افسانچہ
سایہ
علیم طاہرؔ
ہفتہ، 23 مئی 2026
👁 19
❤️ 1
باپ سارا دن مزدوری کرتا اور رات کو تھکا ہارا گھر لوٹتا تھا۔
بیٹا ہمیشہ اُس سے ناراض رہتا:
"آپ نے میرے لیے کیا کیا ہے؟"
ایک دن شدید گرمی میں بجلی چلی گئی۔
باپ ہاتھ والا پنکھا جھلتا رہا اور بیٹا سوتا رہا۔
صبح بیٹے کی آنکھ کھلی تو باپ کونے میں بیٹھے بیٹھے سو گیا تھا۔
پہلی بار
بیٹے کو محسوس ہوا کہ
کچھ سائے
درختوں سے بڑے ہوتے ہیں۔
علیم طاہرؔ کی مزید تحریریں
ڈاکٹر بشیر بدر: محبت، درد اور تہذیبِ غزل کا روشن باب | شخصیت، شاعری اور ادبی خدمات
ڈاکٹر بشیر بدر: محبت، درد اور تہذیبِ غزل کا روشن باب ایک ایسا شاعر جس کے اشعار ل...
چراغِ آخر
بوڑھا شاعر اپنی آخری نظم لکھ رہا تھا۔ بیٹے نے پوچھا: "اب اس عمر میں کیوں لک...
بند کتاب
بوڑھا استاد روز اپنی پرانی کتابیں صاف کرتا تھا۔ بیٹے نے کہا: "اب اِنہیں کون...
آئس کریم
چھوٹا بچہ آئس کریم والے کو حسرت سے دیکھ رہا تھا۔ ایک اجنبی نے اُسے آئس کریم خرید...
مزید متعلقہ نثر
پرانا کوٹ
بیٹا اپنے باپ کے پرانے کوٹ پر ہنستا تھا۔ ایک دن اُسے جیب میں ایک پرچی ملی: "...
کھلونا
امیر بچے نے نیا کھلونا دو منٹ کھیل کر پھینک دیا۔ نوکر کا بیٹا خاموشی سے اُسے دیک...
درجہ
اسکول میں امیر بچوں کی پہلی قطار تھی۔ غریب بچے پیچھے بیٹھتے تھے۔ ایک دن استاد نے...
چراغ
بجلی چلی گئی تھی۔ پورا گھر اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔ دادی اماں نے ایک چھوٹا سا چ...



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!