اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
افسانہ

فضیلت

عظمت اقبالؔ
عظمت اقبالؔ جمعرات، 7 مئی 2026
👁 24 ❤️ 1

بستی کے نصف سے زیادہ افراد چودھری صاحب کے یہاں دعائیہ تقریب میں اکٹھا تھے۔ کچھ تو چودھری صاحب کی محبت و احترام میں حاضر تھے اور کچھ کو تقریب کے اختتام پر ہونے والی دعوت کے لئے تیار کئے جارہے پکوان کی خوشبو کھینچ لائی تھی۔حویلی کے میدان نما صحن میں لگے شامیانے میں مرد وخواتین درمیان میں حائل پردے کی دو جانب پورے ادب و احترام کا مظاہرہ کرتے ہوئے مولوی صاحب کا بیان سماعت کر رہے تھے۔ گھر کی دیگر خادم و خادماؤں کے ساتھ نجو بھی مہمانان کی خدمت میں لگی ہوئی تھی۔ اس کی سات سالہ بیٹی رانی خواتین کے جمگھٹ میں سب سے آگے بیٹھی مولانا کا بیان سن رہی تھی جو اس کی سمجھ سے پرے تھا۔ چودھری صاحب جنہیں آج سفر حج پر روانہ ہونا تھا سفید کرتے پاجامے میں پھولوں سے لدے مولانا کے پہلو میں صوفہ پر بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کے چہرے پر خوشی ، فخر اور تشکر کے ملے جلے جذبات رواں دواں تھے۔
“ایک حاجی جب حج کے ارکان کی تکمیل کر کے اللہ کے گھر سے واپس ہوتا ہے تو اس کے سارے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ وہ اس قدر پاک صاف ہوتا ہے گویا کہ ابھی ماں کے پیٹ سے جنم لیا ہو۔”
مولوی صاحب کی آواز اس جملے پر فرط جذبات سے لرزنے لگی۔
“سبحان اللہ ! سبحان اللہ۔”
سامنے بیٹھے کچھ مرد کی زبان سے بے ساختہ یہ الفاظ ادا ہوئے۔
رانی ٹکٹکی لگائے چودھری صاحب کے نورانی چہرے کو تکے جا رہی تھی۔ چودھری صاحب کی نظریں گردش کرتے ہوئے رانی پر جا ٹھہریں ۔ رانی سے چودھری صاحب کی نظروں کا تصادم بس کچھ ہی پل رہا۔ چودھری صاحب معصوم نظروں کی تاب برداشت نا کرسکے انہوں نے فورا نظریں نیچے کرلیں ۔

عظمت اقبالؔ کی مزید تحریریں
خبردار! کوئی دیکھ رہا ہے
پچھلے دنوں ہمارے شہر میں ایک ایسا واقعہ رونما ہوا جس کے نتیجے میں بد امنی پھیلنے...
ہمارا زمانہ
ماہ رمضان میں مساجد و دیگر تقاریر میں ہونے والی تقاریر و بیانات میں مقررین اور ع...
آئیڈیل مین
آج وہ میڈیکل کالج میں داخلے کے مقصد سے اپنے باپ کے ساتھ کالج انتظامیہ سے ملاقات ...
قفل
تین کمروں پر مشتمل ہمارے مکان کے درمیانی کمرے میں دیوار سے لگ کر ایک تجوری تھی۔ ...
مزید متعلقہ نثر
وقت کے پیچھے چھُپے لوگ
شہر کی روشنی، ہلچل اور سروں کے شور میں آئرہ اپنے خیالات کے سمندر میں غوطہ زن تھی...
روشنی
اسٹیج سج چکا تھا ۔ ہال لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا ۔ آج خلاف معمول زیادہ رش ت...
وقت کی پکار | وقت کی قدر، اتحاد اور تبدیلی پر سبق آموز اردو کہانی | قلمکار عبدالدیان اسدؔ
وقت کی پکار گاؤں کے پرانے چوک میں ایک سوکھا ہوا برگد کھڑا تھا۔ بزرگ کہتے تھے کہ ...
تانگا
ایک گھنے درخت کے سائے میں تانگا رک گیا تھا ۔ تیز دھوپ تھی ۔ آدھے دن میں کچھ سمتو...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن