نظم
محمد اقبال
پیر، 8 جون 2026
👁 9
❤️ 0
جس طرح ڈوبتي ہے کشتي سيمين قمر
نور خورشيد کے طوفان ميں ہنگام سحر
جسے ہو جاتا ہے گم نور کا لے کر آنچل
چاندني رات ميں مہتاب کا ہم رنگ کنول
جلوہ طور ميں جيسے يد بيضائے کليم
موجہ نکہت گلزار ميں غنچے کي شميم
ہے ترے سيل محبت ميں يونہي دل ميرا
تو جو محفل ہے تو ہنگامہء محفل ہوں ميں
حسن کي برق ہے تو ، عشق کا حاصل ہوں ميں
تو سحر ہے تو مرے اشک ہيں شبنم تيري
شام غربت ہوں اگر ميں تو شفق تو ميري
مرے دل ميں تري زلفوں کي پريشاني ہے
تري تصوير سے پيدا مري حيراني ہے
حسن کامل ہے ترا ، عشق ہے کامل ميرا
ہے مرے باغ سخن کے ليے تو باد بہار
ميرے بے تاب تخيل کو ديا تو نے قرار
جب سے آباد ترا عشق ہوا سينے ميں
نئے جوہر ہوئے پيدا مرے آئينے ميں
حسن سے عشق کي فطرت کو ہے تحريک کمال
تجھ سے سر سبز ہوئے ميري اميدوں کے نہال
قافلہ ہو گيا آسودہء منزل ميرا
📖 خلاصہ
اقبال حسن اور عشق کو ایک دوسرے کا لازمی رفیق قرار دیتے ہیں۔
✍️ محمد اقبال — مختصر تعارف
📍 سیالکوٹ (موجودہ پاکستان)
علامہ محمد اقبالؔ اردو اور فارسی ادب کے عظیم شاعر، مفکر، فلسفی اور برصغیر کے ممتاز دانشور تھے۔ آپ 9 نومبر 1877ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم سیالکوٹ میں حاصل کی، بعد ازاں گورنمنٹ کالج لاہور سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی جہاں آپ کو معروف مستشرق اور استاد سر تھامس آرنلڈ کی سرپرستی میسر آئی۔ مزید تعلیم کے لیے یورپ گئے، کیمبرج یونیورسٹی سے فلسفے کی تعلیم حاصل کی، میونخ یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری …
مزید پڑھیں ←
نظم کیا ہے؟
نظم میں ایک مخصوص موضوع پر مسلسل خیالات بیان کیے جاتے ہیں۔ جدید اردو شاعری میں نظم کو خاص اہمیت حاصل ہے۔
محمد اقبال کی مزید
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سن...
حصہ اول: ابتدائی نظمیں
ہمالہ
ایک آرزو
پرندے کی فریاد
ترانۂ ہندی
نیا شوالہ
تصویرِ درد
نانک
و...
ضربِ کلیم شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبالؔ کا شہرۂ آفاق شعری مجموعہ ہے جسے اقبالؔ نے "اعلانِ جنگ بر...
بالِ جبریل علامہ محمد اقبالؒ کا ایک اہم شعری مجموعہ ہے جو 1935ء میں شائع ہوا۔ یہ کتاب اقبال کے فکری ...



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!