نظم
محمد اقبال
پیر، 8 جون 2026
👁 9
❤️ 0
ہے عجب مجموعہء اضداد اے اقبال تو
رونق ہنگامہء محفل بھي ہے، تنہا بھي ہے
تيرے ہنگاموں سے اے ديوانہ رنگيں نوا!
زينت گلشن بھي ہے ، آرائش صحرا بھي ہے
ہم نشيں تاروں کا ہے تو رفعت پرواز سے
اے زميں فرسا ، قدم تيرا فلک پيما بھي ہے
عين شغل ميں پيشاني ہے تيري سجدہ ريز
کچھ ترے مسلک ميں رنگ مشرب مينا بھي ہے
مثل بوئے گل لباس رنگ سے عرياں ہے تو
ہے تو حکمت آفريں ، ليکن تجھے سودا بھي ہے
جانب منزل رواں بے نقش پا مانند موج
اور پھر افتادہ مثل ساحل دريا بھي ہے
حسن نسواني ہے بجلي تيري فطرت کے ليے
پھر عجب يہ ہے کہ تيرا عشق بے پروا بھي ہے
تيري ہستي کا ہے آئين تفنن پر مدار
تو کبھي ايک آستانے پر جبيں فرسا بھي ہے ؟
ہے حسينوں ميں وفا نا آشنا تيرا خطاب
اے تلون کيش! تو مشہور بھي ، رسوا بھي ہے
لے کے آيا ہے جہاں ميں عادت سيماب تو
تيري بے تابي کے صدقے، ہے عجب بے تاب تو
[1]
📖 خلاصہ
نظم میں ایسے عاشق کا ذکر ہے جو استقامت سے محروم اور جذبات میں بے قرار ہے۔
✍️ محمد اقبال — مختصر تعارف
📍 سیالکوٹ (موجودہ پاکستان)
علامہ محمد اقبالؔ اردو اور فارسی ادب کے عظیم شاعر، مفکر، فلسفی اور برصغیر کے ممتاز دانشور تھے۔ آپ 9 نومبر 1877ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم سیالکوٹ میں حاصل کی، بعد ازاں گورنمنٹ کالج لاہور سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی جہاں آپ کو معروف مستشرق اور استاد سر تھامس آرنلڈ کی سرپرستی میسر آئی۔ مزید تعلیم کے لیے یورپ گئے، کیمبرج یونیورسٹی سے فلسفے کی تعلیم حاصل کی، میونخ یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری …
مزید پڑھیں ←
نظم کیا ہے؟
نظم میں ایک مخصوص موضوع پر مسلسل خیالات بیان کیے جاتے ہیں۔ جدید اردو شاعری میں نظم کو خاص اہمیت حاصل ہے۔
محمد اقبال کی مزید
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سن...
حصہ اول: ابتدائی نظمیں
ہمالہ
ایک آرزو
پرندے کی فریاد
ترانۂ ہندی
نیا شوالہ
تصویرِ درد
نانک
و...
ضربِ کلیم شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبالؔ کا شہرۂ آفاق شعری مجموعہ ہے جسے اقبالؔ نے "اعلانِ جنگ بر...
بالِ جبریل علامہ محمد اقبالؒ کا ایک اہم شعری مجموعہ ہے جو 1935ء میں شائع ہوا۔ یہ کتاب اقبال کے فکری ...



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!