فضیلت
بستی کے نصف سے زیادہ افراد چودھری صاحب کے یہاں دعائیہ تقریب میں اکٹھا تھے۔ کچھ تو چودھری صاحب کی محبت و احترام میں حاضر تھے اور کچھ کو تقریب کے اختتام پر ہونے والی دعوت کے لئے تیار کئے جارہے پکوان کی خوشبو کھینچ لائی تھی۔حویلی کے میدان نما صحن میں لگے شامیانے میں مرد وخواتین درمیان میں حائل پردے کی دو جانب پورے ادب و احترام کا مظاہرہ کرتے ہوئے مولوی صاحب کا بیان سماعت کر رہے تھے۔ گھر کی دیگر خادم و خادماؤں کے ساتھ نجو بھی مہمانان کی خدمت میں لگی ہوئی تھی۔ اس کی سات سالہ بیٹی رانی خواتین کے جمگھٹ میں سب سے آگے بیٹھی مولانا کا بیان سن رہی تھی جو اس کی سمجھ سے پرے تھا۔ چودھری صاحب جنہیں آج سفر حج پر روانہ ہونا تھا سفید کرتے پاجامے میں پھولوں سے لدے مولانا کے پہلو میں صوفہ پر بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کے چہرے پر خوشی ، فخر اور تشکر کے ملے جلے جذبات رواں دواں تھے۔
“ایک حاجی جب حج کے ارکان کی تکمیل کر کے اللہ کے گھر سے واپس ہوتا ہے تو اس کے سارے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ وہ اس قدر پاک صاف ہوتا ہے گویا کہ ابھی ماں کے پیٹ سے جنم لیا ہو۔”
مولوی صاحب کی آواز اس جملے پر فرط جذبات سے لرزنے لگی۔
“سبحان اللہ ! سبحان اللہ۔”
سامنے بیٹھے کچھ مرد کی زبان سے بے ساختہ یہ الفاظ ادا ہوئے۔
رانی ٹکٹکی لگائے چودھری صاحب کے نورانی چہرے کو تکے جا رہی تھی۔ چودھری صاحب کی نظریں گردش کرتے ہوئے رانی پر جا ٹھہریں ۔ رانی سے چودھری صاحب کی نظروں کا تصادم بس کچھ ہی پل رہا۔ چودھری صاحب معصوم نظروں کی تاب برداشت نا کرسکے انہوں نے فورا نظریں نیچے کرلیں ۔



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!