نظم
محمد اقبال
پیر، 8 جون 2026
👁 6
❤️ 0
اٹھي پھر آج وہ پورب سے کالي کالي گھٹا
سياہ پوش ہوا پھر پہاڑ سربن کا
نہاں ہوا جو رخ مہر زير دامن ابر
ہوائے سرد بھي آئي سوار توسن ابر
گرج کا شور نہيں ہے ، خموش ہے يہ گھٹا
عجيب مے کدئہ بے خروش ہے يہ گھٹا
چمن ميں حکم نشاط مدام لائي ہے
قبائے گل ميں گہر ٹانکنے کو آئي ہے
جو پھول مہر کي گرمي سے سو چلے تھے ، اٹھے
زميں کي گود ميں جو پڑ کے سو رہے تھے ، اٹھے
ہوا کے زور سے ابھرا، بڑھا، اڑا بادل
اٹھي وہ اور گھٹا، لو! برس پڑا بادل
عجيب خيمہ ہے کہسار کے نہالوں کا
يہيں قيام ہو وادي ميں پھرنے والوں کا
📖 خلاصہ
اقبال نے بادلوں کی روانی، بارش اور قدرتی حسن کو شاعرانہ انداز میں پیش کیا ہے۔
✍️ محمد اقبال — مختصر تعارف
📍 سیالکوٹ (موجودہ پاکستان)
علامہ محمد اقبالؔ اردو اور فارسی ادب کے عظیم شاعر، مفکر، فلسفی اور برصغیر کے ممتاز دانشور تھے۔ آپ 9 نومبر 1877ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم سیالکوٹ میں حاصل کی، بعد ازاں گورنمنٹ کالج لاہور سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی جہاں آپ کو معروف مستشرق اور استاد سر تھامس آرنلڈ کی سرپرستی میسر آئی۔ مزید تعلیم کے لیے یورپ گئے، کیمبرج یونیورسٹی سے فلسفے کی تعلیم حاصل کی، میونخ یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری …
مزید پڑھیں ←
نظم کیا ہے؟
نظم میں ایک مخصوص موضوع پر مسلسل خیالات بیان کیے جاتے ہیں۔ جدید اردو شاعری میں نظم کو خاص اہمیت حاصل ہے۔
محمد اقبال کی مزید
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سن...
حصہ اول: ابتدائی نظمیں
ہمالہ
ایک آرزو
پرندے کی فریاد
ترانۂ ہندی
نیا شوالہ
تصویرِ درد
نانک
و...
ضربِ کلیم شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبالؔ کا شہرۂ آفاق شعری مجموعہ ہے جسے اقبالؔ نے "اعلانِ جنگ بر...
بالِ جبریل علامہ محمد اقبالؒ کا ایک اہم شعری مجموعہ ہے جو 1935ء میں شائع ہوا۔ یہ کتاب اقبال کے فکری ...



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!