اشتہار
اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
افسانہ

فضیلت

عظمت اقبالؔ
عظمت اقبالؔ جمعرات، 7 مئی 2026
👁 41 ❤️ 1

بستی کے نصف سے زیادہ افراد چودھری صاحب کے یہاں دعائیہ تقریب میں اکٹھا تھے۔ کچھ تو چودھری صاحب کی محبت و احترام میں حاضر تھے اور کچھ کو تقریب کے اختتام پر ہونے والی دعوت کے لئے تیار کئے جارہے پکوان کی خوشبو کھینچ لائی تھی۔حویلی کے میدان نما صحن میں لگے شامیانے میں مرد وخواتین درمیان میں حائل پردے کی دو جانب پورے ادب و احترام کا مظاہرہ کرتے ہوئے مولوی صاحب کا بیان سماعت کر رہے تھے۔ گھر کی دیگر خادم و خادماؤں کے ساتھ نجو بھی مہمانان کی خدمت میں لگی ہوئی تھی۔ اس کی سات سالہ بیٹی رانی خواتین کے جمگھٹ میں سب سے آگے بیٹھی مولانا کا بیان سن رہی تھی جو اس کی سمجھ سے پرے تھا۔ چودھری صاحب جنہیں آج سفر حج پر روانہ ہونا تھا سفید کرتے پاجامے میں پھولوں سے لدے مولانا کے پہلو میں صوفہ پر بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کے چہرے پر خوشی ، فخر اور تشکر کے ملے جلے جذبات رواں دواں تھے۔
“ایک حاجی جب حج کے ارکان کی تکمیل کر کے اللہ کے گھر سے واپس ہوتا ہے تو اس کے سارے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ وہ اس قدر پاک صاف ہوتا ہے گویا کہ ابھی ماں کے پیٹ سے جنم لیا ہو۔”
مولوی صاحب کی آواز اس جملے پر فرط جذبات سے لرزنے لگی۔
“سبحان اللہ ! سبحان اللہ۔”
سامنے بیٹھے کچھ مرد کی زبان سے بے ساختہ یہ الفاظ ادا ہوئے۔
رانی ٹکٹکی لگائے چودھری صاحب کے نورانی چہرے کو تکے جا رہی تھی۔ چودھری صاحب کی نظریں گردش کرتے ہوئے رانی پر جا ٹھہریں ۔ رانی سے چودھری صاحب کی نظروں کا تصادم بس کچھ ہی پل رہا۔ چودھری صاحب معصوم نظروں کی تاب برداشت نا کرسکے انہوں نے فورا نظریں نیچے کرلیں ۔

عظمت اقبالؔ کی مزید تحریریں
خبردار! کوئی دیکھ رہا ہے
پچھلے دنوں ہمارے شہر میں ایک ایسا واقعہ رونما ہوا جس کے نتیجے میں بد امنی پھیلنے...
ہمارا زمانہ
ماہ رمضان میں مساجد و دیگر تقاریر میں ہونے والی تقاریر و بیانات میں مقررین اور ع...
آئیڈیل مین
آج وہ میڈیکل کالج میں داخلے کے مقصد سے اپنے باپ کے ساتھ کالج انتظامیہ سے ملاقات ...
تجوری — عظمت اقبال
تین کمروں پر مشتمل ہمارے مکان کے درمیانی کمرے میں دیوار سے لگ کر ایک تجوری تھی۔ ...
مزید متعلقہ نثر
قل زردہ
بڑے سے گھر کے ،بڑے سے صحن میں، جب بڑی بی کے قل کے اہتمام میں 6 دیگیں تین بریانی ...
کشمکش
آج صبح صبح پھر شیلپا کا فون آگیا تھا۔ وکرم نے نہ جانے کیوں وہ فون ریسیو کر لیا ت...
دھڑکتے تلوے
از :- احمد نعیم(موت ڈاٹ کام مالیگاوں بھارت)* صُبح ہوچکی تھی - یا کہ _______شام -...
وقت کے پیچھے چھُپے لوگ
شہر کی روشنی، ہلچل اور سروں کے شور میں آئرہ اپنے خیالات کے سمندر میں غوطہ زن تھی...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن