اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
نظم
محمد اقبال پیر، 8 جون 2026
👁 8 ❤️ 0
عشق کي آشفتگي نے کر ديا صحرا جسے
مشت خاک ايسي نہاں زير قبا رکھتا ہوں ميں
ہيں ہزاروں اس کے پہلو ، رنگ ہر پہلو کا اور
سينے ميں ہيرا کوئي ترشا ہوا رکھتا ہوں ميں
دل نہيں شاعر کا ، ہے کيفيتوں کي رستخيز
کيا خبر تجھ کو درون سينہ کيا رکھتا ہوں ميں
آرزو ہر کيفيت ميں اک نئے جلوے کي ہے
مضطرب ہوں ، دل سکوں نا آشنا رکھتا ہوں ميں
گو حسين تازہ ہے ہر لحظہ مقصود نظر
حسن سے مضبوط پيمان وفا رکھتا ہوں ميں
بے نيازي سے ہے پيدا ميري فطرت کا نياز
سوز و ساز جستجو مثل صبا رکھتا ہوں ميں
موجب تسکيں تماشائے شرار جستہ اے
ہو نہيں سکتا کہ دل برق آشنا رکھتا ہوں ميں
ہر تقاضا عشق کي فطرت کا ہو جس سے خموش
آہ! وہ کامل تجلي مدعا رکھتا ہوں ميں
جستجو کل کي ليے پھرتي ہے اجزا ميں مجھے
حسن بے پاياں ہے ، درد لادوا رکھتا ہوں ميں
زندگي الفت کي درد انجاميوں سے ہے مري
عشق کو آزاد دستور وفا رکھتا ہوں ميں
سچ اگر پوچھے تو افلاس تخيل ہے وفا
دل ميں ہر دم اک نيا محشر بپا رکھتا ہوں ميں
فيض ساقي شبنم آسا ، ظرف دل دريا طلب
تشنہء دائم ہوں آتش زير پا رکھتا ہوں ميں
مجھ کو پيدا کر کے اپنا نکتہ چيں پيدا کيا
نقش ہوں ، اپنے مصور سے گلا رکھتا ہوں ميں
محفل ہستي ميں جب ايسا تنک جلوہ تھا حسن
پھر تخيل کس ليے لا انتہا رکھتا ہوں ميں
در بيابان طلب پيوستہ مي کوشيم ما
موج بحريم و شکست خويش بر دوشيم ما
[2]
📖 خلاصہ

نظم میں ایسے عاشق کا ذکر ہے جو استقامت سے محروم اور جذبات میں بے قرار ہے۔

← پچھلا اگلا →

✍️ محمد اقبال — مختصر تعارف

محمد اقبال
📍 سیالکوٹ (موجودہ پاکستان)

علامہ محمد اقبالؔ اردو اور فارسی ادب کے عظیم شاعر، مفکر، فلسفی اور برصغیر کے ممتاز دانشور تھے۔ آپ 9 نومبر 1877ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم سیالکوٹ میں حاصل کی، بعد ازاں گورنمنٹ کالج لاہور سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی جہاں آپ کو معروف مستشرق اور استاد سر تھامس آرنلڈ کی سرپرستی میسر آئی۔ مزید تعلیم کے لیے یورپ گئے، کیمبرج یونیورسٹی سے فلسفے کی تعلیم حاصل کی، میونخ یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری …

مزید پڑھیں ←
نظم کیا ہے؟

نظم میں ایک مخصوص موضوع پر مسلسل خیالات بیان کیے جاتے ہیں۔ جدید اردو شاعری میں نظم کو خاص اہمیت حاصل ہے۔

محمد اقبال کی مزید
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا سن...
حصہ اول: ابتدائی نظمیں ہمالہ ایک آرزو پرندے کی فریاد ترانۂ ہندی نیا شوالہ تصویرِ درد نانک و...
ضربِ کلیم شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبالؔ کا شہرۂ آفاق شعری مجموعہ ہے جسے اقبالؔ نے "اعلانِ جنگ بر...
بالِ جبریل علامہ محمد اقبالؒ کا ایک اہم شعری مجموعہ ہے جو 1935ء میں شائع ہوا۔ یہ کتاب اقبال کے فکری ...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن