افسانچہ
چراغِ آخر
علیم طاہرؔ
ہفتہ، 23 مئی 2026
👁 79
❤️ 1
بوڑھا شاعر اپنی آخری نظم لکھ رہا تھا۔
بیٹے نے پوچھا:
"اب اس عمر میں کیوں لکھتے ہیں؟"
شاعر مسکرایا:
"چراغ جب بجھنے لگتا ہے
تو آخری بار زیادہ روشن ہوتا ہے۔"
اور پھر
وہ خاموش ہوگیا…
مگر اُس کے لفظ زندہ رہے۔
#اردو شاعری
#بوڑھا شاعر
#آخری نظم
#لافانی الفاظ
#اردو کہانیاں
#ادبی تحریریں
#فلسفہ زندگی
#سبق آموز کہانی
#اردو ادب
#موٹیویشنل شاعری
#زندگی اور موت
#چراغ اور روشنی
#جذباتی اردو تحریر
#اقوال زریں
#اردو افسانہ
📖 خلاصہ
یہ کہانی ایک بوڑھے شاعر کے آخری لمحات کی عکاسی کرتی ہے، جو زندگی کے خاتمے پر بھی اپنی آخری نظم لکھ رہا ہے۔ بیٹے کے سوال پر کہ وہ اس عمر میں کیوں لکھ رہے ہیں، شاعر جواب دیتا ہے کہ بجھنے سے پہلے چراغ کی…
علیم طاہرؔ کی مزید تحریریں
ڈاکٹر بشیر بدر: محبت، درد اور تہذیبِ غزل کا روشن باب | شخصیت، شاعری اور ادبی خدمات
ڈاکٹر بشیر بدر: محبت، درد اور تہذیبِ غزل کا روشن باب ایک ایسا شاعر جس کے اشعار ل...
بند کتاب
بوڑھا استاد روز اپنی پرانی کتابیں صاف کرتا تھا۔ بیٹے نے کہا: "اب اِنہیں کون...
آئس کریم
چھوٹا بچہ آئس کریم والے کو حسرت سے دیکھ رہا تھا۔ ایک اجنبی نے اُسے آئس کریم خرید...
سیٹی
فیکٹری کی سیٹی بجتے ہی مزدور دوڑ پڑتے تھے۔ ایک بچہ روز دروازے پر اپنے باپ کا انت...
مزید متعلقہ نثر
تصویر
ماں کئی دنوں سے بیمار تھی۔ بیٹا ہر روز اس کے ساتھ سیلفی لیتا اور سوشل میڈیا پر ل...
دولت
وہ اپنے بچوں کیلئے دولت جمع کرتا رہا۔ بچوں نے بڑے ہوکر اُسے اولڈ ایج ہوم چھوڑ دی...
سایہ
باپ سارا دن مزدوری کرتا اور رات کو تھکا ہارا گھر لوٹتا تھا۔ بیٹا ہمیشہ اُس سے نا...
روٹی
ہوٹل کے باہر ایک بچہ خاموشی سے کھڑا لوگوں کو کھانا کھاتے دیکھ رہا تھا۔ ایک صاحب ...



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!