید
کیجیے جو ستم رہ گئے ہیں جان دینے کو ہم رہ گئے ہیں بن کے تصویرِ غم رہ گئے ہیں تھک گئے تم کہ ہم ر...
مِری زیست پُر مسرت کبھی تھی نہ ہے نہ ہو گی کوئی بہتری کی صورت کبھی تھی نہ ہے نہ ہو گی مجھے حُسن ...
عجیب منظرِ بالاۓ بام ہوتا ہے جب آشکار وہ ماہِ تمام ہوتا ہے ہراسِ شب ، اثرِ ضعف ، خوفِ راہزناں م...
کبھی اُن کا نام لینا کبھی اُن کی بات کرنا مِرا ذوق اُن کی چاھت مِرا شوق اُن پہ مرنا وہ کسی کی جھ...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن