اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
غزل
ولی دکنی پیر، 8 جون 2026
👁 10 ❤️ 0
غفلت میں وقت اپنا نہ کھو، ہشیار ہو، ہوشیار ہو
کب تک رہے گا خواب میں، بیدار ہو بیدار ہو
گر دیکھنا ہے مدعا ، اس شاہدِ معنی کا رو
ظاہر پرستاں سوں سدا، بیزار ہو بیزار
جیوں چتر داغِ عشق کیوں رکھ سر پر اپنے اوّلاً
تب فوجِ اہل درد کا ، سردار ہو سردار ہو
وہ نو بہارِ عاشقاں، ہے جیوں سحر جگ میں عیاں
اے دیدہ وقتِ خواب تئیں، بیدار ہو بیدار ہو
مطلع کا مصرع اے ولیؔ وردِ زباں کر رات دن
غفلت میں وقت اپنا نہ کھو ہشیار ہو ہوشیار ہو
📖 خلاصہ

ولی دکنی کی اس غزل میں انسان کو غفلت، خواب اور لاپرواہی کی کیفیت سے نکل کر بیداری اور شعور کی طرف آنے کی تلقین کی گئی ہے۔ شاعر کے مطابق وقت ایک قیمتی سرمایہ ہے جسے ضائع نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ مسلسل غ…

← پچھلا اگلا →

✍️ ولی دکنی — مختصر تعارف

ولی دکنی
📍 اورنگ آباد، مہاراشٹر، ہندوستان

ولی دکنی: اردو غزل کے اولین معمار
اردو شاعری کی تاریخ میں چند نام ایسے ہیں جنہوں نے محض شعر نہیں کہے بلکہ ایک پورے ادبی عہد کی بنیاد رکھی۔ ولی دکنی انہی عظیم شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ انہیں بجا طور پر اردو غزل کا اولین معمار، اردو شاعری کا پیش رو اور ریختہ کا سب سے مؤثر نمائندہ شاعر کہا جاتا ہے۔ اگرچہ ان سے پہلے بھی ہندوی اور ریختہ میں شاعری کی مثالیں ملتی ہیں، لیکن اردو غزل کو ایک باقاعدہ ادبی ش …

مزید پڑھیں ←
غزل کیا ہے؟

غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔

ولی دکنی کی مزید
کیا تجھ عشق نے ظالم خراب آہستہ آہستہ کہ آتش گل کوں کرتی ہے گلاب آہستہ آہستہ وفاداری نے داہر کی ب...
پی کے ہوتے نہ کر توں مہ کی ثنا معتبر نہیں ہے حسن دور نما باعث نشہ دو بالا ہے حسن صورت کے ساتھ ح...
موسیٰ اگر جو دیکھے تجھ نور کا تماشا اس کوں پہاڑ ہووے پھر طور کا تماشا اے رشک باغ جنت! تجھ پر نظر...
مژہ بتاں کی ہیں تجھ غم میں خواب مخمل سرخ لگ ہے ترک کے ٹپکے کوں یا مسلسل سرخ کتاب عشق پہ شنگرف اش...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن