اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
غزل
پیر سید نصیر الدین نصیرؔ چ بدھ، 10 جون 2026
👁 9 ❤️ 0
کیجیے جو ستم رہ گئے ہیں
جان دینے کو ہم رہ گئے ہیں
بن کے تصویرِ غم رہ گئے ہیں
تھک گئے تم کہ ہم رہ گئے ہیں
بانٹ لی سب نے آپس میں‌خوشیاں
میرے حصے میں غم رہ گئے ہیں
اب نہ اٹھنا سرہانے سے میرے
اب تو گنتی کے دم رہ گئے ہیں
قافلہ چل کے منزل پہ پہنچا
ٹھہروٹھہرو! کہ ہم رہ گئے ہیں
دیکھ کر ان کےمنگتوں کی غیرت
دنگ اہلِ کرم رہ گئے ہیں
ان کی ستاریاں کچھ نہ پوچھو
عاصیوں کے بھرم رہ گئے ہیں
اے صبا ! ایک زحمت ذرا پھر
اُن کی زلفوں میں خم رہ گئے ہیں
کائناتِ جفا و وفا میں
ایک تم ایک ہم رہ گئے ہیں
آج ساقی پلا شیخ کو بھی
ایک یہ محترم رہ گئے ہیں
یہ گلی کس کی ہے اللہ اللہ
اٹھتے اٹھتے قدم رہ گئے ہیں
وہ تو آ کر گئے بھی کبھی کے
دل پہ نقش قدم رہ گئے ہیں
دل نصیر ان کا تھا ،لے گئے وہ
ہم خدا کی قسم رہ گئے ہیں
دورِ ماضی کی تصویرِ آخر
اے نصیر ! ایک ہم رہ گئے ہیں
📖 خلاصہ

یہ غزل پیر سید نصیر الدین نصیر گولڑوی کی فکری اور شعری پختگی کا عمدہ نمونہ ہے۔ شاعر زندگی کے مختلف تجربات، جدائی کے دکھ، محرومی کے احساس اور محبوب کی یاد کو نہایت دلنشیں انداز میں بیان کرتے ہیں۔ غزل ک…

← پچھلا اگلا →

✍️ پیر سید نصیر الدین نصیرؔ چ — مختصر تعارف

پیر سید نصیر الدین نصیرؔ چ
📍 گولڑہ شریف

پیر سید نصیر الدین نصیرؔ چشتی — حیات و خدمات
پیر سید نصیر الدین نصیرؔ چشتی برصغیر کی اُن نابغۂ روزگار شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے علم، ادب، تصوف، خطابت اور تحقیق کے میدان میں یکساں عظمت حاصل کی۔ وہ ایک باکمال شاعر، صاحبِ طرز ادیب، بلند پایہ محقق، مؤثر خطیب، جید عالمِ دین اور سلسلۂ قادریہ و چشتیہ کے ممتاز روحانی پیشوا تھے۔ ان کی ذات میں خانقاہ کی روحانیت، مدرسے کا علم، منبر کی خطابت اور ادب …

مزید پڑھیں ←
غزل کیا ہے؟

غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔

پیر سید نصیر الدین نصیرؔ چ کی مزید
کیجیے جو ستم رہ گئے ہیں جان دینے کو ہم رہ گئے ہیں بن کے تصویرِ غم رہ گئے ہیں تھک گئے تم کہ ہم ر...
مِری زیست پُر مسرت کبھی تھی نہ ہے نہ ہو گی کوئی بہتری کی صورت کبھی تھی نہ ہے نہ ہو گی مجھے حُسن ...
عجیب منظرِ بالاۓ بام ہوتا ہے جب آشکار وہ ماہِ تمام ہوتا ہے ہراسِ شب ، اثرِ ضعف ، خوفِ راہزناں م...
کبھی اُن کا نام لینا کبھی اُن کی بات کرنا مِرا ذوق اُن کی چاھت مِرا شوق اُن پہ مرنا وہ کسی کی جھ...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن