نظم
محمد اقبال
پیر، 8 جون 2026
👁 7
❤️ 0
فرشتے پڑھتے ہيں جس کو وہ نام ہے تيرا
بڑي جناب تري، فيض عام ہے تيرا
ستارے عشق کے تيري کشش سے ہيں قائم
نظام مہر کي صورت نظام ہے تيرا
تري لحد کي زيارت ہے زندگي دل کي
مسيح و خضر سے اونچا مقام ہے تيرا
نہاں ہے تيري محبت ميں رنگ محبوبي
بڑي ہے شان، بڑا احترام ہے تيرا
اگر سياہ دلم، داغ لالہ زار تو ام
و گر کشادہ جبينم، گل بہار تو ام
چمن کو چھوڑ کے نکلا ہوں مثل نکہت گل
ہوا ہے صبر کا منظور امتحاں مجھ کو
چلي ہے لے کے وطن کے نگار خانے سے
شراب علم کي لذت کشاں کشاں مجھ کو
نظر ہے ابر کرم پر ، درخت صحرا ہوں
کيا خدا نے نہ محتاج باغباں مجھ کو
فلک نشيں صفت مہر ہوں زمانے ميں
تري دعا سے عطا ہو وہ نردباں مجھ کو
مقام ہم سفروں سے ہوا اس قدر آگے
کہ سمجھے منزل مقصود کارواں مجھ کو
مري زبان قلم سے کسي کا دل نہ دکھے
کسي سے شکوہ نہ ہو زير آسماں مجھ کو
دلوں کو چاک کرے مثل شانہ جس کا اثر
تري جناب سے ايسي ملے فغاں مجھ کو
بنايا تھا جسے چن چن کے خار و خس ميں نے
چمن ميں پھر نظر آئے وہ آشياں مجھ کو
پھر آ رکھوں قدم مادر و پدر پہ جبيں
کيا جنھوں نے محبت کا رازداں مجھ کو
وہ شمع بارگہ خاندان مرتضوي
رہے گا مثل حرم جس کا آستاں مجھ کو
نفس سے جس کے کھلي ميري آرزو کي کلي
بنايا جس کي مروت نے نکتہ داں مجھ کو
دعا يہ کر کہ خداوند آسمان و زميں
کرے پھر اس کي زيارت سے شادماں مجھ کو
وہ ميرا يوسف ثاني وہ شمع محفل عشق
ہوئي ہے جس کي اخوت قرار جاں مجھ کو
جلا کے جس کي محبت نے دفتر من و تو
ہوائے عيش ميں پالا، کيا جواں مجھ کو
رياض دہر ميں مانند گل رہے خنداں
کہ ہے عزيز تر از جاں وہ جان جاں مجھ کو
شگفتہ ہو کے کلي دل کي پھول ہو جائے!
يہ التجائے مسافر قبول ہو جائے!
📖 خلاصہ
نظم میں ایک مسافر کی دعا، امید اور منزل تک پہنچنے کی آرزو بیان کی گئی ہے۔
✍️ محمد اقبال — مختصر تعارف
📍 سیالکوٹ (موجودہ پاکستان)
علامہ محمد اقبالؔ اردو اور فارسی ادب کے عظیم شاعر، مفکر، فلسفی اور برصغیر کے ممتاز دانشور تھے۔ آپ 9 نومبر 1877ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم سیالکوٹ میں حاصل کی، بعد ازاں گورنمنٹ کالج لاہور سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی جہاں آپ کو معروف مستشرق اور استاد سر تھامس آرنلڈ کی سرپرستی میسر آئی۔ مزید تعلیم کے لیے یورپ گئے، کیمبرج یونیورسٹی سے فلسفے کی تعلیم حاصل کی، میونخ یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری …
مزید پڑھیں ←
نظم کیا ہے؟
نظم میں ایک مخصوص موضوع پر مسلسل خیالات بیان کیے جاتے ہیں۔ جدید اردو شاعری میں نظم کو خاص اہمیت حاصل ہے۔
محمد اقبال کی مزید
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سن...
حصہ اول: ابتدائی نظمیں
ہمالہ
ایک آرزو
پرندے کی فریاد
ترانۂ ہندی
نیا شوالہ
تصویرِ درد
نانک
و...
ضربِ کلیم شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبالؔ کا شہرۂ آفاق شعری مجموعہ ہے جسے اقبالؔ نے "اعلانِ جنگ بر...
بالِ جبریل علامہ محمد اقبالؒ کا ایک اہم شعری مجموعہ ہے جو 1935ء میں شائع ہوا۔ یہ کتاب اقبال کے فکری ...



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!