نظم
محمد اقبال
پیر، 8 جون 2026
👁 8
❤️ 0
تجھ کو دزديدہ نگاہي يہ سکھا دي کس نے
رمز آغاز محبت کي بتا دي کس نے
ہر ادا سے تيري پيدا ہے محبت کيسي
نيلي آنکھوں سے ٹپکتي ہے ذکاوت کيسي
ديکھتي ہے کبھي ان کو، کبھي شرماتي ہے
کبھي اٹھتي ہے ، کبھي ليٹ کے سو جاتي ہے
آنکھ تيري صفت آئنہ حيران ہے کيا
نور آگاہي سے روشن تري پہچان ہے کيا
مارتي ہے انھيں پونہچوں سے، عجب ناز ہے يہ
چھيڑ ہے ، غصہ ہے يا پيار کا انداز ہے يہ؟
شوخ تو ہوگي تو گودي سے اتاريں گے تجھے
گر گيا پھول جو سينے کا تو ماريں گے تجھے
کيا تجسس ہے تجھے ، کس کي تمنائي ہے
آہ! کيا تو بھي اسي چيز کي سودائي ہے
خاص انسان سے کچھ حسن کا احساس نہيں
صورت دل ہے يہ ہر چيز کے باطن ميں مکيں
شيشہ دہر ميں مانند مے ناب ہے عشق
روح خورشيد ہے، خون رگ مہتاب ہے عشق
دل ہر ذرہ ميں پوشيدہ کسک ہے اس کي
نور يہ وہ ہے کہ ہر شے ميں جھلک ہے اس کي
کہيں سامان مسرت، کہيں ساز غم ہے
کہيں گوہر ہے ، کہيں اشک ، کہيں شبنم ہے
📖 خلاصہ
نظم میں ایک معمولی منظر سے گہرا سماجی اور نفسیاتی مفہوم اخذ کیا گیا ہے۔
✍️ محمد اقبال — مختصر تعارف
📍 سیالکوٹ (موجودہ پاکستان)
علامہ محمد اقبالؔ اردو اور فارسی ادب کے عظیم شاعر، مفکر، فلسفی اور برصغیر کے ممتاز دانشور تھے۔ آپ 9 نومبر 1877ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم سیالکوٹ میں حاصل کی، بعد ازاں گورنمنٹ کالج لاہور سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی جہاں آپ کو معروف مستشرق اور استاد سر تھامس آرنلڈ کی سرپرستی میسر آئی۔ مزید تعلیم کے لیے یورپ گئے، کیمبرج یونیورسٹی سے فلسفے کی تعلیم حاصل کی، میونخ یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری …
مزید پڑھیں ←
نظم کیا ہے؟
نظم میں ایک مخصوص موضوع پر مسلسل خیالات بیان کیے جاتے ہیں۔ جدید اردو شاعری میں نظم کو خاص اہمیت حاصل ہے۔
محمد اقبال کی مزید
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سن...
حصہ اول: ابتدائی نظمیں
ہمالہ
ایک آرزو
پرندے کی فریاد
ترانۂ ہندی
نیا شوالہ
تصویرِ درد
نانک
و...
ضربِ کلیم شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبالؔ کا شہرۂ آفاق شعری مجموعہ ہے جسے اقبالؔ نے "اعلانِ جنگ بر...
بالِ جبریل علامہ محمد اقبالؒ کا ایک اہم شعری مجموعہ ہے جو 1935ء میں شائع ہوا۔ یہ کتاب اقبال کے فکری ...



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!